🌿 استقامت
🌿 استقامت
صبح ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھی۔ کھڑکی کے پردوں سے ہلکی سی روشنی اندر آ رہی تھی، جیسے رات اور دن کے درمیان کوئی نرم سی لکیر کھینچی گئی ہو۔ گھر میں خاموشی تھی، صرف دیوار کی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
وہ چولہے کے پاس کھڑی چائے بنا رہی تھی، مگر اس کے ہاتھ آج کچھ زیادہ آہستہ چل رہے تھے۔ ہر کام جیسے سوچ مانگ رہا ہو۔ بیٹی اسکول کے لیے تیار ہو رہی تھی، اور گھر کا سارا نظم اب اسی کے کندھوں پر تھا۔
کچھ مہینے پہلے یہ گھر ایسا نہیں تھا۔
اس گھر میں ایک آواز تھی، جو صبح ہوتے ہی کہتی تھی:
“جلدی اٹھو… وقت ہو گیا ہے”
اور ایک موجودگی تھی جو ہر چیز کو آسان بنا دیتی تھی، چاہے دن کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو۔
اب وہ آواز نہیں تھی۔
صرف یاد رہ گئی تھی۔
وہ چائے کا کپ لے کر بیٹھ گئی۔ سامنے دیوار پر ٹنگی گھڑی اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وقت گزر نہیں رہا، بس چل رہا ہے۔
دل کے اندر اچانک ایک لہری سی اٹھی۔
وہی پرانی باتیں، وہی آخری دن، وہی جملہ:
“سو جاؤ… صبح اسکول جانا ہے”
اس نے آنکھیں بند کیں۔ کچھ دیر کو لگا جیسے سانس رک جائے گی۔
مگر پھر کہیں اندر سے ایک ہلکی سی آواز اٹھی—نہ باہر کی، نہ کسی اور کی—بس دل کے اندر کی:
“رکنا نہیں ہے”
وہ چونک گئی۔
یہ آواز کسی نے نہیں دی تھی، یہ اس کے اندر سے خود اٹھی تھی۔ جیسے وقت نے خاموشی سے اسے سکھانا شروع کر دیا ہو کہ درد کے باوجود چلنا ہی زندگی ہے۔
بیٹی نے آواز دی:
“امی میں تیار ہوں”
وہ اٹھ گئی۔
آہستہ آہستہ، مگر اٹھ گئی۔
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے چہرے کو دیکھا۔ آنکھوں میں نمی تھی، مگر چہرہ ٹوٹا نہیں تھا۔ وہی چہرہ تھا جو اب نئی ذمہ داریوں کے ساتھ جینا سیکھ رہا تھا۔
اسے اچانک احساس ہوا…
استقامت کوئی بڑی چیخ نہیں ہوتی، نہ ہی کوئی لمبا اعلان۔
یہ تو بس روز کے چھوٹے چھوٹے قدم ہوتے ہیں—کبھی چائے بنانا، کبھی بچے کو اسکول بھیجنا، کبھی آنسو چھپا کر بھی مسکرا دینا۔
اور یہی سب سے بڑی عبادت تھی شاید۔
دروازے کے باہر ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ وہ بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکلی تو سورج پوری طرح نکل آیا تھا۔
آسمان روشن تھا، مگر اس کے دل میں ابھی بھی ایک نرم سا درد موجود تھا۔
مگر اب وہ درد اسے توڑ نہیں رہا تھا—بس اس کے ساتھ چل رہا تھا۔
اور وہ پہلی بار سمجھ رہی تھی کہ
استقامت کا مطلب درد ختم ہونا نہیں…
بلکہ درد کے ساتھ بھی چلتے رہنا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں