: **بساط کے آخری مہرے**

 

: **بساط کے آخری مہرے**

: **بساط کے آخری مہرے**

**لاہور، 13 مئی 2026**

رات کے ڈھائی بج رہے تھے، لیکن عدیل کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔ اس کے سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ارجنٹائن کے ساحل سے دور، سمندر کے بیچوں بیچ پھنسے ہوئے کروز شپ 'ایم وی ہونڈیئس' کی دھندلی سی ویڈیو چل رہی تھی۔ جہاز کے ڈیک پر موجود مسافروں کی چیخیں تو سنائی نہیں دے رہی تھیں، لیکن ان کے لڑکھڑاتے قدم اور ایک دوسرے کی طرف بے مقصد لپکنا عدیل کے جسم میں سنسنی دوڑا رہا تھا۔

"بالکل وہی منظر..." وہ بڑبڑایا۔ "ٹرین ٹو بوسن کا وہ پہلا ہرن... بس اب یہ ایک جہاز ہے۔"

عدیل ایک فری لانس صحافی تھا جس نے 2021 میں 'زومبی وائرس اور عالمی بساط' کے نام سے ایک کالم لکھا تھا۔ اس وقت لوگوں نے اسے ایک فلمی دیوانے کی بڑ قرار دیا تھا، لیکن آج جب دنیا اسے 'ہنٹا وائرس' کا نیا ورژن کہہ رہی تھی، عدیل جانتا تھا کہ یہ صرف ایک پردہ ہے۔

اس کی نظریں میز پر رکھی کالی بوتل پر پڑیں، جس کا لیبل ایک حالیہ اربوں ڈالر کے عالمی گٹھ جوڑ کی گواہی دے رہا تھا۔ اس نے ایک جھرجھری لی اور اسے اٹھا کر سنک میں بہا دیا۔ کالی رنگت والا وہ مائع اسے اب مشروب نہیں، بلکہ ایک 'بائیوکیمیکل ریسیور' لگ رہا تھا جو انسانی رگوں میں بارود کی طرح بچھایا جا رہا تھا تاکہ مخصوص لہروں پر انسانی اعصاب کا ریموٹ کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

اچانک اس کے فون کی سکرین روشن ہوئی۔ ایک گمنام نمبر سے میسج تھا:

*"آبنائے ہرمز کلیئر کر دیا گیا ہے۔ پہلا سگنل ریلیز ہو چکا ہے۔ مچھلیاں جال میں ہیں۔"*

عدیل کا دل ڈوبنے لگا۔ اسے یاد آیا کہ ٹیکنالوجی کے نام پر ہونے والے وہ حالیہ معاہدے محض سافٹ ویئر کے نہیں تھے۔ وہ تو انسانی جسم کے قلعے میں داخل ہونے کا چور راستہ تھے۔ سمندر، جو عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، اب 'تیرتی ہوئی لیبارٹریوں' میں تبدیل ہو چکے تھے۔ ہرمز کا راستہ بند ہونے کا مطلب تھا عالمی توانائی کی موت، اور اس موت کا فائدہ صرف ان کو ہونا تھا جو اس بساط کے پیچھے بیٹھے مہرے ہلا رہے تھے۔

وہ بالکونی میں آیا۔ لاہور کی سڑکیں خاموش تھیں، لیکن اس خاموشی میں ایک عجیب سی مقناطیسی بھنبھناہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ اسے دور سے کسی کے تیز دوڑنے اور پھر ایک غیر انسانی چیخ کی آواز آئی۔ اس نے نیچے دیکھا، گلی کے نکڑ پر ایک شخص عجیب سی ہیئت میں جھکا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ بے جان لٹک رہے تھے، لیکن گردن ایک غیر فطری زاویے پر مڑی ہوئی تھی، جیسے وہ فضا میں کسی نادیدہ سگنل کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔

"2028 کی ٹائم لائن قریب آ گئی ہے،" عدیل نے سوچا۔ "انہوں نے آزمائشی مرحلہ پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔"

اس نے اپنے کمرے میں جا کر جلدی سے بیگ تیار کیا۔ اس میں پانی کی بوتلیں، کھجوریں اور ایک پرانی سائیکل کی چابی تھی۔ پٹرول پر انحصار ختم ہونے والا تھا، پہیہ جام ہونے کو تھا، اور وہ جانتا تھا کہ اب صرف وہی بچے گا جو فطرت کے قریب اور ان مصنوعی زنجیروں سے آزاد ہوگا۔

اس نے آخری بار اپنے کالم کا وہ جملہ پڑھا جو اس نے پانچ سال پہلے لکھا تھا: *"ہمیں ایک ایسی دنیا کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں توکل کو توڑ کر لوگوں کو زومبی بنایا جائے گا۔"*

باہر فضا میں ایک پراسرار نیلی روشنی لہرائی۔ گلی میں موجود وہ شخص اب ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا اور اس کی پتھرائی ہوئی سفید آنکھیں، جن میں اب کوئی انسانی عکس نہ تھا، سیدھی عدیل کی بالکونی کی طرف اٹھی تھیں۔

عدیل نے لیپ ٹاپ بند کیا، اپنا ہاتھ مضبوطی سے سیڑھیوں کے جنگلے پر جمایا اور نیچے کی طرف بڑھا۔ بساط کے آخری مہرے چل دیے گئے تھے، اور اب مقابلہ صرف ایک وائرس سے نہیں، بلکہ اس عظیم فتنے سے تھا جو شعور چھین کر انسان کو ایک گوشت کے لوتھڑے میں بدلنا چاہتا تھا۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز