میراثِ تمنا

میراثِ تمنا

 میراثِ تمنا


شہر کی بلند و بالا عمارت کے چالیسویں فلور پر بنے اس عالیشان دفتر میں خاموشی کا راج تھا، صرف اس مدھم سی آواز کے ساتھ جو مہنگے کافی میکر سے نکل رہی تھی۔ فواد نے ہاتھ میں پکڑا سنہرا قلم میز پر رکھا اور سامنے پھیلے ہوئے شہر کو دیکھنے لگا۔ اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کا خواب اس نے بیس سال پہلے ایک تنگ گلی کے بوسیدہ مکان میں دیکھا تھا۔ کامیابی، شہرت، اختیار اور بے حساب دولت۔ مگر اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو ایک فاتح کی ہونی چاہیے۔


اس کے سامنے میز پر ایک پرانی ڈائری کھلی تھی، جس کے زرد کاغذ پر اس کے باپ نے مرنے سے پہلے ایک آیت لکھی تھی:

اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْہُدٰی

(یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی)

آج فواد کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، مگر دل خالی تھا۔ اسے لگا جیسے اس نے زندگی کے بہترین سال ایک ایسی دوڑ میں کھو دیے ہوں جس کا اختتام صرف تھکن تھا۔

وہ سوچنے لگا کہ اس نے کتنی بار ضمیر کی آواز کو دبا کر “ترقی” کے نام پر وہ راستے اختیار کیے جن پر دل اندر سے خاموش احتجاج کرتا رہا۔

اسی بے چینی میں اس نے اچانک فیصلہ کیا۔ وہ اٹھا، فائلیں بند کیں اور نیچے شہر کی طرف چل پڑا، اس حصے کی طرف جہاں اس کی کامیابی کا سایہ بھی کبھی نہیں پہنچا تھا۔

اگلی صبح ایک کچی بستی نے عجیب منظر دیکھا۔ فواد، جو کبھی بلٹ پروف گاڑی کے بغیر نہیں نکلتا تھا، آج سادہ گاڑی میں اکیلا آیا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں کوئی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ ایک نیا ارادہ تھا۔

اس نے اسکول کی مرمت کا حکم دیا، بیواؤں کے لیے وظیفے مقرر کیے، اور ایک بوڑھے مزدور کے سامنے جھک کر اس کے ہاتھ کو تھاما جس کے پاس دوا کے پیسے نہیں تھے۔

جیسے جیسے وہ اپنی دولت لوگوں کی ضرورتوں میں بدل رہا تھا، اس کے چہرے سے ایک عجیب سا بوجھ اترتا جا رہا تھا۔ جو چیز اکاؤنٹ میں ہو تو بوجھ لگتی ہے، وہی کسی کے گھر میں امید بن جائے تو سکون بن جاتی ہے۔

اسی وقت بستی کی چھوٹی سی مسجد سے ظہر کی اذان بلند ہوئی۔ فواد کے قدم خود بخود اس طرف بڑھ گئے۔

اس نے وضو کیا۔ ٹھنڈے پانی نے جیسے اندر کی دھول دھو دی ہو۔ پھر وہ کچے فرش پر صف کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

جب امام نے اللہ اکبر کہا تو اسے لگا جیسے دنیا کا شور پیچھے رہ گیا ہو۔

سجدے میں جاتے ہی اس کا دل ٹوٹ کر بہہ نکلا۔ آنکھوں سے آنسو زمین پر گر رہے تھے۔

وہ جو کل تک فیصلے کرتا تھا، آج صرف ایک بات کہہ رہا تھا۔

یا اللہ، میں راستہ بھول گیا تھا۔ میں نے ہدایت کے بدلے دنیا کو چن لیا تھا۔ مجھے واپس بلا لے۔

اس سجدے میں اسے وہ سکون ملا جو چالیس منزلہ عمارت میں بھی نہیں ملا تھا۔

اب فواد کے پاس صرف دولت نہیں تھی، بلکہ ایک سمت بھی تھی۔ اور شاید یہی اصل کامیابی تھی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز