میراثِ حکمت

میراثِ حکمت

میراثِ حکمت



زرد شام کی اداس روشنی کمرے کے روزن سے چھن کر زینب کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جہاں ماضی اور حال کے کئی عکس آپس میں گتھم گتھا تھے۔ زینب، جس کے کالموں اور کونسلنگ کے چرچے دور دور تک تھے، آج خود ایک سوالیہ نشان بنی بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے قرآنِ پاک کھلا تھا اور سورہ مریم کی وہ آیت اس کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی: **"وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا"**۔

اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔ یادوں کے بکھرے ہوئے لمحے کسی پرانے البم کی طرح اس کے سامنے وا ہو گئے۔ اس نے تخیل کے ہاتھوں سے دو چار لمحے چنے، انہیں ہتھیلی پر سجایا اور پھر اس آیت کے سامنے رکھ کر موازنہ کرنے لگی۔

اس کے لبوں پر ایک مسرور کردینے والی مسکراہٹ ابھری۔ ایک بار، دو بار، تین بار... وہ بار بار اس جملے کو زبان کی نوک پر رکھ کر دہرانے لگی۔ "بچپن میں دانائی مل جانا... کس قدر حسین اور خوبصورت احساس ہے!"

"زینب! کہاں کھو گئی ہو؟"

اس کی ماں، کلثوم بیگم کی دھیمی آواز نے اسے حال میں واپس لایا۔ وہ کمرے میں داخل ہو رہی تھیں، ان کے ہاتھ میں وہی پرانی اون اور سلائیاں تھیں جنہیں وہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتی تھیں۔

زینب نے اپنی ماں کے تھکے ہوئے مگر پرنور چہرے کو دیکھا۔ اسے وہ کہانی یاد آئی جو اس کے خاندان میں ایک لیجنڈ کی طرح مشہور تھی کہ زینب کی پیدائش والے دن، جب درد کی لہریں کلثوم بیگم کے وجود کو جھنجھوڑ رہی تھیں، تب بھی وہ ایک غریب پڑوسی کے بچے کے لیے سویٹر بن رہی تھیں۔

"امی، لوگ کہتے ہیں کہ میں بہت عقل مند ہوں، میری باتیں تاثیر رکھتی ہیں۔ میں بھی اسے اپنا کمال سمجھتی تھی،" زینب کا لہجہ رندھ گیا، "پر آج معلوم ہوا کہ یہ دانائی تو مجھے آپ کی کوکھ سے وراثت میں ملی ہے۔ آپ کا وہ دوسروں کی مدد کا جذبہ، وہ نیکی جو آپ نے میرے وجود کی تشکیل کے وقت کی تھی، وہ آج مجھ میں بولتی ہے۔"

کلثوم بیگم کے لبوں پر ایک سادہ سی مسکراہٹ آئی۔ "بیٹا، یہ میرا کمال نہیں، یہ تمہاری نانو کی دعاؤں کا فیض ہے۔"

زینب کی آنکھوں میں نانی اماں کا چہرہ گھوم گیا۔ وہ سفید موتیوں والی تسبیح، جس پر استغفار کے دانوں کی گردش کبھی نہیں رکتی تھی۔ نانی اماں، جو ہر مسئلے کا حل کسی بحث یا منطق میں نہیں، بلکہ اپنے رب کے سامنے جھکنے میں ڈھونڈتی تھیں۔ زینب کو احساس ہوا کہ زکریا علیہ السلام کو یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں جو معجزہ ملا، اس کے پیچھے ان کی محراب میں کی جانے والی وہ طویل عبادتیں تھیں جو انہوں نے بانجھ پن کی ناامیدی کے باوجود جاری رکھی تھیں۔

"آج کی مائیں کہتی ہیں کہ بچے نیک ہو جائیں،" زینب نے کرب سے سوچا، "مگر وہ زکریا علیہ السلام جیسی محرابیں کہاں سے لائیں؟ وہ تو اپنا قیمتی وقت موبائل کی سکرین پر سکرولنگ کی نذر کر کے یہ سنہری موقع گنوا دیتی ہیں۔"

اس نے پھر قرآن کی طرف دیکھا، جہاں اگلی آیت پکار رہی تھی: **"خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ"** (کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لو)۔

"مضبوطی سے پکڑنا..." اس نے ان الفاظ کے وزن کو محسوس کیا۔ "امی، اس کا مطلب صرف تلاوت کرنا نہیں ہے نا؟"

کلثوم بیگم نے سلائی روک کر اسے دیکھا۔ "نہیں۔ اس کا مطلب ہے اس کے اخلاق کو اپنے اندر اتار لینا۔ جھوٹ نہ بولنا، کسی کی ٹوہ میں نہ لگنا، سخت بات سے پرہیز کرنا، اور والدین کی خدمت کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھنا۔ یہی وہ پرسنالٹی گرومنگ ہے جس کے لیے دنیا آج مہنگے کورسز کرتی ہے، جبکہ یہ سب تو اس ایک کتاب میں موجود ہے۔"

زینب نے ایک لمبا سانس لیا۔ اسے اپنی مستقل مزاجی پر فخر محسوس ہوا، مگر ساتھ ہی یہ ڈر بھی لگا کہ کہیں یہ جوش عارضی نہ ہو۔ "بس اسے مستقل مزاجی سے تھامے رکھنا ہے،" اس نے خود کلامی کی۔ "یہ نہ ہو کہ آج چستی ہو اور کل سستی۔ علم کا بوجھ گدھے کی طرح لادنے سے بہتر ہے کہ ایک حرف سیکھا جائے مگر اسے کردار کا حصہ بنا لیا جائے۔"

شام ڈھل چکی تھی اور اندھیرا گہرا ہو رہا تھا، مگر زینب کے دل میں ایک انوکھی روشنی بھر گئی تھی۔ اس نے اپنے بکھرے ہوئے لمحوں کو سمیٹا، اپنی نانی کی وہ سفید تسبیح ہاتھ میں لی اور ایک نئے عزم کے ساتھ "کتاب" کو اپنی روح کے ہاتھوں سے مضبوطی سے تھام لیا۔

اسے یقین تھا کہ خیر کی یہ زنجیر، جو اس کی نانی سے اس کی ماں اور پھر اس تک پہنچی تھی، اب کبھی نہیں ٹوٹے

 گی۔ ان شاء اللہ۔

میراثِ حکمت


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز