افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی

 

افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی

افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی


گھر کے صحن میں آج بھی وہی پرانی لکڑی کی کرسی رکھی تھی، جس پر بیٹھ کر امی ہمیں بارش اور بجلی کے وقت سنبھال لیا کرتی تھیں۔ آسمان پر اگر بادل گرجتے تو پورا گھر جیسے ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جاتا۔


بچپن تھا، اور بچپن میں ڈر بھی سچ لگتا ہے اور کہانیاں بھی حقیقت۔


“جلدی! حضرت بابا فرید شکر گنج کا نام لو… بجلی ڈرتی ہے!”


امی کی آواز کے ساتھ ہم سب بہن بھائی ایک دائرے میں کھڑے ہو جاتے۔ جیسے الفاظ نہیں، کوئی حفاظتی حصار بنا رہے ہوں۔ ہر چمک کے ساتھ آواز بلند ہوتی جاتی، اور ہر گرج کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی۔


“بابا فرید شکر گنج… بابا فرید شکر گنج…”


ہمیں لگتا تھا جیسے آسمان کی آگ کسی نام سے تھم جائے گی۔ جیسے بجلی سن لے گی اور راستہ بدل لے گی۔


وقت گزرتا گیا، مگر کچھ باتیں وقت سے نہیں بدلتی تھیں۔ وہی ڈر، وہی عادتیں، وہی سرگوشیاں۔


پھر زندگی نے ایک نیا دروازہ کھولا۔ کتابیں، مطالعہ، اور قرآن کا ترجمہ…


اور پہلی بار دل نے وہ سوال کیا جو بچپن میں کبھی نہ اٹھا تھا:

کیا حفاظت الفاظ میں ہے… یا اللہ کے حکم میں؟


ایک شام آسمان پھر سیاہ ہوا۔ بادل گرجے۔ بجلی کڑکی۔


مگر اس بار منظر مختلف تھا۔


گھر کی کھڑکی کے پاس کھڑی وہ اب خاموش تھی۔ دل میں پرانی آوازیں اٹھیں، مگر زبان کسی اور ہی ذکر میں مصروف تھی۔ وہی الفاظ جو نبی ﷺ سے سنے گئے، وہی دعا جو دل کو باندھ لیتی ہے:


“اللّٰهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ”


ہر چمک کے ساتھ خوف کم ہوتا جا رہا تھا، اور یقین بڑھتا جا رہا تھا۔


اسی لمحے آنکھیں قرآن کی اس آیت پر ٹھہر گئیں:


“وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ”


دل جیسے کسی بہت بڑے بوجھ سے آزاد ہو گیا ہو۔


تو کیا بجلی کسی نام سے ڈرتی تھی؟

یا ہم اپنے ہی خوف کو نام دے کر محفوظ محسوس کرتے تھے؟


وقت نے سکھا دیا تھا کہ آسمان کی ہر آواز، ہر چمک، ہر گرج… کسی بزرگ کے نام سے نہیں رُکتی۔ وہ تو صرف اپنے رب کے حکم سے چلتی ہے۔


اب گھر میں بچے تھے، مگر کہانیاں بدل چکی تھیں۔


اب بجلی چمکتی تو کوئی نام نہیں لیا جاتا تھا…

بس ہاتھ اٹھتے تھے۔


اور زبان پر ایک ہی یقین ہوتا تھا…

کہ حفاظت صرف اسی کے پاس ہے جو آسمان اور زمین کا مالک ہے۔


اور یوں ایک پرانی روایت آہستہ آہستہ مٹ گئی…

اور اس کی جگہ ایک سادہ مگر مضبوط یقین نے لے لی۔


وہ یقین… جو خوف نہیں، دعا سکھاتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز