پہلے عمرے
جب میں پہلے عمرے کیلئے مسجد الحرام پہنچی تو میرے داماد اور بیٹی نے مجھے دائیں بائیں سے پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا: “امی! آنکھیں بند کر کے چلیں… اور جیسے ہی ہم کہیں کہ آپ خانہ کعبہ کے سامنے ہیں تو فوراً اپنی دعائیں مانگ لیجیے گا۔” میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترتی ہوئی چل رہی تھی۔ دل عجیب کیفیت میں تھا۔ پھر اچانک دونوں بچوں نے کہا: “امی… اب آنکھیں کھولیں۔ آپ خانہ کعبہ کے بالکل سامنے ہیں…” جونہی میں نے آنکھیں کھولیں اور پہلی نظر خانہ کعبہ پر پڑی… نہ کوئی دعا یاد رہی… نہ کوئی ہوش باقی رہا… یہ سیاہ غلافِ کعبہ کی ہیبت تھی یا ربِ کعبہ کا جلال… دل کی دنیا تہ و بالا ہوگئی۔ میں جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ دماغ کہیں تھا، دل کہیں اور… بعد میں میں لوگوں سے پوچھتی تھی: “کیا آپ کو پہلی نظر میں دعائیں مانگنی یاد رہی تھیں؟” کیونکہ مجھے تو کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا۔ بچوں نے مجھے ہلایا: “امی… دعا مانگیں…” تب میرے منہ سے پہلا لفظ نکلا: “سبحان اللہ…” اور پھر بے اختیار کہا: “اللہ… میں تو اس قابل نہیں تھی۔ آپ کتنے مہربان ہیں…” آج میں اس اللہ کے گھر کے سامنے کھڑی تھی… اس رب کے گھر… جسے ہم ہر دکھ، ہر خوشی، ہر پریشانی اور ہر ...