افسانہ: “جب اسکرین ٹوٹ گئی”
افسانہ: “جب اسکرین ٹوٹ گئی”
شہر کی صبحیں عام طور پر شور سے شروع ہوتی ہیں، مگر اس شہر میں ایک اور شور بھی تھا—اسکرینوں کا شور۔ ہر ہاتھ میں موبائل، ہر آنکھ میں روشنی، اور ہر دل میں ایک ہی خواہش: نظر آ جاؤں، پہچان بن جاؤں، وائرل ہو جاؤں۔
اس شہر میں ایک لڑکا تھا—حماد۔ نہ بہت پڑھا لکھا، نہ بالکل جاہل۔ بس ایک عام سا لڑکا جس کے اندر ایک غیر معمولی خواہش پلنے لگی تھی: “مجھے بھی لوگ جانیں گے…”
یہ جملہ اس کے دل میں پہلی بار اُس دن آیا تھا جب اس کی ایک چھوٹی سی ویڈیو پر چند ہزار ویوز آئے تھے۔ وہ لمحہ اس کے لیے ایسے تھا جیسے کسی نے اندھیرے کمرے میں اچانک روشنی کر دی ہو۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ہر روشنی رہنمائی نہیں ہوتی، کچھ روشنی صرف جلانے کے لیے بھی ہوتی ہے۔
حماد کی ماں اسے اکثر سمجھاتی تھی: “بیٹا، نام سے زیادہ کام اچھا ہونا چاہیے…”
مگر وہ مسکرا کر ٹال دیتا۔ باپ خاموش تھا۔ بس کبھی کبھی اخبار رکھتے ہوئے ایک آہ بھری نگاہ بیٹے پر ڈال دیتا، جیسے وہ کچھ دیکھ رہا ہو جو آنے والا ہے مگر روک نہیں سکتا۔
شروع میں سب سادہ تھا۔ مزاحیہ ویڈیوز، دوستوں کے ساتھ مذاق، ہلکی پھلکی شہرت۔ پھر آہستہ آہستہ الگ راستے کھلنے لگے۔ “اگر تم یہ کرو گے تو زیادہ لوگ دیکھیں گے…” “اگر تم تھوڑا سا تیز ہو جاؤ تو فالوورز بڑھ جائیں گے…” “اگر تم حدود توڑ دو تو تمہیں کوئی نہیں روک سکے گا…”
اور حماد نے وہی کیا جو آج کا کمزور دل اکثر کرتا ہے—اس نے روکنے والی آوازوں کو کمزور سمجھا اور شہرت کو طاقت۔
اس کی زندگی بدل گئی۔ لباس بدل گیا، لہجہ بدل گیا، دوست بدل گئے۔ گھر میں وہ کم اور فون میں زیادہ رہنے لگا۔ راتیں جاگنے میں بدل گئیں اور دن “کانٹینٹ” بنانے میں۔ اب وہ صرف انسان نہیں رہا تھا، وہ ایک “برانڈ” بننا چاہتا تھا۔ اور برانڈز کے دل نہیں ہوتے، صرف مارکیٹ ہوتی ہے۔
اسی شہر میں ایک لڑکی تھی—زینب۔ وہ زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔ اس کا یقین تھا کہ انسان کی پہچان اس کی پوسٹ نہیں، اس کا کردار ہوتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتی تھی، مگر اس کا استعمال اسے استعمال نہیں کرتا تھا۔ اس کی دنیا چھوٹی تھی مگر صاف تھی۔
ایک دن دونوں کی دنیا ایک ہی اسکرین پر آ گئی۔ ایک غلط فہمی، ایک تیز لفظ، اور ایک انا۔ بس اتنا سا آغاز تھا۔ مگر جب انا بولتی ہے تو عقل اکثر خاموش ہو جاتی ہے۔
پھر وہی ہوا جو اکثر ایسے راستوں پر ہوتا ہے۔ بات بڑھی، لہجہ سخت ہوا، اور پھر وہ لمحہ آیا جس کے بعد واپسی نہیں ہوتی۔
اس رات شہر کی ہوا عام تھی، مگر ایک گھر کی دیواریں ٹوٹ چکی تھیں۔ چیخیں نہیں تھیں، بس خاموشی تھی۔ اور خاموشی بعض اوقات چیخوں سے زیادہ بھاری ہوتی ہے۔
دن گزرتے رہے۔ سوال جواب، تفتیش، اور فیصلے۔ حماد اب اس اسکرین سے باہر تھا جہاں وہ کبھی ستارہ تھا۔ اب اس کے سامنے کیمرے نہیں تھے، صرف حقیقت تھی۔ اور حقیقت ہمیشہ فلٹر نہیں مانگتی۔
جب فیصلہ سنایا گیا تو کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، کیونکہ بعض فیصلے خوشی نہیں دیتے، صرف انجام دکھاتے ہیں۔
حماد کے ذہن میں بس ایک بات بار بار آ رہی تھی: “اگر میں نے اسکرین کے پیچھے کی دنیا کو حقیقی نہ سمجھا ہوتا…”
مگر وقت واپس نہیں آتا۔
اس دنیا میں مسئلہ موبائل نہیں، مسئلہ انسان کا وہ دل ہے جو جلدی شہرت کو کامیابی سمجھ لیتا ہے۔ سوشل میڈیا ایک آلہ ہے، مگر جب آلہ مقصد بن جائے تو راستے بدل جاتے ہیں۔
اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے: نام وہ نہیں جو اسکرین پر چمکے، نام وہ ہے جو دعا میں یاد رکھا جائے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں