اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے

  افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے قسط اول "ہر انسان کی زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت نہیں، اللہ کی حکمت بھرتی ہے۔" رات کے آخری پہر کا سناٹا ہمیشہ اسے اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ گھر کے تمام کمرے خاموش تھے، مگر اس کے دل میں ایک ہجوم آباد تھا۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اسے یوں محسوس ہوتی جیسے وقت اس کے زخم گن رہا ہو۔ کھڑکی سے باہر آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ کہیں دور بجلی چمکی، مگر بارش نہ ہوئی۔ بالکل اس کی زندگی کی طرح... شور بہت تھا، سکون کہیں نہیں تھا۔ زینب نے آہستہ سے الماری کھولی۔ اوپر والی شیلف پر رکھا قرآن مجید احتیاط سے اٹھایا، اسے چوما اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آج اس کا ارادہ صرف تلاوت کا نہیں تھا۔ وہ جواب ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر کچھ لوگ زندگی بھر صرف آزمائشیں ہی کیوں دیکھتے ہیں؟ وہ برسوں سے یہ سوال اپنے رب سے کرتی آ رہی تھی۔ "یا اللہ! کیا ہر درد میرے ہی حصے میں لکھا تھا؟" جواب کبھی آواز میں نہیں آیا، مگر قرآن ہر بار کچھ نہ کچھ ضرور کہہ دیتا تھا۔ اس نے سورۂ یوسف کھولی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ وہ یہ سورت پڑھ رہی تھی۔ شاید پچاسویں یا سویں ...

افسانہ: میری نماز

افسانہ: میری نماز مغرب کی اذان کی آواز فضا میں پھیل رہی تھی۔ آسمان پر شام کی سرخی آہستہ آہستہ نیلگوں اندھیرے میں ڈھل رہی تھی۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے اور ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے برعکس مریم کے اندر ایک شور برپا تھا۔ وہ ابھی ابھی واک کرکے گھر واپس آئی تھی۔ عام دنوں میں واک کے بعد وہ خود کو ہلکا، تازہ دم اور پُرسکون محسوس کرتی تھی، لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ جسم میں تھکن نہیں تھی، مگر دل جیسے بے جان ہو گیا تھا۔ ذہن کسی کام میں لگنے کو تیار نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر کی ساری توانائی کسی نے اچانک کھینچ لی ہو۔ اذان ختم ہو چکی تھی۔ گھر میں ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی خاموشی سے وقت بتا رہی تھی۔ صحن میں رکھا گملوں کا پودا ہلکی ہوا میں جھول رہا تھا، مگر مریم کی نگاہیں ان سب چیزوں سے بے نیاز تھیں۔ "اٹھو... مغرب کا وقت ہو گیا ہے۔" اس نے خود ہی اپنے آپ سے کہا، مگر دل نے جواب دیا: "آج نہیں... ابھی نہیں... تھوڑی دیر بعد..." وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے محسوس کیا کہ اگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی تو وقت نکل جائے گا...

Kahaf ka ghar

تصویر
  کہف — ایک ایسا غار جو پہاڑوں میں نہیں، انسان کے اندر ہوتا ہے جمعہ کی اذان میں ایک عجیب کشش ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہفتے بھر کی گرد آسمان سے نہیں، انسان کے دل سے جھڑ رہی ہو۔ صبح کی ہوا میں ایک نرمی، روشنی میں ایک لطافت اور وقت میں ایک عجیب سی برکت محسوس ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے جمعہ کی صبح میرے لیے صرف ایک دن کا آغاز نہیں، بلکہ اپنے اندر واپس لوٹنے کا سفر ہوتی ہے۔ اس روز دنیا کی آوازیں دھیمی لگنے لگتی ہیں اور قرآن کی آواز دل کے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے۔ میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کی کہانیاں سنی ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں جدائی تھی، کسی کی آواز میں خوف، کسی کے لہجے میں برسوں کی تھکن، اور کسی کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ جو صرف دوسروں کے لیے تھی، اپنے لیے نہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ آخر انسان اتنا تھک کیوں جاتا ہے؟ آخر کون سا بوجھ ہے جو کندھوں پر نہیں، دل پر رکھا جاتا ہے؟ پھر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ انسان کو جسمانی محنت اتنا نہیں تھکاتی، جتنا روح کی مسلسل جنگ تھکا دیتی ہے۔ جب ہر روز کسی کی تلخ بات برداشت کرنی پڑے... جب ہر لمحہ اپنے وجود کو ثابت کرنا پڑے... جب ہر تعلق میں خود ک...