ناول: 21 کنکر
ناول: 21 کنکر
مصنفہ: روبینہ شاہین
قسط نمبر 1: نیت کا پہلا کنکر
کھڑکی سے چھن کر آنے والی چاندنی نے کمرے کے فرش پر ایک مدہم سی لکیر کھینچ رکھی تھی۔ رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا اور فضا میں ایک عجیب سا، سحر انگیز سکون پھیلا ہوا تھا۔ ذوالحجہ کا چاند نمودار ہوئے کچھ ہی گھنٹے گزرے تھے—نیا چاند، جو اپنے ساتھ ہجری سال کے آخری اور بابرکت ترین مہینے کا پیغام لایا تھا۔
صائمہ نے بستر پر کروٹ بدلی۔ دن بھر کی تھکن، گھر کے الجھے ہوئے حالات، اور سب سے بڑھ کر وہ اندرونی تنہائی جس کا کوئی مداوا نہیں دکھتا تھا، اس کے اعصاب پر سوار تھی۔ وہ زندگی کی اس لایعنی دوڑ، سوشل میڈیا کی سکرین پر تیرتے فتنوں کی چکا چوند، اور نام و نمود کی ہوس سے اندر سے شدید خالی پن کا شکار ہو چکی تھی۔ اس کے سب سے پیارے، اس کے قریبی رشتے اس کی اسی بے حسی کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس سے دور ہو رہے تھے۔ دل تو جیسے مٹی کا وہ برتن بن چکا تھا جس میں دنیا بھر کے شکوے، فکریں اور اداسیاں آ کر جمع ہو گئی تھیں۔
اس نے تکیے کے پاس رکھا فون اٹھایا۔ کسی مخلص دوست کا بھیجا ہوا ایک پیغام سکرین پر چمک رہا تھا:
> "ذی الحجہ کا چاند نظر آ چکا ہے۔ یہ اسلامک سال کا آخری مہینہ ہے، اس شروع کے نو دن ہم نے قیمتی بنا لیے تو ہماری لاٹری نکل آنی ہے۔ اس لیے اگر ہم تہجد کو پالیں یا کم از کم تہجد کے وقت دعاؤں کو ممکن بنا لیں تو بہت اچھا ہوگا۔ سوچیں، اگر ہم اس وقت حج پر ہوتے تو کیا کر رہے ہوتے؟ یقیناً عبادت۔ تو کیوں نہ حج پر جانے کی پریکٹس کے طور پر خود کو عبادتوں میں لگائیں؟ خوب خوب دعاؤں کا، استغفار کا، تہجد کا اہتمام ہو تاکہ بخت جب ہمیں کعبہ لے جائے تو ہماری پہلے سے پریکٹس ہو۔"
"پریکٹس... بخت... بخت بدلنے کا مہینہ،" صائمہ نے تلخی سے سوچا۔ جب دل اندر سے اتنا بکھرا ہوا ہو، تو جائے نماز پر کھڑے ہونے کی سکت بھی کہاں رہتی ہے؟ اس نے کمبل دوبارہ منہ پر تان لیا۔ وہ خود کو کسی مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔
لیکن نیند تو جیسے اس کی آنکھوں سے روٹھ چکی تھی۔ اندھیرے میں بند آنکھوں کے پیچھے ایک اور متوازی دنیا سانس لے رہی تھی۔
ہزاروں سال پیچھے، مکے کی تپتی ہوئی، سنسان اور بے آب و گیاہ وادی میں ایک ماں—بی بی ہاجرہ—اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ اکیلی کھڑی تھیں۔ وہاں کوئی سکرین نہیں تھی، کوئی مادی آسائش نہیں تھی، بس ریت کا سمندر اور پہاڑوں کا سکوت تھا۔ لیکن ان کا اندر شکر اور توکل کی اس دولت سے مالا مال تھا جس کی تپش کائنات کا ردم بدلنے والی تھی۔ جب ان کے شوہر، حضرت ابراہیم علیہ السلام، انہیں اس وادی میں چھوڑ کر جانے لگے، تو انہوں نے اندھی شدت یا غصے سے سوال نہیں کیا تھا، بلکہ بیدار بصیرت اور لازوال شکر کے ساتھ پوچھا تھا: "کیا یہ میرے رب کا حکم ہے؟" اور جواب 'ہاں' میں پا کر اپنے وجود کو اس واحد اور لاشریک رب کے سپرد کر دیا تھا۔
صائمہ کے اندر جیسے ایک بجلی سی کوندی۔ ایک طرف وہ عظیم ماں تھی جو تپتی ریت پر صبر اور شکر کا ایسا نقش چھوڑ رہی تھی جو قیامت تک کے لیے انسان کا شعوری سفر بننے والا تھا، اور دوسری طرف وہ خود تھی، جو ہر مادی نعمت کے باوجود ناشکری کے دلدل میں ڈوب رہی تھی۔
"کیا خدا صرف مکے میں سنتا ہے؟" صائمہ نے خود سے پوچھا۔ "اگر مجھے کبھی حرم پاک کے سامنے کھڑے ہونا ہے، تو اس کی تیاری، اس کی نیت مجھے آج سے، ابھی سے کرنی ہوگی۔"
اس نے ایک گہرا سانس لیا، کمبل پرے دھکیلا اور بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ کوئی بوجھ نہیں تھا، کوئی زبردستی نہیں تھی۔ اس نے نہایت آرام اور ہلکے پن کے ساتھ وضو کیا۔ ٹھنڈا پانی جب اس کے چہرے اور ہاتھوں پر گرا، تو دل پر جمی مایوسی کی برف پگھلنے لگی۔
وہ مصلے پر آ کھڑی ہوئی۔ نیت باندھنے سے پہلے اس نے خیالی طور پر اپنے سامنے مٹی کا ایک چھوٹا سا کنکر رکھا۔ یہ اس کے باطنی سفر کا پہلا کنکر تھا—ایک کنکر۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: "یا اللہ! تیرا شکر ہے تو نے مجھے اس مبارک رات میں جاگنے کی توفیق دی۔ میں آج اپنی انا، اپنے شکووں اور اپنی ناشکری کے شیطان پر پہلا وار کرنے لگی ہوں۔ میری اس چھوٹی سی، ہلکی سی کوشش کو قبول فرما اور میرے بخت کو بدل دے۔"
جب اس نے تکبیر کہی اور سجدے میں گئی، تو تاریخ کا وہ قدیم صبر اور اس کا اپنا جدید سفر ایک نقطے پر آ کر مل گئے۔ ذوالحجہ کی پہلی رات کا چاند گواہ تھا کہ صائمہ نے اپنے رشتوں، اپنے ایمان اور اپنے وجود کو بچانے کے لیے شعور کی پہلی کنکری اٹھا لی تھی۔
کیا صائمہ اگلے نو دنوں میں اپنے باقی کنکر چن پائے گی؟ دیکھیے اگلی قسط میں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں