جمعہ کی صبح تھی۔
جمعہ کی صبح تھی۔
آسمان پر ہلکی سفیدی پھیلی ہوئی تھی اور شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔ گلیاں خاموش تھیں، ہوا ٹھنڈی تھی، مگر عائشہ کے ذہن میں عجیب سا شور تھا۔
مسلسل کئی دنوں سے وہ لوگوں کے مسائل سن رہی تھی۔ کبھی کسی کی ٹوٹی ہوئی زندگی، کبھی کسی کی بےسکونی، کبھی کسی کی خاموش اذیت۔ وہ سب کو حوصلہ دیتی تھی، مگر آہستہ آہستہ خود اندر سے تھکنے لگی تھی۔
رات اس نے دوا لی تھی تاکہ نیند آسکے۔
نیند تو آگئی، مگر صبح اچانک وہ خوفزدہ ہوکر جاگ اٹھی۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
“فجر…!”
وہ فوراً بستر سے اٹھی، جلدی جلدی وضو کیا اور جائے نماز پر کھڑی ہوگئی۔
نماز پڑھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی تھی، جیسے وہ نماز نہیں بلکہ کسی محفوظ پناہ گاہ میں آگئی ہو۔
سلام پھیرنے کے بعد اس نے فوراً کھڑکی سے باہر دیکھا۔
سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔
الحمدللہ۔
اس نے سکون بھرا سانس لیا اور دل میں سوچا:
“اگر آج فجر قضا ہوجاتی تو شاید پورا دن اداس گزرتا…”
نماز اور اذکار کے بعد وہ دوبارہ سوگئی۔
جب اگلی بار آنکھ کھلی تو جسم میں ابھی بھی تھکن باقی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ اٹھی، ناشتہ تیار کیا، امی کے لیے پلیٹ لگائی اور پھر دودھ اور الائچی والی خوشبودار چائے بنائی۔
چائے کی مہک پورے کمرے میں پھیل گئی۔
وہ کپ ہاتھ میں لیے کمرے کی طرف جارہی تھی کہ اچانک اس کے ذہن میں سورۃ الکہف کے مناظر چلنے لگے۔
غار…
اندھیرا…
سوئے ہوئے نوجوان…
غار کے دہانے پر بیٹھا وفادار کتا…
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام…
کشتی میں سوراخ…
سمندر میں غائب ہوتی مچھلی…
پرانا سکہ لیے بازار جاتا نوجوان…
یہ سب اس کے ذہن میں ایسے چل رہا تھا جیسے کوئی خاموش فلم ہو۔
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی اور چائے کا پہلا گھونٹ لیا۔
تبھی دل کے کسی کونے سے ایک عجیب سی خواہش نے سر اٹھایا۔
“کاش… میں بھی کچھ عرصہ سو جاؤں…”
اس نے آنکھیں بند کرلیں۔
“بس اتنی دیر… کہ جب جاگوں تو سارے مسئلے ختم ہوچکے ہوں…”
وہ خود ہی ہلکا سا مسکرائی۔
“اصحابِ کہف کی طرح…”
پھر فوراً دھیرے سے پڑھا:
“لاحول ولا قوۃ الا باللہ…”
مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ واقعی تھک چکی تھی۔
اتنا کہ اسے نیند صرف آرام نہیں، پناہ محسوس ہونے لگی تھی۔
چائے ختم کرکے اس نے سوچا تھوڑی دیر اور سو جائے، مگر پھر دل نے آہستہ سے یاد دلایا:
“جمعہ ہے…”
وہ اٹھی۔
وضو کیا۔
چاشت کی نماز ادا کی۔
پھر سورۃ الکہف کھول لی۔
جیسے جیسے تلاوت آگے بڑھتی گئی، اس کے دل کی بےچینی کم ہوتی گئی۔
ہر آیت اسے یاد دلا رہی تھی کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔
اصحابِ کہف بھی تو تھکے ہوئے تھے۔
دنیا سے…
لوگوں سے…
آزمائشوں سے…
مگر اللہ نے ان کے لیے غار کو رحمت بنادیا تھا۔
عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
اس نے ہاتھ اٹھائے اور بہت دیر تک دعا مانگتی رہی۔
اپنے لیے…
اپنی ماں کے لیے…
اپنی طالبات کے لیے…
اور ان سب لوگوں کے لیے جو باہر سے مضبوط مگر اندر سے ٹوٹے ہوئے تھے۔
دعا کے بعد اسے محسوس ہوا کہ شاید مسائل ختم نہیں ہوئے…
مگر دل مضبوط ہوگیا ہے۔
اور کبھی کبھی یہی سب سے بڑی راحت ہوتی ہے۔
کھڑکی سے دھوپ اب آہستہ آہستہ کمرے میں داخل ہورہی تھی۔
چائے کی خوشبو ابھی باقی تھی۔
اور اس کے دل میں ایک نرم سا یقین اتر چکا تھا:
“اللہ تھکے ہوئے دلوں کو سنبھال لیتا ہے…”
خیر ہوگی۔
ان شاءاللہ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں