آٹھواں دروازہ

آٹھواں دروازہ

آٹھواں دروازہ

ایک روحانی افسانہ — یومِ ترویہ کے راز

ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ تھی۔

مکہ کی صبحوں میں ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے سورج یہاں زمین پر نہیں۔۔۔ دلوں کے اندر طلوع ہوتا ہے۔

فضا میں لبیک کی صدائیں تیر رہی تھیں۔
سفید احراموں میں لپٹے لوگ ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے دنیا اپنی تمام پہچانیں اتار کر ایک ہی نام میں سمٹ آئی ہو:
“عبد”

حرم کے صحن میں، طواف کے شور کے باوجود ایک گہری خاموشی تھی۔

اور اسی خاموشی کے بیچ، زہرہ بیٹھی تھی۔

وہ لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی میں اسلامیات کی استاد تھی۔
الفاظ سے محبت کرتی تھی۔۔۔ مگر کچھ عرصے سے الفاظ اس سے روٹھ گئے تھے۔

وہ دوسروں کو دین سمجھاتی تھی، مگر خود اپنے اندر ایک عجیب خلا محسوس کرتی تھی۔
نماز پڑھتی۔۔۔ قرآن پڑھتی۔۔۔ لیکچر دیتی۔۔۔
لیکن دل میں ایک سوال ہر وقت جاگتا رہتا:

“کیا عبادت صرف عمل کا نام ہے۔۔۔ یا کبھی انسان واقعی اللہ تک بھی پہنچتا ہے۔۔۔؟”

اسی سوال نے اُسے حج تک پہنچایا تھا۔

اس دن وہ مطاف کے ایک کونے میں بیٹھی لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔
ہر چہرہ الگ تھا۔۔۔ مگر سب کی آنکھوں میں ایک جیسی نمی تھی۔

تبھی اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔

وہ ستون کے قریب بیٹھا تھا۔
سفید داڑھی۔۔۔ دھیمی آنکھیں۔۔۔ ہاتھ میں تسبیح۔۔۔
اور چہرہ ایسا جیسے برسوں کی خاموشی نے اُس پر سکون لکھ دیا ہو۔

وہ عجیب شخص تھا۔

نہ وہ کسی سے بات کرتا تھا۔۔۔ نہ کسی کو دیکھتا تھا۔۔۔
مگر اس کے اردگرد بیٹھنے والوں کے چہرے بدل جاتے تھے۔

زہرہ بےاختیار اُس کے قریب جا بیٹھی۔

“آپ سے ایک سوال پوچھوں؟”

بوڑھے نے سر اٹھایا۔
اس کی آنکھوں میں ایسا سکون تھا جو صرف اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو بہت قریب سے دیکھا ہو۔۔۔ اور پھر چھوڑ دیا ہو۔

“پوچھو بیٹی۔”

“حج کا آغاز آٹھ ذوالحجہ سے ہی کیوں ہوتا ہے؟
سات سے کیوں نہیں۔۔۔؟”

بوڑھا ہلکا سا مسکرایا۔

“کیونکہ سات تک انسان خود چلتا ہے۔۔۔
آٹھ پر اللہ ساتھ چلنے لگتا ہے۔”

زہرہ چونک گئی۔

بوڑھا آہستہ آہستہ بول رہا تھا، جیسے الفاظ نہیں۔۔۔ راز اتار رہا ہو۔

“سات آسمان ہیں۔۔۔
سات زمینیں۔۔۔
سات چکر طواف کے۔۔۔
سات ہی صفا و مروہ کی سعی۔۔۔
مگر جب بندہ ان سات دائروں سے گزر جاتا ہے۔۔۔ تو آٹھواں دروازہ کھلتا ہے۔”

“آٹھواں دروازہ۔۔۔؟”

“جنت کے دروازے کتنے ہیں؟”

“آٹھ۔۔۔”

“بس۔
حج انسان کو انہی دروازوں تک لے جانے کا سفر ہے۔”

زہرہ خاموش ہوگئی۔

وہ پہلی بار حج کو صرف عبادت نہیں۔۔۔ ایک راز کے طور پر سن رہی تھی۔

بوڑھے نے اپنی تسبیح روک دی۔

“جانتی ہو یومِ ترویہ کیوں کہتے ہیں؟”

زہرہ نے نفی میں سر ہلایا۔

“کیونکہ یہ سوچنے کا دن ہے۔
پہلے حاجی مِنیٰ جانے سے پہلے پانی جمع کرتے تھے۔
اپنے لیے بھی۔۔۔ دوسروں کے لیے بھی۔
صحرا میں پانی صرف ضرورت نہیں ہوتا۔۔۔ زندگی ہوتا ہے۔”

“اسی لیے ترویہ۔۔۔؟”

“ہاں۔
سوچنے کی تیاری۔۔۔
روح کی تیاری۔۔۔
انسان جب اللہ کی طرف نکلتا ہے تو اُسے سب سے پہلے اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنا پڑتا ہے۔”

ہوا میں اذان کی آواز گونجی۔

“اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔”

زہرہ نے محسوس کیا جیسے اس اذان میں آج پہلی بار کوئی درد تھا۔

وہ درد۔۔۔ جو انسان کو اپنے رب کی طرف کھینچتا ہے۔

“آپ مِنیٰ کا مطلب جانتے ہیں؟”

بوڑھا مسکرایا۔

“مِنیٰ خواہش کو کہتے ہیں۔”

“خواہش۔۔۔؟”

“ہاں۔
انسان آٹھ ذوالحجہ کو اپنی خواہشیں لے کر نکلتا ہے۔۔۔ تاکہ عرفات میں انہیں اللہ کے حوالے کرسکے۔”

زہرہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

اُسے اپنا دل یاد آگیا۔

وہ خواب۔۔۔ وہ خواہشیں۔۔۔
وہ لوگ جنہوں نے اُسے توڑا تھا۔۔۔
وہ دعائیں جو قبول نہ ہوئیں۔۔۔
وہ محبتیں جو ادھوری رہ گئیں۔

کیا انسان واقعی سب اللہ کے حوالے کرسکتا ہے۔۔۔؟

بوڑھے نے جیسے اُس کے دل کی آواز سن لی۔

“سب سے مشکل قربانی جانور کی نہیں ہوتی بیٹی۔۔۔
سب سے مشکل قربانی اپنی انا کی ہوتی ہے۔”

زہرہ خاموش ہوگئی۔

اچانک اسے اپنے والد یاد آگئے۔

وہ بچپن میں کہتے تھے:

“اللہ کے قریب جانے کے لیے کبھی کبھی خود سے دور جانا پڑتا ہے۔”

تب وہ بات سمجھ نہیں آئی تھی۔

آج شاید آنے لگی تھی۔

بوڑھا پھر بولا:

“لوگ سمجھتے ہیں حج کعبہ دیکھنے کا نام ہے۔
نہیں۔۔۔
حج اپنے اندر کے بت دیکھنے کا نام ہے۔”

“اندر کے بت۔۔۔؟”

“غرور۔۔۔
حسد۔۔۔
شکایت۔۔۔
لالچ۔۔۔
خود پسندی۔۔۔
لوگ پتھر کے بت توڑنے کو دین سمجھتے ہیں۔۔۔ مگر اصل بت انسان اپنے دل میں اٹھائے پھرتا ہے۔”

زہرہ کا دل کانپ گیا۔

اُسے لگا جیسے کسی نے اُس کے اندر چھپی ساری تاریکیاں دیکھ لی ہوں۔

“اسی لیے احرام پہنایا جاتا ہے۔”

بوڑھے نے اپنی سفید چادر کی طرف دیکھا۔

“دو سفید چادریں۔۔۔
ایک کفن کی یاد۔۔۔
ایک قیامت کی یاد۔”

“اور پھر؟”

“پھر اللہ تم سے تمہارا تعارف چھین لیتا ہے۔
نہ تمہارا عہدہ رہتا ہے۔۔۔
نہ دولت۔۔۔
نہ خاندان۔۔۔
صرف ایک شناخت بچتی ہے:
عبد”

حرم کے اوپر شام اتر رہی تھی۔

کعبہ سیاہ غلاف میں لپٹا ہوا ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین کے سینے پر رکھا ہوا کوئی راز ہو۔

زہرہ نے دھیمی آواز میں پوچھا:

“کیا واقعی انسان اللہ تک پہنچ سکتا ہے۔۔۔؟”

بوڑھا کچھ دیر خاموش رہا۔

پھر اُس نے آسمان کی طرف دیکھا۔

“اللہ دور نہیں ہوتا بیٹی۔۔۔
صرف انسان اپنے نفس کے شور میں اُسے سن نہیں پاتا۔”

“پھر حج کیا ہے۔۔۔؟”

“حج۔۔۔
اللہ کو ڈھونڈنے کا نہیں۔۔۔
خود کو کھونے کا سفر ہے۔”

زہرہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اُسے محسوس ہوا جیسے اُس کے اندر برسوں سے بند کوئی دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا ہو۔

اسی لمحے حرم میں لبیک کی آواز بلند ہوئی۔

“لبیک اللہم لبیک۔۔۔”

اور زہرہ نے پہلی بار محسوس کیا۔۔۔
یہ الفاظ زبان نہیں۔۔۔ روح پڑھتی ہے۔

اُس نے بوڑھے کی طرف دیکھا۔

“آپ کون ہیں۔۔۔؟”

مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔

صرف ایک تسبیح پڑی تھی۔

اور اُس کے پاس زمزم کا آدھا بھرا ہوا کپ۔

زہرہ دیر تک اُسے دیکھتی رہی۔

پھر اُس نے زمزم کا وہ پانی پیا۔

پانی ٹھنڈا تھا۔۔۔
مگر اُس کے اندر کچھ جلنے لگا تھا۔

شاید غرور۔

شاید درد۔

شاید وہ ساری دنیا۔۔۔
جو اللہ اور اُس کے درمیان کھڑی تھی۔

اگلی صبح جب قافلے مِنیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔
زہرہ بھی اُن میں شامل تھی۔

مگر اب اُس کے قدم پہلے جیسے نہیں تھے۔

کیونکہ اب وہ صرف حج کرنے نہیں جا رہی تھی۔۔۔
وہ اپنے اندر کے بت توڑنے جا رہی تھی۔

اور شاید یہی یومِ ترویہ کا اصل راز تھا۔

کہ انسان آٹھویں دن سفر شروع نہیں کرتا۔۔۔
بلکہ پہلی بار خود کو اللہ کے حوالے کرتا ہے۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

معوذتین

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity