اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا

تصویر
  ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ مغرب کی اذان ہو چکی تھی، مگر گھر کے اندر چراغ ابھی تک نہیں جلا تھا۔ حارث چارپائی کے کنارے بیٹھا تھا۔ سامنے چند کاغذ بکھرے ہوئے تھے۔ کسی پر قرض کی رقم لکھی تھی، کسی پر دوا کا خرچ، اور ایک کاغذ پر صرف ایک لفظ تھا: "نامنظور" آج پورا دن وہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پھرتا رہا تھا۔ کسی نے کہا، "ابھی میرے حالات بھی اچھے نہیں۔" کسی نے نظریں چرا لیں۔ کسی نے وعدہ کیا، مگر وعدہ بھی شام تک ٹوٹ گیا۔ وہ تھکے قدموں سے گھر لوٹا تو یوں محسوس ہوا جیسے سارا شہر اس کے لیے تنگ ہو گیا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر طاق پر رکھے قرآن مجید پر پڑی۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر آہستہ سے قرآن اٹھایا۔ صفحات پلٹتے پلٹتے اس کی نگاہ ایک آیت پر ٹھہر گئی۔ ﴿وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۖ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا﴾ وہ دیر تک اسی آیت کو دیکھتا رہا۔ اچانک اسے اصحابِ کہف یاد آ گئے۔ وہ بھی تو ایک پناہ کی تلاش میں نکلے تھے۔ اللہ نے انہیں ا...

مصحف سے پہلے

تصویر
 ‎ ‎ ‎پیش لفظ ‎ ‎یہ کتاب کسی بڑے دعوے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ ‎نہ میں مفسر ہوں، نہ محدث، نہ رات دن کی محنت کرنے والی عالم۔ ‎میں بس ایک سیاح ہوں — اس وادی کی سیاح جہاں دور دور تک نور کے پہاڑ تھے، اور میں نے ان کے سائے میں بیٹھ کر اپنی بے تعلقی کا احساس کیا۔ ‎ہم عجمی۔ ‎ہماری نسلوں نے قرآن کو تلاوت تو کر لیا، بلکہ کھانے پکانے والی آوازوں میں بھی اس کی آیات گونجیں۔ لیکن افسوس! جب تعلق کی بات آئی، تو ہم صدیوں سے قرآن کے صحن میں کھڑے مسافر ہیں، جس کے اندر کبھی داخلہ نہیں ملا۔ ‎رسم و رواج میں ہم نے مصحف کو عزت دی، لیکن وہ لذت، وہ وجد، وہ رقت جو نبی علیہ السلام کے جگر پر وحی کے اترتے ہی طاری ہو جاتی تھی — وہ ہمارے حصے میں کب آئی؟ ‎ ‎جب میں نے غور کیا تو ایک ایک کر کے پردے اٹھتے گئے۔ ‎لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا تک کا ایک سفر تھا۔ ‎آسمانِ دنیا سے قلبِ نبی ﷺ تک کا ایک اور سفر تھا۔ ‎قلبِ نبی سے صحفِ صدیقی تک کا سفر۔ ‎پھر صحف سے مصحفِ عثمانی تک۔ ‎مصحفِ عثمانی سے اعراب و نقاط تک۔ ‎اور پھر ہمارے ہاتھوں میں یہ پرنٹ شدہ، ڈیجیٹل، یکساں، سادہ سا مصحف — جسے ہم بے زحمت کھول کر پڑھتے ہیں۔ ‎ ‎یہی وہ مقام ہے...

افسانہ: خاموش جنگل کی گونج

تصویر
  افسانہ: خاموش جنگل کی گونج آنکھیں بند تھیں، اور سانسیں آہستہ آہستہ جیسے کسی پوشیدہ تال پر چل رہی تھیں۔ باہر کی دنیا پیچھے رہ گئی تھی، اور اندر ایک اور ہی کائنات کھل رہی تھی—لفظوں کی کائنات، احساسات کی کائنات، اور ایک ایسی خاموشی جو شور سے زیادہ بولتی تھی۔ ذہن کی راہداریوں میں چمکتے ہوئے لفظ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ وہ آگے آگے دوڑ رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے پیچھے کسی انجانی سی کیفیت میں چلتی چلی جا رہی تھی۔ جیسے کوئی مجھے بلائے بھی نہیں اور میں پھر بھی اس آواز کے پیچھے چل پڑوں۔ پھر اچانک وہ راستہ بدل گیا۔ لفظوں کی روشنی ایک گھنے جنگل میں جا گری۔ ایسا جنگل جو خوبصورت بھی تھا اور پراسرار بھی۔ درخت اونچے تھے، مگر ان کی چھاؤں میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ ہوا ٹھہری ہوئی تھی، جیسے کسی بڑی خبر کے انتظار میں ہو۔ اور اسی جنگل کے درمیان وہ الفاظ کھڑے تھے… “فَأَجَآءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ…” میں رک گئی۔ یہ کوئی عام جملہ نہیں تھا۔ یہ تو جیسے وقت کے سینے سے نکلتا ہوا ایک درد تھا، جو صدیوں سے سانس لے رہا تھا۔ ہر لفظ ایک کہانی تھا، اور ہر کہانی کے اندر ایک ...