شعور کی کنکریاں

 

شعور کی کنکریاں


حرم پاک کے صحن میں عقیدت مندوں کا ایک سمندر تھا جو موجیں مار رہا تھا، لیکن مقیت کے دل کے اندر وسوسوں اور الجھنوں کا ایک الگ ہی طوفان برپا تھا۔ ذوالحجہ کا دوسرا دن تھا—وہ دن جو مناسکِ حج کی گہماگہمی اور روح کی بیداری کا پیغام لے کر آیا تھا۔ مقیت نے اپنے ہاتھ میں تسبیح تھام رکھی تھی، مگر اس کا ذہن جمرات کی طرف جانے والے راستے پر نہیں، بلکہ اپنے ماضی کے پچھتاووں اور حال کی بے سکونیوں میں بھٹک رہا تھا۔


انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ باہر کے شیطانوں کو تو دور سے پہچان لیتا ہے، مگر اپنے اندر پلنے والے حسد، انا اور وسوسوں کے شیطان سے بے خبر رہتا ہے۔ مقیت کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ اس کا ہنستا کھیلتا گھر، اس کی محبتیں، اور اس کے پختہ رشتے—سب کسی "تیسرے عنصر" کی لائی ہوئی دوریوں کی نذر ہو چکے تھے۔ وہ "تیسرا" کوئی انسان نہیں تھا، بلکہ ایک بے قابو انا، موبائل کی سکرین پر تیرتے فتنوں کی چکا چوند، اور دلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے خاموش فاصلے تھے۔


"رمیِ جمرات محض ایک ظاہری عمل نہیں ہے میرے بھائی!" اچانک اس کے برابر میں چلتے ہوئے ایک بوڑھے، نورانی چہرے والے حاجی نے ہولے سے کہا، جیسے وہ مقیت کے دل کا حال پڑھ چکے ہوں۔


مقیت نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔ "پھر یہ کیا ہے؟"


بزرگ نے مسکرا کر اپنے ہاتھ میں موجود چھوٹی چھوٹی کنکریاں دکھائیں اور بولے، "یہ باطن کی عظیم جنگ کا اعلان ہے۔ ذرا سوچو، اگر مقصد صرف اس ستون کو یا شیطان کو جسمانی طور پر مارنا ہوتا، تو بڑے پتھروں کا حکم دیا جاتا۔ لیکن یہاں حکم 'کنکر' کا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ کنکر اپنے اندر ایک خاموش پیغام رکھتا ہے: 'گِن کر'۔ یعنی وار جذبات سے نہیں، شعور سے ہوگا۔ حملہ غصے سے نہیں، حکمت سے ہوگا!"


بزرگ کی باتیں مقیت کے دل کے بند کواڑوں پر دستک دینے لگیں۔ وہ مٹی کے ان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو دیکھنے لگا۔


"سات کنکر... سات مرتبہ... سات گواہیاں،" بزرگ اپنی دھن میں کہتے چلے گئے، "یہ سات کا عدد ایک الٰہی رمز ہے۔ سات آسمان، سات زمینیں، سورۃ الفاتحہ کی سات آیات، اور کعبہ کے گرد سات گردشیں... یہ تکمیل اور توازن کی علامت ہے۔ جب تم یہ سات کنکریاں مارتے ہو، تو تم دراصل اپنے وجود کی سات سچائیوں کے ساتھ باطل کے خلاف کھڑے ہونے کا عہد کرتے ہو۔"


مقیت کا سانس جیسے سینے میں اٹک گیا۔ اسے لگا یہ بزرگ اس سے نہیں، بلکہ اس کی روح سے مخاطب ہیں۔


"اور یہ تین جمرات؟ یہ اکیس کنکر؟" مقیت نے اشتیاق سے پوچھا۔


"یہ انسان کے شعوری سفر کی علامت ہیں،" بزرگ نے جمرات کے ستونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "نفس، دنیا اور شیطان کے خلاف مسلسل جدوجہد۔ اکیس کا عدد بلوغتِ فہم کا استعارہ ہے—وہ مقام جہاں انسان حقیقت کو پہچاننے لگتا ہے۔ شیطان ہمیشہ کوئی پتھر کا مجسمہ نہیں ہوتا، مقیت صاحب! وہ ہر وہ وسوسہ ہے جو دل میں دراڑ ڈالے، ہر وہ آواز جو رشتوں میں زہر گھول دے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ سنت ہمیں سکھاتی ہے کہ باطل کبھی سامنے سے نہیں آتا، وہ وسوسہ بن کر گھروں اور دلوں میں داخل ہوتا ہے۔ اور اس کا مقابلہ اندھی شدت سے نہیں، بیدار بصیرت سے کیا جاتا ہے۔"


جمرات کے قریب پہنچتے ہی ہجوم کا دباؤ بڑھ گیا۔ بزرگ ہجوم میں کہیں آگے نکل گئے، لیکن ان کے الفاظ مقیت کے اندر ایک نئی روشنی پیدا کر چکے تھے۔


اس نے اپنے ہاتھ میں موجود اکیس کنکریوں کو دیکھا۔ اب یہ اس کے لیے محض مٹی کے بے جان ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ شعور، صبر اور سچ کے ہتھیار تھے۔ اس نے پہلی کنکری اٹھائی، اپنی انا اور اس 'تیسرے فتنے' کا تصور کیا جس نے اس کے رشتوں میں زہر گھولا تھا، اور پورے شعور کے ساتھ نپا تلا وار کیا: "بسم اللہ، اللہ اکبر!"


ہر کنکر کے گرنے کے ساتھ، اس کے دل پر جما ہوا ایک ایک وسوسہ ٹوٹ کر گر رہا تھا۔ وہ صرف جمرات پر کنکریاں نہیں مار رہا تھا، وہ اپنے باطن کے شیطان کو گِن گِن کر مار رہا تھا۔


جب اکیسویں کنکری اس کے ہاتھ سے چھوٹی، تو مقیت نے محسوس کیا کہ اس کا اندرونی طوفان تھم چکا ہے اور اس کی جگہ ایک لازوال اطمینان نے لے لی ہے۔ اس نے تپتی ہوئی زمین پر کھڑے ہو کر آسمان کی طرف دیکھا، جہاں ذوالحجہ کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا—بالکل اسی طرح، جیسے آج تدبر اور بصیرت کی بدولت اس کے دل کے اندر حقیقت کا جلوہ روشن ہو چکا تھا اور وہ اپنے رشتوں کو دوبارہ سمیٹنے کا حوصلہ پا چکا تھا۔

تبصرے