افسانہ: جائیدادِ عشق

 

افسانہ: جائیدادِ عشق

افسانہ: جائیدادِ عشق


شہر کے سب سے روشن کیفے میں قہقہوں اور باتوں کا شور اپنے عروج پر تھا۔ زویا اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں گھری ہوئی تھی، جہاں ہر کوئی اس کی کامیابی اور اس کی شخصیت کا گرویدہ نظر آتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اس موڑ پر تھی جہاں اسے واقعی محسوس ہو رہا تھا کہ دنیا اس کے قدموں میں ہے۔ کامیابی، جوانی اور لوگوں کی ستائش… سب کچھ اسے حاصل تھا۔


اسی دوران اس کے فون پر ایک پرانا پیغام چمکا:

“اصل مزہ تب ہے جب دنیا تمہیں چاہ رہی ہو اور تم اپنے رب کی چاہت میں مبتلا ہو جاؤ۔”


زویا نے ایک گہرا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر آسمان کی وسعتوں کو دیکھنے لگی۔ اسے محسوس ہوا کہ تالیاں اور تعریفیں کسی سراب کی طرح ہیں۔ اس نے سوچا، بیماری یا بڑھاپے میں تو ہر کوئی اللہ کی طرف پلٹتا ہے، کیونکہ تب کوئی اور سہارا باقی نہیں رہتا۔ مگر اس وقت، جب اس کی رگوں میں جوانی کا لہو دوڑ رہا ہے اور اس کے پاس انتخاب کی پوری طاقت موجود ہے، اگر وہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھائے تو یہی اس کی اصل جائیداد ہوگی۔


وہ خاموشی سے اٹھی اور وضو کرنے چلی گئی۔ پانی کی ہر بوند کے ساتھ اسے یوں لگا جیسے وہ صرف چہرہ نہیں بلکہ اپنی روح کی دھول بھی دھو رہی ہو۔ جب وہ جائے نماز پر کھڑی ہوئی تو اسے محسوس ہوا کہ وہ کسی خوف یا مجبوری سے نہیں آئی، بلکہ شکرگزاری کے جذبے سے لبریز ہو کر اپنے رب کے سامنے کھڑی ہے۔


نماز کے بعد اس نے قرآن کھولا۔ ہر لفظ اس کے دل پر دستک دیتا محسوس ہوا۔ اسے یاد آیا کہ سنت پر عمل کرنا محض رسم نہیں، بلکہ زندگی کے ہر چھوٹے کام میں خالق کو یاد رکھنے کا نام ہے۔ یہاں تک کہ پانی کا ایک گھونٹ پینے میں بھی محبت چھپی ہوتی ہے۔


اس کے دل میں ایک عجیب سی لذت اتر رہی تھی۔ اب اسے اس بات کی پرواہ نہیں رہی تھی کہ دنیا اسے کتنا نیک یا دیندار سمجھتی ہے۔ اس کا معیار بدل چکا تھا۔ اب اس کی تڑپ صرف یہ تھی کہ کاش اس لمحے آسمانوں پر فرشتوں کے درمیان اس کا ذکر ہو رہا ہو اور اللہ فرمائے کہ میرا یہ بندہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی صرف میری محبت کا پیاسا ہے۔


زویا کو سمجھ آ گیا تھا کہ اللہ کو پا کر کچھ کھونا دراصل کچھ کھونا نہیں ہوتا۔ جس کے پاس اللہ ہو، اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے۔


اس نے مسکرا کر اپنے دل سے پوچھا: کیا آج اللہ کی محبت کا ذائقہ چکھ لیا جائے؟


اور اس کی آنکھوں سے نکلنے والا ایک آنسو گواہی دے رہا تھا کہ یہ سودا واقعی بہت منافع بخش ہے۔


بے شک ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ صرف احساس کی ایک تبدیلی ہے جو عام انسان کو خاص بنا دیتی ہے۔ ان شاء اللہ یہی تعلق زندگی کا اصل حاصل ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز