افسانہ: دو کناروں کا سنگم
افسانہ: دو کناروں کا سنگم
۔۔۔۔۔
یروشلم کی فضاؤں میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، وہ خاموشی جو کسی بڑے طوفان یا کسی بڑے معجزے سے پہلے سنائی دیتی ہے۔ ہیکل کے ایک گوشے میں مریم اپنے حجرے میں ساکت بیٹھی تھیں، ان کے سامنے دیوار پر ڈھلتے سورج کی زرد روشنی ایک لکیر سی بنا رہی تھی۔ دوسری طرف، شہر کی ایک تنگ گلی کے آخری مکان میں ایک ضعیفہ (مریم کی خالہ) مصلے پر جھکی ہوئی تھیں۔
یہ دو عورتیں، جو رشتے میں خالہ اور بھانجی تھیں، قدرت کے ایک ایسے انوکھے امتحان میں مبتلا تھیں جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
ایک طرف وہ وجود تھا جسے زمانے نے "بانجھ" قرار دے کر امید کی ہر کھڑکی بند کر دی تھی۔ وہ ضعیفہ، جن کی ہڈیاں کمزور ہو چکی تھیں اور سر چاندی کی طرح سفید ہو چکا تھا، برسوں سے ایک سونی گود کے ساتھ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھیں۔ مشرق کے اس گھرانے میں اولاد کی کمی صرف ایک تنہائی نہیں تھی، بلکہ ایک خاموش دکھ تھا جو ہر روز زکریا علیہ السلام کے چہرے پر دیکھ کر ان کا دل پاش پاش کر دیتا۔ مگر ان کا یقین اس سوکھی زمین کی طرح تھا جو جانتی ہے کہ بادل جب بھی برسے گا، اسے ہرا کر دے گا۔ پھر ایک دن، جب مصلے کی دعا نے عرش کا پایا ہلا دیا، تو فرشتے کی پکار نے ان کے بوڑھے بدن میں زندگی کی نئی لہر دوڑا دی۔ وہ جو ناممکن تھا، وہ ان کے بطن میں دھڑکنے لگا۔
دوسری طرف مریم تھیں، جن کا امتحان بالکل الگ تھا۔ وہ نوجوان تھیں، پاکیزہ تھیں، اور ان کی گود سونی نہیں تھی، بلکہ وہ تو ابھی ازدواجی زندگی کے تصور سے بھی دور تھیں۔ جب فرشتے نے انہیں "بیٹے" کی بشارت دی، تو ان کے وجود پر ایک لرزہ طاری ہو گیا۔ یہ ایک ایسی مشقت تھی جس کا بوجھ تنہا اٹھانا تھا۔ وہ سوچتی تھیں کہ وہ معاشرہ جو ایک بیوہ یا بانجھ کو معاف نہیں کرتا، وہ ایک کنواری ماں کو کیسے قبول کرے گا؟ ان کی آنکھوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی، مگر دل کے نہاں خانے سے آواز آئی: "تیرا رب جو چاہے، وہ کر کے رہتا ہے۔"
وہ تنہا، دور دراز کے ایک ویران مقام کی طرف چل پڑیں۔ وہ وقت جب انہیں ایک کھجور کے تنے کا سہارا لینا پڑا، وہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی جسمانی اور نفسیاتی مشقت کا لمحہ تھا۔ دردِ زہ کی شدت ایک طرف، اور زمانے کے سوالوں کا بوجھ دوسری طرف۔
پھر وہ وقت آیا جب یہ دونوں "ناممکنات" ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ جب مریم اپنی خالہ کے گھر پہنچیں، تو دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں کوئی لمبی چوڑی گفتگو نہ تھی، بس ایک خاموش اعتراف تھا۔ خالہ نے مریم کے چہرے پر وہ نور دیکھا جو ان کے اپنے بطن میں موجود معجزے کی گواہی دے رہا تھا۔
خالہ، جنہوں نے صبر کی دھوپ میں عمر گزاری تھی، انہوں نے مریم کے لرزتے ہاتھوں کو تھام لیا۔ یہ دو عورتوں کا ملاپ نہیں تھا، یہ ہمت کی دو چوٹیوں کا ملاپ تھا۔ ایک کے پاس "صبر" کا پھل تھا، دوسری کے پاس "توکل" کا معجزہ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اللہ جب خیر بانٹنا چاہتا ہے، تو وہ بانجھ پن کی عمر اور کنوارے پن کی تہمت، دونوں کو اپنے نور سے ڈھانپ لیتا ہے۔
آج جب بھی کوئی عورت دکھ، بیماری یا اولاد کی طلب میں ہمت ہارنے لگتی ہے، تو یروشلم کی ان دو گلیوں سے ایک آواز آتی ہے: "اپنے حصے کی مشقت کو ہمت سے کاٹو، تمہارے حصے کی خیر بھی تمہیں ڈھونڈتی ہوئی آئے گی۔"
کیونکہ اللہ کے ہاں دیر تو ہو سکتی ہے، مگر محرومی نہیں۔ ان دو عظیم خواتین کی طرح باہمت بنیں، جن کی مشقت نے انہیں رہتی دنیا تک کے لیے "خیر" کا استعارہ بنا دیا۔
#افسانہ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں