: منفی خیالات سے چھٹکارا پائیں
: منفی خیالات سے چھٹکارا پائیں
زندگی جیسے ایک لمبی خاموشی میں بدل گئی تھی۔ دل جذبات سے اتنا بوجھل تھا کہ ہر سوچ کسی اندھی گلی کی طرف لے جاتی محسوس ہوتی تھی۔ ایک آوارہ خیال نے ابھی پر پھیلانے ہی تھے کہ میں نے اچانک اس کا رخ موڑ دیا۔ میں نے خود سے آہستہ سے کہا: زندگی تب ہی مسکرائے گی جب میری بیٹی مسکرائے گی۔ یہ جملہ جیسے دل پر روشنی بن کر اترا اور میں نے پہلی بار اپنے ہی فیصلے پر خود کو داد دی کہ چلو کسی اچھی بات پر عمل تو کیا۔
انسان کا ذہن عجیب ہے۔ ایک منفی خیال آتا ہے اور پھر اس کے پیچھے جیسے پوری قطار چل پڑتی ہے۔ اگر اسی لمحے اسے نہ روکا جائے تو یہ خیالات دل کی زمین پر خوف اور اداسی کے بیج بو دیتے ہیں۔ اسی لیے میں نے خود کو ایک عادت سکھانا شروع کی: جیسے ہی کوئی منفی سوچ آئے، فوراً اسے بدل دو۔ اس کی جگہ کوئی امید بھرا جملہ رکھ دو، کوئی ایسی تصویر بنا لو جس میں روشنی ہو۔ آہستہ آہستہ محسوس ہوا کہ ذہن واقعی ماننے لگتا ہے۔
کبھی کبھی خیالات واقعی ریلوے کی پٹری کی طرح چلتے رہتے ہیں، رکتے ہی نہیں۔ ایسے لمحوں میں میں کنپٹی پر ہاتھ رکھ کر خود سے کہتی ہوں: بس، اب رک جاؤ۔ شروع میں یہ عمل عجیب لگا، بے فائدہ بھی محسوس ہوا، مگر وقت کے ساتھ ذہن نے اس اشارے کو سمجھنا شروع کر دیا۔ جیسے کسی بچے کو بار بار سمجھایا جائے تو وہ ایک دن مان ہی جاتا ہے، ویسے ہی ذہن بھی مان جاتا ہے۔
پھر ایک اور سچائی دل میں اترنے لگی کہ ہر خیال ہمارا اپنا نہیں ہوتا۔ کچھ وسوسے ایسے ہوتے ہیں جو دل کو بے وجہ خوف اور گمان میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں سورۂ الفلق اور سورۂ الناس پڑھنا دل پر ایک حفاظتی حصار بنا دیتا ہے۔ چند آیات کی تلاوت جیسے دل کے گرد سکون کا دائرہ کھینچ دیتی ہے اور بےچینی آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگتی ہے۔
وقت کے ساتھ میں نے ایک اور چھوٹا سا راز سیکھا: گہری سانس اور مسکراہٹ۔ جب سانس آہستہ اور گہری ہو جائے تو دل کی دھڑکن بھی نرم پڑ جاتی ہے۔ اور جب ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ جائے تو جیسے دماغ کو پیغام ملتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کتنے بڑے طوفان کبھی کبھی چند لمحوں میں تھم جاتے ہیں۔
اب میں جان چکی ہوں کہ خیالات آنا بند نہیں ہوں گے، مگر ان کا رخ بدلنا میرے اختیار میں ہے۔ اور جب بھی میں اپنی بیٹی کی مسکراہٹ دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی واقعی دوبارہ مسکرانا سیکھ رہی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں