اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دیوارِ گریہ اور گلاب: ایک افسانہ

تصویر
  دیوارِ گریہ اور گلاب: ایک افسانہ ایڈورڈز ٹاؤن کی سرد شاموں میں جب برفباری شروع ہوتی تو شہر کی رنگین روشنیاں دھند میں گم ہونے لگتیں۔ مگر سینٹ جیمز اسٹریٹ کے آخری سرے پر واقع ایک پرانے لکڑی کے مکان کی کھڑکی سے ہمیشہ ایک نرم اور پُرسکون روشنی باہر آتی رہتی تھی۔ یہ ایلینا کا گھر تھا۔ ایلینا ایک ایسے معاشرے میں رہتی تھی جہاں رشتے اکثر موسموں کی طرح بدل جاتے تھے، مگر وہ خود ایک خاموش استقامت کی مثال تھی۔ اس کے شوہر مارک کو ایک طویل مہم پر سمندر پار گئے تین سال گزر چکے تھے۔ ان برسوں میں اس نے صرف گھر کی حفاظت نہیں کی تھی بلکہ اپنے وجود کی اس پاکیزگی کو بھی سنبھالے رکھا تھا جو اس شہر میں کم کم دکھائی دیتی تھی۔ ایک شام شہر کے معروف بزنس مین جولین نے اسے ایک بڑی تقریب میں مدعو کیا۔ جولین کا خیال تھا کہ تنہائی آخرکار ہر انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “ایلینا، تم اس خاموش زندگی میں کیوں قید ہو؟ مارک شاید تمہیں بھول چکا ہو۔ یہاں زندگی ہے، رونق ہے، آسائش ہے… اور میں تمہیں وہ سب دے سکتا ہوں جس کی تمہیں ضرورت ہو۔” ایلینا نے سکون بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس...

افسانہ: زمانوں کی دستک

تصویر
  افسانہ: زمانوں کی دستک شہر پر ایک عجیب خاموشی طاری تھی۔ گلیوں میں رونق تو تھی مگر دلوں میں خوف بستا تھا۔ لوگ بتوں کے سامنے جھکتے تھے اور بادشاہ کے حکم کو ہی آخری سچ سمجھتے تھے۔ ایسے ماحول میں چند نوجوان اپنے سینوں میں ایک الگ آگ لیے پھر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سچ ایک ہی ہے اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ بات چھپانا اب ان کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ ہر گزرتا دن خطرہ بڑھا رہا تھا۔ بادشاہ کے کارندے ہر اس شخص کو ڈھونڈتے پھرتے تھے جو توحید کی بات کرتا تھا۔ آخر ایک رات ان نوجوانوں نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ خاموشی سے پہاڑوں کی طرف نکل گئے۔ ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا جو راستے بھر ان کے پیچھے چلتا رہا، جیسے اسے بھی معلوم ہو کہ یہ سفر عام نہیں۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد انہیں ایک غار ملا۔ تھکے ہوئے قدم رک گئے۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا مانگی۔ “اے ہمارے رب، ہم پر اپنا کرم فرما اور ہمارے لیے بھلائی کا راستہ آسان کر دے۔” پھر وہ غار کے اندر سو گئے۔ دن گزرتے رہے۔ موسم بدلتے رہے۔ سورج ہر روز نکلتا اور ڈھل جاتا، مگر غار کے اندر ایک خاموش سکون قائم رہا۔ باہر دنیا بدل رہی تھی اور اندر...

افسانہ: محل، مصلّٰی اور دیوارِ گریہ

تصویر
  افسانہ: محل، مصلّٰی اور دیوارِ گریہ زمانوں کی گرد اڑی تو تاریخ کے افق پر چار دیو قامت سائے لہرائے۔ یہ سائے چار عورتوں کے تھے، جن کے قدموں تلے خاک تو ایک سی تھی مگر جن کے ماتھے پر لکھی تحریریں ایک دوسرے سے یکسر جدا تھیں۔ پہلا منظر ایک ایسے گھر کا تھا جہاں فجر کی پہلی کرن کے ساتھ وحی اترتی تھی۔ فضا میں فرشتے پر مارتے تھے اور صدق و صفا کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ یہاں دو عظیم پیغمبروں، نوحؑ اور لوطؑ کی بیویاں رہتی تھیں۔ باہر سے دیکھنے والوں کو لگتا تھا کہ یہ عورتیں کائنات کی خوش نصیب ترین روحیں ہیں جو نبوت کے سائے میں سانس لے رہی ہیں۔ مگر دیواروں کے پیچھے کہانی کچھ اور تھی۔ ان کے دلوں میں منافقت کی دیمک لگی تھی۔ وہ اس نور کے اتنے قریب تھیں کہ اس کی چمک نے انہیں اندھا کر دیا تھا۔ انہوں نے سچائی کو ایک گھریلو روایت سمجھا اور ایمان کی امانت میں خیانت کی۔ جب عذاب کی گھڑی آئی تو پیغمبر کی رفاقت بھی انہیں نہ بچا سکی۔ ان کا قصہ ہمیں پکار پکار کر کہتا ہے کہ ہدایت گھر کی دیواروں میں نہیں، دل کی گہرائیوں میں ہوتی ہے۔ دوسرا منظر ایک عالیشان محل کا تھا۔ وہاں سنگِ مرمر کے ستون تھے، سونے کے تخت تھے او...

The Story of Two Brave Women

تصویر
 افسانہ: دو کناروں کا سنگم ۔۔۔۔۔ یروشلم کی فضاؤں میں ایک عجیب سی خاموشی تھی ، وہ خاموشی جو کسی بڑے طوفان یا کسی بڑے معجزے سے پہلے سنائی دیتی ہے۔ ہیکل کے ایک گوشے میں مریم اپنے حجرے میں ساکت بیٹھی تھیں، ان کے سامنے دیوار پر ڈھلتے سورج کی زرد روشنی ایک لکیر سی بنا رہی تھی۔ دوسری طرف، شہر کی ایک تنگ گلی کے آخری مکان میں ایک ضعیفہ (مریم کی خالہ) مصلے پر جھکی ہوئی تھیں۔ یہ دو عورتیں، جو رشتے میں خالہ اور بھانجی تھیں، قدرت کے ایک ایسے انوکھے امتحان میں مبتلا تھیں جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک طرف وہ وجود تھا جسے زمانے نے "بانجھ" قرار دے کر امید کی ہر کھڑکی بند کر دی تھی۔ وہ ضعیفہ، جن کی ہڈیاں کمزور ہو چکی تھیں اور سر چاندی کی طرح سفید ہو چکا تھا، برسوں سے ایک سونی گود کے ساتھ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھیں۔ مشرق کے اس گھرانے میں اولاد کی کمی صرف ایک تنہائی نہیں تھی، بلکہ ایک خاموش دکھ تھا جو ہر روز زکریا علیہ السلام کے چہرے پر دیکھ کر ان کا دل پاش پاش کر دیتا۔ مگر ان کا یقین اس سوکھی زمین کی طرح تھا جو جانتی ہے کہ بادل جب بھی برسے گا، اسے ہرا کر دے گا۔ پھر ایک دن، جب مص...

افسانہ: دو کناروں کا سنگم

تصویر
   افسانہ: دو کناروں کا سنگم ۔۔۔۔۔ یروشلم کی فضاؤں میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، وہ خاموشی جو کسی بڑے طوفان یا کسی بڑے معجزے سے پہلے سنائی دیتی ہے۔ ہیکل کے ایک گوشے میں مریم اپنے حجرے میں ساکت بیٹھی تھیں، ان کے سامنے دیوار پر ڈھلتے سورج کی زرد روشنی ایک لکیر سی بنا رہی تھی۔ دوسری طرف، شہر کی ایک تنگ گلی کے آخری مکان میں ایک ضعیفہ (مریم کی خالہ) مصلے پر جھکی ہوئی تھیں۔ یہ دو عورتیں، جو رشتے میں خالہ اور بھانجی تھیں، قدرت کے ایک ایسے انوکھے امتحان میں مبتلا تھیں جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک طرف وہ وجود تھا جسے زمانے نے "بانجھ" قرار دے کر امید کی ہر کھڑکی بند کر دی تھی۔ وہ ضعیفہ، جن کی ہڈیاں کمزور ہو چکی تھیں اور سر چاندی کی طرح سفید ہو چکا تھا، برسوں سے ایک سونی گود کے ساتھ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھیں۔ مشرق کے اس گھرانے میں اولاد کی کمی صرف ایک تنہائی نہیں تھی، بلکہ ایک خاموش دکھ تھا جو ہر روز زکریا علیہ السلام کے چہرے پر دیکھ کر ان کا دل پاش پاش کر دیتا۔ مگر ان کا یقین اس سوکھی زمین کی طرح تھا جو جانتی ہے کہ بادل جب بھی برسے گا، اسے ہرا کر دے گا۔ پھر ایک دن، جب م...

رمضان المبارک میں زکوٰۃ اور فطرانہ

تصویر
  رمضان المبارک میں زکوٰۃ اور فطرانہ (زکوٰۃ الفطر) کی ادائیگی کے احکامات درج ذیل ہیں۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ مال پر واجب ہوتی ہے جبکہ فطرانہ ہر صاحبِ حیثیت مسلمان کے ذمے بطورِ خاص واجب ہوتا ہے۔ 1. زکوٰۃ کے احکامات · رمضان میں ادائیگی: اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں اور آپ پر زکوٰۃ فرض ہے تو اسے رمضان میں ادا کرنا جائز ہے۔ اگرچہ ہر شخص کا زکوٰۃ کا اپنا سال (Haul) ہوتا ہے، لیکن رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اندازہ لگا کر پہلے بھی زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ بعد میں اصل رقم سے تصدیق کر لی جائے . · زکوٰۃ کی نیت سے کھانا کھلانا: یاد رہے کہ محض کسی غریب کو افطار کرانا زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے کہ رقم یا چیز مستحق کی ملکیت میں دے دی جائے (تملیک) . اگر آپ نے غریب کو دعوت دے کر کھانا کھلا دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ اگر اسے زکوٰۃ کی رقم سے خریدا ہوا سامان (جیسے ٹوکری) دے دیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی . 2. فطرانہ (زکوٰۃ الفطر) کے احکامات فطرانہ رمضان المبارک کے اختتام پر دیا جانے والا ایک واجب صدقہ ہے۔ · وجوب (کس پر فرض ہے؟): فط...

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف: مسائل و احکامات

تصویر
  رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف: مسائل و احکامات (قرآن و سنت کی روشنی میں) دیباچہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ رحمتوں کی بارش اور برکتوں کی معراج کا نام ہے۔ اس عشرہ کی سب سے بڑی روحانی نعمت "اعتکاف" ہے، جس میں بندہ اپنے خالق و مالک سے قربت حاصل کرنے کے لیے دنیا سے کنارہ کش ہو کر مسجد میں پناہ لیتا ہے۔ اعتکاف دراصل نبی کریم ﷺ کی سنتِ مُستقِلّہ ہے، جسے آپ نے ہجرت کے بعد سے وصال تک کبھی ترک نہیں فرمایا ۔ اس مختصر کتاب میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں اعتکاف کی فضیلت، اس کے احکامات، شرائط اور جدید و قدیم مسائل کو آسان فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ قاری اس سنت نبویﷺ کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو سکے۔ --- باب اول: اعتکاف کی شرعی حیثیت اور قرآن و سنت میں اس کا مقام اعتکاف صرف ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ عباداتِ الٰہیہ میں سے ایک عظیم عبادت ہے جو پچھلی امتوں میں بھی رائج تھی اور اسلام میں اسے خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اعتکاف کا بیان اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر اعتکاف کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلی آیت: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام ک...

رمضان قرآن اور دعا

تصویر
رمضان: قرآن اور دعا روحانیت، رحمت اور مغفرت کا بہترین مجموعہ دیباچہ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ یہ وہ عظیم مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر بیان کرنے والی نشانیاں ہیں۔ اس ماہ مقدس میں عبادات کی قبولیت کی شرح اور اجر و ثواب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کتاب "رمضان: قرآن اور دعا" میں ہم نے رمضان المبارک کی روحانی فضیلتوں کو قرآن اور دعاؤں کے حوالے سے منفرد انداز میں پیش کیا ہے، تاکہ قارئین اس مہینے کی بھرپور روحانی کیفیات سے مستفید ہو سکیں۔ --- باب اول: رمضان اور قرآن کا مقدس رشتہ ماہ رمضان کا قرآن مجید سے گہرا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو قرآن کے نزول کے لیے منتخب کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ" (البقرہ: 185) "رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی واضح نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی چیزیں ہ...

رمضان 2026 سعودی عرب: دنیا کی چکا چوند سے آخرت کی کامیابی تک

تصویر
رمضان 2026 سعودی عرب: دنیا کی چکا چوند سے آخرت کی کامیابی تک سعودی عرب میں Ramadan 2026 کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا مادی ترقی اور ڈیجیٹل شور و غل میں گم ہے۔ سعودی عرب کی تپتی دھوپ اور مقدس فضاؤں میں اس بار رمضان صرف ایک روایتی مہینہ نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو 'ری سیٹ' کرنے کا ایک الہامی موقع ہے۔ اگر ہم ان چار شعبوں کو مینیج کر لیں، تو ہم نہ صرف اس دنیا میں پرسکون رہیں گے بلکہ آخرت کی کامیابی بھی ہمارا مقدر بنے گی۔ 1. وقت کی تنظیم (Time Management: برکت کا حصول) سعودی عرب میں رمضان کے دوران دفتری اور کاروباری اوقات بدل جاتے ہیں، لیکن اصل چیلنج عبادات کے لیے وقت نکالنا ہے۔  * حل: اپنے دن کو نمازوں کے اوقات کے گرد ترتیب دیں۔ فجر سے اشراق اور عصر سے افطار کا وقت 'گولڈن آورز' ہیں۔ ان لمحات کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے ذکرِ الٰہی کے لیے وقف کریں۔ وقت کی قدر وہی ہے جو اسے آخرت کے لیے سرمایہ بنا لے۔ 2. خوراک کی مینجمنٹ (Diet Management: روح کی بالیدگی) سعودی دسترخوان اپنی وسعت اور لذیذ پکوانوں (کبسا، سمبوسہ، حارث) کے لیے مشہور ہیں، لیکن کثرتِ طعام انسان کو ...

Ramadan and the Accountability of the Soul

تصویر
 رمضان 2026 اور احتسابِ نفس مؤرخ لکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں جب بھی کسی قوم نے اپنے پیٹ کی اشتہا کو لگام دی، اس کی روح کے پروں میں پرواز کی طاقت آ گئی۔ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ خالقِ کائنات کی طرف سے اس مٹی کے پتلے کو یہ باور کروانے کی ایک مشق ہے کہ وہ اپنی جبلتوں کا غلام نہیں بلکہ ان کا حاکم ہے۔ کائنات کا پورا نظام ایک الٰہی نظم و ضبط (Discipline) کے تحت چل رہا ہے، اور رمضان ہمیں اسی آفاقی نظم کا حصہ بناتا ہے۔ سن 2026 کا رمضان ایک ایسے پُرفتن دور میں سایہ فگن ہو رہا ہے جہاں انسان اپنی خواہشات کے حصار میں قید ہو چکا ہے۔ 'حیا' اور 'اخلاقیات' جو کبھی مومن کا حقیقی زیور تھیں، اب مصلحتوں اور فیشن کی نذر ہو رہی ہیں۔ ایمان کی منطقی دلیل یہی ہے کہ اگر ایک بندہ اللہ کے حکم پر حلال رزق کو ایک مخصوص وقت کے لیے چھوڑ سکتا ہے، تو وہ ان تمام کاموں کو ہمیشہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑ سکتا جو اس کے رب نے حرام کیے ہیں؟ 'تقویٰ' دراصل اپنی انا اور لذت کو رضائے الٰہی پر قربان کرنے کا نام ہے، اور یہی آخرت کی دائمی کامیابی کی بنیاد ہے۔ جدیدیت کے نام نہاد علمبرداروں اور...

اگلی قسط: تیسرا دروازہ

تصویر
  اگلی قسط: تیسرا دروازہ اس جمعہ وہ جلدی جاگ گیا تھا۔ بغیر الارم کے۔ جیسے کسی نے اندر سے آواز دی ہو: اُٹھو… اب صرف پڑھنا کافی نہیں۔ سورۃ کہف کھلی۔ مگر آج نظر آیات پر نہیں، خاموشیوں پر تھی۔ وہ سوچ رہا تھا: دو گروہ تو سمجھ آ گئے— ایک حساب میں گم ایک یقین میں مطمئن مگر دل نے سوال کیا: کیا بس یہی دو راستے ہیں؟ آنکھ بند ہوئی اور وہ پھر غار کے سامنے تھا۔ مگر اس بار حیرت ہوئی۔ غار کا دہانہ بند نہیں تھا۔ ایک تیسرا دروازہ کھلا تھا— نہ مکمل اندھیرا نہ مکمل روشنی۔ وہ اندر گیا۔ وہاں کوئی لیٹا ہوا نہیں تھا۔ کوئی سویا ہوا نہیں تھا۔ بس ایک شخص بیٹھا تھا، سر جھکا ہوا، ہاتھ خالی، آنکھیں بند۔ نہ ریت گھڑی نہ آسمان کی طرف نگاہ وہ بول پڑا: “تم کون ہو؟” جواب فوراً نہیں آیا۔ پھر آہستہ سے آواز ابھری: “میں وہ ہوں جو گنتا بھی نہیں اور انکار بھی نہیں کرتا۔” وہ الجھ گیا۔ “تو پھر تم کیا کرتے ہو؟” آواز میں سکون تھا: “میں انتظار کرتا ہوں۔” “کس کا؟” “اُس لمحے کا جب اللہ خود وقت کو بولنے دے۔” وہ چونکا۔ “تمہیں معلوم نہیں کتنی دیر گزر چکی؟” خاموش مسکراہٹ۔ پھر جواب آیا: “جب دل جاگ جائے تو مدت سوال نہیں رہتی۔” تب اسے ...

اگلی قسط: وقت کے پار سوال

تصویر
  اگلی قسط: وقت کے پار سوال اس جمعہ، اس نے سورۃ کہف کھولی تو دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ جیسے پچھلی قسط ختم نہیں ہوئی تھی، بس وقفہ آیا تھا۔ وہی آیت… مگر آج لفظ “أَحْصَى” اس کی نظر میں ٹھہر گیا۔ کس نے زیادہ درست شمار کیا؟ وہ سوچنے لگا: اگر اللہ نے مدت بھی بتا دی، پھر شمار پر سوال کیوں؟ اسی لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ پھر غار کے قریب ہے— مگر اس بار غار اندھیرے میں نہیں تھا۔ اندر ہلکی سی روشنی تھی، جیسے کسی دل میں یقین جاگ رہا ہو۔ غار کے دہانے پر دو آدمی بیٹھے تھے۔ ایک کے ہاتھ میں ریت گھڑی تھی۔ وہ ہر دانہ گن رہا تھا، بےچینی سے۔ دوسرے کے ہاتھ خالی تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پہلا بولا: “اگر میں درست گن لوں تو سچ میرے پاس ہوگا۔” دوسرا مسکرایا: “اور اگر وقت ہی مخلوق ہو تو گنتی کس کی؟” وہ آگے بڑھا۔ “تم میں سے کون درست ہے؟” ریت گھڑی والا بولا: “میں! کیونکہ میرے پاس حساب ہے۔” آسمان کو دیکھنے والے نے آہستہ کہا: “میں نہیں جانتا—اور یہی میرا علم ہے۔” تب غار کے اندر سے آواز آئی، نرم مگر فیصلہ کن: “درست شمار وہ نہیں جو عدد جان لے، درست شمار وہ ہے جو حد جان لے...

غار میں سویا ہوا وقت

  غار میں سویا ہوا وقت ہر جمعہ کی طرح اس جمعہ بھی، فجر کے بعد اس نے سورۃ کہف کھولی۔ صفحات تو وہی تھے، مگر آج الفاظ کچھ زیادہ خاموش تھے، جیسے کسی گہرے راز کو زبان دینے سے پہلے توقف کر رہے ہوں۔ وہ آیت پر آ کر ٹھہر گیا: “ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ…” اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اچانک اسے یوں لگا جیسے وہ کسی غار کے دہانے پر کھڑا ہے۔ باہر دھوپ ہے، اندر گہری ٹھنڈک۔ غار کے اندر چند نوجوان لیٹے ہیں۔ ان کے چہرے پُرسکون ہیں، جیسے وقت نے انہیں چھونا چھوڑ دیا ہو۔ وہ آگے بڑھا۔ “تم کب سے سو رہے ہو؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔ ایک نوجوان نے آنکھیں کھولیں، مسکرایا، اور کہا: “ایک دن… یا شاید اس کا کچھ حصہ۔” وہ چونک گیا۔ باہر صدیوں کی گرد جمی تھی، سلطنتیں بدل چکی تھیں، زبانیں مر چکی تھیں، مگر یہاں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔ وہ سمجھ گیا: یہ نیند نہیں تھی، یہ اعلان تھا۔ یہ غفلت نہیں تھی، یہ قدرت تھی۔ اسی لمحے غار کے باہر دو آوازیں سنائی دیں۔ ایک آواز کہہ رہی تھی: “تین سو سال! یہ ناممکن ہے۔” دوسری آواز بولی: “اگر وقت اللہ کے ہاتھ میں ہو، تو صدی اور لمحہ برابر ہیں۔” وہ باہر آیا تو دیکھا:...

ای-بک: بریرہ

تصویر
  ---  ای-بک: بریرہ – ایک ماں کی سچائی اور خاموشی کی ڈھال (ایڈیشن: مارچ 2026) --- پیش لفظ: سچ کی دستاویز "To study psychological trauma is to come face-to-face with human vulnerability in the natural world and with the capacity for evil in human nature." (نفسیاتی صدمے کا مطالعہ کرنا قدرتی دنیا میں انسانی کمزوری اور انسانی فطرت میں برائی کی صلاحیت کا سامنا کرنا ہے۔) — جوڈتھ ہرمن (Judith Herman)، "Trauma and Recovery" یہ کتاب محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ماں کا اپنی بیٹی کے نام وہ عہد نامہ ہے جو اسے مستقبل کے اندھیروں سے بچائے گا۔ بریرہ، میری جان، جب تم اس کتاب کو پڑھو گی تو شاید تم جوان ہو چکی ہو گی، شاید تم خود ایک ماں بن چکی ہو گی، یا شاید زندگی تمہیں کسی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے جہاں تمہیں یہ جاننے کی ضرورت ہو کہ تم کہاں سے آئی ہو اور تمہارے ساتھ کیا گزرا ہے۔ اس کتاب کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ وقت گزرنے کے ساتھ حقائق مسخ ہو جاتے ہیں۔ لوگ اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے کہانیوں کے نئے رنگ بھرتے ہیں، اور کبھی کبھی تو وہ خود کو ہیرو اور متاثرین کو ولن بنا کر پیش کرتے ہیں۔...