افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے
افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے قسط اول "ہر انسان کی زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت نہیں، اللہ کی حکمت بھرتی ہے۔" رات کے آخری پہر کا سناٹا ہمیشہ اسے اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ گھر کے تمام کمرے خاموش تھے، مگر اس کے دل میں ایک ہجوم آباد تھا۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اسے یوں محسوس ہوتی جیسے وقت اس کے زخم گن رہا ہو۔ کھڑکی سے باہر آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ کہیں دور بجلی چمکی، مگر بارش نہ ہوئی۔ بالکل اس کی زندگی کی طرح... شور بہت تھا، سکون کہیں نہیں تھا۔ زینب نے آہستہ سے الماری کھولی۔ اوپر والی شیلف پر رکھا قرآن مجید احتیاط سے اٹھایا، اسے چوما اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آج اس کا ارادہ صرف تلاوت کا نہیں تھا۔ وہ جواب ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر کچھ لوگ زندگی بھر صرف آزمائشیں ہی کیوں دیکھتے ہیں؟ وہ برسوں سے یہ سوال اپنے رب سے کرتی آ رہی تھی۔ "یا اللہ! کیا ہر درد میرے ہی حصے میں لکھا تھا؟" جواب کبھی آواز میں نہیں آیا، مگر قرآن ہر بار کچھ نہ کچھ ضرور کہہ دیتا تھا۔ اس نے سورۂ یوسف کھولی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ وہ یہ سورت پڑھ رہی تھی۔ شاید پچاسویں یا سویں ...