اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا

تصویر
  ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ مغرب کی اذان ہو چکی تھی، مگر گھر کے اندر چراغ ابھی تک نہیں جلا تھا۔ حارث چارپائی کے کنارے بیٹھا تھا۔ سامنے چند کاغذ بکھرے ہوئے تھے۔ کسی پر قرض کی رقم لکھی تھی، کسی پر دوا کا خرچ، اور ایک کاغذ پر صرف ایک لفظ تھا: "نامنظور" آج پورا دن وہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پھرتا رہا تھا۔ کسی نے کہا، "ابھی میرے حالات بھی اچھے نہیں۔" کسی نے نظریں چرا لیں۔ کسی نے وعدہ کیا، مگر وعدہ بھی شام تک ٹوٹ گیا۔ وہ تھکے قدموں سے گھر لوٹا تو یوں محسوس ہوا جیسے سارا شہر اس کے لیے تنگ ہو گیا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر طاق پر رکھے قرآن مجید پر پڑی۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر آہستہ سے قرآن اٹھایا۔ صفحات پلٹتے پلٹتے اس کی نگاہ ایک آیت پر ٹھہر گئی۔ ﴿وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۖ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا﴾ وہ دیر تک اسی آیت کو دیکھتا رہا۔ اچانک اسے اصحابِ کہف یاد آ گئے۔ وہ بھی تو ایک پناہ کی تلاش میں نکلے تھے۔ اللہ نے انہیں ا...

مصحف سے پہلے

تصویر
 ‎ ‎ ‎پیش لفظ ‎ ‎یہ کتاب کسی بڑے دعوے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ ‎نہ میں مفسر ہوں، نہ محدث، نہ رات دن کی محنت کرنے والی عالم۔ ‎میں بس ایک سیاح ہوں — اس وادی کی سیاح جہاں دور دور تک نور کے پہاڑ تھے، اور میں نے ان کے سائے میں بیٹھ کر اپنی بے تعلقی کا احساس کیا۔ ‎ہم عجمی۔ ‎ہماری نسلوں نے قرآن کو تلاوت تو کر لیا، بلکہ کھانے پکانے والی آوازوں میں بھی اس کی آیات گونجیں۔ لیکن افسوس! جب تعلق کی بات آئی، تو ہم صدیوں سے قرآن کے صحن میں کھڑے مسافر ہیں، جس کے اندر کبھی داخلہ نہیں ملا۔ ‎رسم و رواج میں ہم نے مصحف کو عزت دی، لیکن وہ لذت، وہ وجد، وہ رقت جو نبی علیہ السلام کے جگر پر وحی کے اترتے ہی طاری ہو جاتی تھی — وہ ہمارے حصے میں کب آئی؟ ‎ ‎جب میں نے غور کیا تو ایک ایک کر کے پردے اٹھتے گئے۔ ‎لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا تک کا ایک سفر تھا۔ ‎آسمانِ دنیا سے قلبِ نبی ﷺ تک کا ایک اور سفر تھا۔ ‎قلبِ نبی سے صحفِ صدیقی تک کا سفر۔ ‎پھر صحف سے مصحفِ عثمانی تک۔ ‎مصحفِ عثمانی سے اعراب و نقاط تک۔ ‎اور پھر ہمارے ہاتھوں میں یہ پرنٹ شدہ، ڈیجیٹل، یکساں، سادہ سا مصحف — جسے ہم بے زحمت کھول کر پڑھتے ہیں۔ ‎ ‎یہی وہ مقام ہے...

افسانہ: خاموش جنگل کی گونج

تصویر
  افسانہ: خاموش جنگل کی گونج آنکھیں بند تھیں، اور سانسیں آہستہ آہستہ جیسے کسی پوشیدہ تال پر چل رہی تھیں۔ باہر کی دنیا پیچھے رہ گئی تھی، اور اندر ایک اور ہی کائنات کھل رہی تھی—لفظوں کی کائنات، احساسات کی کائنات، اور ایک ایسی خاموشی جو شور سے زیادہ بولتی تھی۔ ذہن کی راہداریوں میں چمکتے ہوئے لفظ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ وہ آگے آگے دوڑ رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے پیچھے کسی انجانی سی کیفیت میں چلتی چلی جا رہی تھی۔ جیسے کوئی مجھے بلائے بھی نہیں اور میں پھر بھی اس آواز کے پیچھے چل پڑوں۔ پھر اچانک وہ راستہ بدل گیا۔ لفظوں کی روشنی ایک گھنے جنگل میں جا گری۔ ایسا جنگل جو خوبصورت بھی تھا اور پراسرار بھی۔ درخت اونچے تھے، مگر ان کی چھاؤں میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ ہوا ٹھہری ہوئی تھی، جیسے کسی بڑی خبر کے انتظار میں ہو۔ اور اسی جنگل کے درمیان وہ الفاظ کھڑے تھے… “فَأَجَآءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ…” میں رک گئی۔ یہ کوئی عام جملہ نہیں تھا۔ یہ تو جیسے وقت کے سینے سے نکلتا ہوا ایک درد تھا، جو صدیوں سے سانس لے رہا تھا۔ ہر لفظ ایک کہانی تھا، اور ہر کہانی کے اندر ایک ...

پہلے عمرے

تصویر
جب میں پہلے عمرے کیلئے مسجد الحرام پہنچی تو میرے داماد اور بیٹی نے مجھے دائیں بائیں سے پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا: “امی! آنکھیں بند کر کے چلیں… اور جیسے ہی ہم کہیں کہ آپ خانہ کعبہ کے سامنے ہیں تو فوراً اپنی دعائیں مانگ لیجیے گا۔” میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترتی ہوئی چل رہی تھی۔ دل عجیب کیفیت میں تھا۔ پھر اچانک دونوں بچوں نے کہا: “امی… اب آنکھیں کھولیں۔ آپ خانہ کعبہ کے بالکل سامنے ہیں…” جونہی میں نے آنکھیں کھولیں اور پہلی نظر خانہ کعبہ پر پڑی… نہ کوئی دعا یاد رہی… نہ کوئی ہوش باقی رہا… یہ سیاہ غلافِ کعبہ کی ہیبت تھی یا ربِ کعبہ کا جلال… دل کی دنیا تہ و بالا ہوگئی۔ میں جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ دماغ کہیں تھا، دل کہیں اور… بعد میں میں لوگوں سے پوچھتی تھی: “کیا آپ کو پہلی نظر میں دعائیں مانگنی یاد رہی تھیں؟” کیونکہ مجھے تو کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا۔ بچوں نے مجھے ہلایا: “امی… دعا مانگیں…” تب میرے منہ سے پہلا لفظ نکلا: “سبحان اللہ…” اور پھر بے اختیار کہا: “اللہ… میں تو اس قابل نہیں تھی۔ آپ کتنے مہربان ہیں…” آج میں اس اللہ کے گھر کے سامنے کھڑی تھی… اس رب کے گھر… جسے ہم ہر دکھ، ہر خوشی، ہر پریشانی اور ہر ...

آٹھواں دروازہ

تصویر
آٹھواں دروازہ ایک روحانی افسانہ — یومِ ترویہ کے راز ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ تھی۔ مکہ کی صبحوں میں ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے سورج یہاں زمین پر نہیں۔۔۔ دلوں کے اندر طلوع ہوتا ہے۔ فضا میں لبیک کی صدائیں تیر رہی تھیں۔ سفید احراموں میں لپٹے لوگ ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے دنیا اپنی تمام پہچانیں اتار کر ایک ہی نام میں سمٹ آئی ہو: “عبد” حرم کے صحن میں، طواف کے شور کے باوجود ایک گہری خاموشی تھی۔ اور اسی خاموشی کے بیچ، زہرہ بیٹھی تھی۔ وہ لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی میں اسلامیات کی استاد تھی۔ الفاظ سے محبت کرتی تھی۔۔۔ مگر کچھ عرصے سے الفاظ اس سے روٹھ گئے تھے۔ وہ دوسروں کو دین سمجھاتی تھی، مگر خود اپنے اندر ایک عجیب خلا محسوس کرتی تھی۔ نماز پڑھتی۔۔۔ قرآن پڑھتی۔۔۔ لیکچر دیتی۔۔۔ لیکن دل میں ایک سوال ہر وقت جاگتا رہتا: “کیا عبادت صرف عمل کا نام ہے۔۔۔ یا کبھی انسان واقعی اللہ تک بھی پہنچتا ہے۔۔۔؟” اسی سوال نے اُسے حج تک پہنچایا تھا۔ اس دن وہ مطاف کے ایک کونے میں بیٹھی لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہر چہرہ الگ تھا۔۔۔ مگر سب کی آنکھوں میں ایک جیسی نمی تھی۔ تبھی اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑ...

جمعہ کی صبح تھی۔

تصویر
  جمعہ کی صبح تھی۔ آسمان پر ہلکی سفیدی پھیلی ہوئی تھی اور شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔ گلیاں خاموش تھیں، ہوا ٹھنڈی تھی، مگر عائشہ کے ذہن میں عجیب سا شور تھا۔ مسلسل کئی دنوں سے وہ لوگوں کے مسائل سن رہی تھی۔ کبھی کسی کی ٹوٹی ہوئی زندگی، کبھی کسی کی بےسکونی، کبھی کسی کی خاموش اذیت۔ وہ سب کو حوصلہ دیتی تھی، مگر آہستہ آہستہ خود اندر سے تھکنے لگی تھی۔ رات اس نے دوا لی تھی تاکہ نیند آسکے۔ نیند تو آگئی، مگر صبح اچانک وہ خوفزدہ ہوکر جاگ اٹھی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ “فجر…!” وہ فوراً بستر سے اٹھی، جلدی جلدی وضو کیا اور جائے نماز پر کھڑی ہوگئی۔ نماز پڑھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی تھی، جیسے وہ نماز نہیں بلکہ کسی محفوظ پناہ گاہ میں آگئی ہو۔ سلام پھیرنے کے بعد اس نے فوراً کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ الحمدللہ۔ اس نے سکون بھرا سانس لیا اور دل میں سوچا: “اگر آج فجر قضا ہوجاتی تو شاید پورا دن اداس گزرتا…” نماز اور اذکار کے بعد وہ دوبارہ سوگئی۔ جب اگلی بار آنکھ کھلی تو جسم میں ابھی بھی تھکن باقی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھی، ناشتہ تیار کیا، امی کے لیے پ...

افسانہ: “جب اسکرین ٹوٹ گئی”

تصویر
  افسانہ: “جب اسکرین ٹوٹ گئی” شہر کی صبحیں عام طور پر شور سے شروع ہوتی ہیں، مگر اس شہر میں ایک اور شور بھی تھا—اسکرینوں کا شور۔ ہر ہاتھ میں موبائل، ہر آنکھ میں روشنی، اور ہر دل میں ایک ہی خواہش: نظر آ جاؤں، پہچان بن جاؤں، وائرل ہو جاؤں۔ اس شہر میں ایک لڑکا تھا—حماد۔ نہ بہت پڑھا لکھا، نہ بالکل جاہل۔ بس ایک عام سا لڑکا جس کے اندر ایک غیر معمولی خواہش پلنے لگی تھی: “مجھے بھی لوگ جانیں گے…” یہ جملہ اس کے دل میں پہلی بار اُس دن آیا تھا جب اس کی ایک چھوٹی سی ویڈیو پر چند ہزار ویوز آئے تھے۔ وہ لمحہ اس کے لیے ایسے تھا جیسے کسی نے اندھیرے کمرے میں اچانک روشنی کر دی ہو۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ہر روشنی رہنمائی نہیں ہوتی، کچھ روشنی صرف جلانے کے لیے بھی ہوتی ہے۔ حماد کی ماں اسے اکثر سمجھاتی تھی: “بیٹا، نام سے زیادہ کام اچھا ہونا چاہیے…” مگر وہ مسکرا کر ٹال دیتا۔ باپ خاموش تھا۔ بس کبھی کبھی اخبار رکھتے ہوئے ایک آہ بھری نگاہ بیٹے پر ڈال دیتا، جیسے وہ کچھ دیکھ رہا ہو جو آنے والا ہے مگر روک نہیں سکتا۔ شروع میں سب سادہ تھا۔ مزاحیہ ویڈیوز، دوستوں کے ساتھ مذاق، ہلکی پھلکی شہرت۔ پھر آہستہ آہ...

🌿 استقامت

تصویر
  🌿 استقامت صبح ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھی۔ کھڑکی کے پردوں سے ہلکی سی روشنی اندر آ رہی تھی، جیسے رات اور دن کے درمیان کوئی نرم سی لکیر کھینچی گئی ہو۔ گھر میں خاموشی تھی، صرف دیوار کی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔ وہ چولہے کے پاس کھڑی چائے بنا رہی تھی، مگر اس کے ہاتھ آج کچھ زیادہ آہستہ چل رہے تھے۔ ہر کام جیسے سوچ مانگ رہا ہو۔ بیٹی اسکول کے لیے تیار ہو رہی تھی، اور گھر کا سارا نظم اب اسی کے کندھوں پر تھا۔ کچھ مہینے پہلے یہ گھر ایسا نہیں تھا۔ اس گھر میں ایک آواز تھی، جو صبح ہوتے ہی کہتی تھی: “جلدی اٹھو… وقت ہو گیا ہے” اور ایک موجودگی تھی جو ہر چیز کو آسان بنا دیتی تھی، چاہے دن کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ اب وہ آواز نہیں تھی۔ صرف یاد رہ گئی تھی۔ وہ چائے کا کپ لے کر بیٹھ گئی۔ سامنے دیوار پر ٹنگی گھڑی اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وقت گزر نہیں رہا، بس چل رہا ہے۔ دل کے اندر اچانک ایک لہری سی اٹھی۔ وہی پرانی باتیں، وہی آخری دن، وہی جملہ: “سو جاؤ… صبح اسکول جانا ہے” اس نے آنکھیں بند کیں۔ کچھ دیر کو لگا جیسے سانس رک جائے گی۔ مگر پھر کہیں اندر سے ایک ہلکی سی آواز اٹھی—نہ باہر کی،...

ناول: 21 کنکر

تصویر
  ناول: 21 کنکر مصنفہ: روبینہ شاہین قسط نمبر 1: نیت کا پہلا کنکر کھڑکی سے چھن کر آنے والی چاندنی نے کمرے کے فرش پر ایک مدہم سی لکیر کھینچ رکھی تھی۔ رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا اور فضا میں ایک عجیب سا، سحر انگیز سکون پھیلا ہوا تھا۔ ذوالحجہ کا چاند نمودار ہوئے کچھ ہی گھنٹے گزرے تھے—نیا چاند، جو اپنے ساتھ ہجری سال کے آخری اور بابرکت ترین مہینے کا پیغام لایا تھا۔ صائمہ نے بستر پر کروٹ بدلی۔ دن بھر کی تھکن، گھر کے الجھے ہوئے حالات، اور سب سے بڑھ کر وہ اندرونی تنہائی جس کا کوئی مداوا نہیں دکھتا تھا، اس کے اعصاب پر سوار تھی۔ وہ زندگی کی اس لایعنی دوڑ، سوشل میڈیا کی سکرین پر تیرتے فتنوں کی چکا چوند، اور نام و نمود کی ہوس سے اندر سے شدید خالی پن کا شکار ہو چکی تھی۔ اس کے سب سے پیارے، اس کے قریبی رشتے اس کی اسی بے حسی کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس سے دور ہو رہے تھے۔ دل تو جیسے مٹی کا وہ برتن بن چکا تھا جس میں دنیا بھر کے شکوے، فکریں اور اداسیاں آ کر جمع ہو گئی تھیں۔ اس نے تکیے کے پاس رکھا فون اٹھایا۔ کسی مخلص دوست کا بھیجا ہوا ایک پیغام سکرین پر چمک رہا تھا: > "ذی الحجہ کا چاند نظر آ چکا ...

شعور کی کنکریاں

تصویر
  شعور کی کنکریاں حرم پاک کے صحن میں عقیدت مندوں کا ایک سمندر تھا جو موجیں مار رہا تھا، لیکن مقیت کے دل کے اندر وسوسوں اور الجھنوں کا ایک الگ ہی طوفان برپا تھا۔ ذوالحجہ کا دوسرا دن تھا—وہ دن جو مناسکِ حج کی گہماگہمی اور روح کی بیداری کا پیغام لے کر آیا تھا۔ مقیت نے اپنے ہاتھ میں تسبیح تھام رکھی تھی، مگر اس کا ذہن جمرات کی طرف جانے والے راستے پر نہیں، بلکہ اپنے ماضی کے پچھتاووں اور حال کی بے سکونیوں میں بھٹک رہا تھا۔ انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ باہر کے شیطانوں کو تو دور سے پہچان لیتا ہے، مگر اپنے اندر پلنے والے حسد، انا اور وسوسوں کے شیطان سے بے خبر رہتا ہے۔ مقیت کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ اس کا ہنستا کھیلتا گھر، اس کی محبتیں، اور اس کے پختہ رشتے—سب کسی "تیسرے عنصر" کی لائی ہوئی دوریوں کی نذر ہو چکے تھے۔ وہ "تیسرا" کوئی انسان نہیں تھا، بلکہ ایک بے قابو انا، موبائل کی سکرین پر تیرتے فتنوں کی چکا چوند، اور دلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے خاموش فاصلے تھے۔ "رمیِ جمرات محض ایک ظاہری عمل نہیں ہے میرے بھائی!" اچانک اس کے برابر میں چلتے ہوئے ایک بوڑھے، نورانی چہرے...

میرا سوہنا شہر لاہور

تصویر
  میرا سوہنا شہر لاہور قسط اول جیسے انسانی زندگی کی ابتدا دل سے ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی میرے اس سفر کی ابتدا پاکستان کے دل لاہور سے ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ شہروں سے آپ کا رشتہ ازل سے جڑا ہوتا ہے، وہ آپ کو اپنی طرف ایسے کھینچتے ہیں جیسے مقناطیس۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ ۱۹۹۵ء کی بات ہے جب میں دسویں جماعت کے پیپرز دینے کے بعد پہلی بار پورے ہوش و حواس میں لاہور آئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے کبھی لاہور نہیں آئی تھی، آئی تو کئی بار تھی، لیکن بچپن کے وہ پھیرے بس یوں ہی تھے جن کی یادیں دھندلی تھیں۔ بڑے ہونے کے بعد، اپنی صوابدید پر، یہ میرا لاہور کا پہلا پھیرا تھا اور اسی پہلے ہی پھیرے میں مجھے اس شہر سے ایسا عشق ہوا کہ ٹھیک تین سال بعد ہم ہمیشہ کے لیے ضلع اوکاڑہ سے لاہور شفٹ ہو گئے۔ وہ شام اور ٹرین کا سفر مجھے آج بھی وہ رات بہت اچھی طرح یاد ہے جب ہم نے اوکاڑہ سے لاہور کے لیے رختِ سفر باندھا تھا۔ امی نے ہمیشہ کی طرح اپنی پرانی روایت کے مطابق شام ہوتے ہی ہمیں کھانا کھلا کر سلا دیا۔ ہمیں رات گیارہ بجے کی ٹرین پکڑنی تھی، اس لیے ہم سب دوبارہ سو کر اٹھے تھے۔ آج کے دور میں ...

میراثِ تمنا

تصویر
 میراثِ تمنا شہر کی بلند و بالا عمارت کے چالیسویں فلور پر بنے اس عالیشان دفتر میں خاموشی کا راج تھا، صرف اس مدھم سی آواز کے ساتھ جو مہنگے کافی میکر سے نکل رہی تھی۔ فواد نے ہاتھ میں پکڑا سنہرا قلم میز پر رکھا اور سامنے پھیلے ہوئے شہر کو دیکھنے لگا۔ اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کا خواب اس نے بیس سال پہلے ایک تنگ گلی کے بوسیدہ مکان میں دیکھا تھا۔ کامیابی، شہرت، اختیار اور بے حساب دولت۔ مگر اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو ایک فاتح کی ہونی چاہیے۔ اس کے سامنے میز پر ایک پرانی ڈائری کھلی تھی، جس کے زرد کاغذ پر اس کے باپ نے مرنے سے پہلے ایک آیت لکھی تھی: اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْہُدٰی (یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی) آج فواد کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، مگر دل خالی تھا۔ اسے لگا جیسے اس نے زندگی کے بہترین سال ایک ایسی دوڑ میں کھو دیے ہوں جس کا اختتام صرف تھکن تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس نے کتنی بار ضمیر کی آواز کو دبا کر “ترقی” کے نام پر وہ راستے اختیار کیے جن پر دل اندر سے خاموش احتجاج کرتا رہا۔ اسی بے چینی میں اس نے اچانک فیصلہ کیا۔ وہ اٹھا، فائلیں ب...

افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی

تصویر
  افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی گھر کے صحن میں آج بھی وہی پرانی لکڑی کی کرسی رکھی تھی، جس پر بیٹھ کر امی ہمیں بارش اور بجلی کے وقت سنبھال لیا کرتی تھیں۔ آسمان پر اگر بادل گرجتے تو پورا گھر جیسے ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جاتا۔ بچپن تھا، اور بچپن میں ڈر بھی سچ لگتا ہے اور کہانیاں بھی حقیقت۔ “جلدی! حضرت بابا فرید شکر گنج کا نام لو… بجلی ڈرتی ہے!” امی کی آواز کے ساتھ ہم سب بہن بھائی ایک دائرے میں کھڑے ہو جاتے۔ جیسے الفاظ نہیں، کوئی حفاظتی حصار بنا رہے ہوں۔ ہر چمک کے ساتھ آواز بلند ہوتی جاتی، اور ہر گرج کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی۔ “بابا فرید شکر گنج… بابا فرید شکر گنج…” ہمیں لگتا تھا جیسے آسمان کی آگ کسی نام سے تھم جائے گی۔ جیسے بجلی سن لے گی اور راستہ بدل لے گی۔ وقت گزرتا گیا، مگر کچھ باتیں وقت سے نہیں بدلتی تھیں۔ وہی ڈر، وہی عادتیں، وہی سرگوشیاں۔ پھر زندگی نے ایک نیا دروازہ کھولا۔ کتابیں، مطالعہ، اور قرآن کا ترجمہ… اور پہلی بار دل نے وہ سوال کیا جو بچپن میں کبھی نہ اٹھا تھا: کیا حفاظت الفاظ میں ہے… یا اللہ کے حکم میں؟ ایک شام آسمان پھر سیاہ ہوا۔ بادل گرجے۔ بجلی کڑکی۔ مگر اس بار منظر ...

افسانہ: جائیدادِ عشق

تصویر
  افسانہ: جائیدادِ عشق شہر کے سب سے روشن کیفے میں قہقہوں اور باتوں کا شور اپنے عروج پر تھا۔ زویا اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں گھری ہوئی تھی، جہاں ہر کوئی اس کی کامیابی اور اس کی شخصیت کا گرویدہ نظر آتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اس موڑ پر تھی جہاں اسے واقعی محسوس ہو رہا تھا کہ دنیا اس کے قدموں میں ہے۔ کامیابی، جوانی اور لوگوں کی ستائش… سب کچھ اسے حاصل تھا۔ اسی دوران اس کے فون پر ایک پرانا پیغام چمکا: “اصل مزہ تب ہے جب دنیا تمہیں چاہ رہی ہو اور تم اپنے رب کی چاہت میں مبتلا ہو جاؤ۔” زویا نے ایک گہرا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر آسمان کی وسعتوں کو دیکھنے لگی۔ اسے محسوس ہوا کہ تالیاں اور تعریفیں کسی سراب کی طرح ہیں۔ اس نے سوچا، بیماری یا بڑھاپے میں تو ہر کوئی اللہ کی طرف پلٹتا ہے، کیونکہ تب کوئی اور سہارا باقی نہیں رہتا۔ مگر اس وقت، جب اس کی رگوں میں جوانی کا لہو دوڑ رہا ہے اور اس کے پاس انتخاب کی پوری طاقت موجود ہے، اگر وہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھائے تو یہی اس کی اصل جائیداد ہوگی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور وضو کرنے چلی گئی۔ پانی کی ہر بوند کے ساتھ اسے یوں لگا جیسے وہ صرف چہرہ نہیں بلکہ اپنی روح کی دھو...

: **بساط کے آخری مہرے**

تصویر
  : **بساط کے آخری مہرے** **لاہور، 13 مئی 2026** رات کے ڈھائی بج رہے تھے، لیکن عدیل کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔ اس کے سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ارجنٹائن کے ساحل سے دور، سمندر کے بیچوں بیچ پھنسے ہوئے کروز شپ 'ایم وی ہونڈیئس' کی دھندلی سی ویڈیو چل رہی تھی۔ جہاز کے ڈیک پر موجود مسافروں کی چیخیں تو سنائی نہیں دے رہی تھیں، لیکن ان کے لڑکھڑاتے قدم اور ایک دوسرے کی طرف بے مقصد لپکنا عدیل کے جسم میں سنسنی دوڑا رہا تھا۔ "بالکل وہی منظر..." وہ بڑبڑایا۔ "ٹرین ٹو بوسن کا وہ پہلا ہرن... بس اب یہ ایک جہاز ہے۔" عدیل ایک فری لانس صحافی تھا جس نے 2021 میں 'زومبی وائرس اور عالمی بساط' کے نام سے ایک کالم لکھا تھا۔ اس وقت لوگوں نے اسے ایک فلمی دیوانے کی بڑ قرار دیا تھا، لیکن آج جب دنیا اسے 'ہنٹا وائرس' کا نیا ورژن کہہ رہی تھی، عدیل جانتا تھا کہ یہ صرف ایک پردہ ہے۔ اس کی نظریں میز پر رکھی کالی بوتل پر پڑیں، جس کا لیبل ایک حالیہ اربوں ڈالر کے عالمی گٹھ جوڑ کی گواہی دے رہا تھا۔ اس نے ایک جھرجھری لی اور اسے اٹھا کر سنک میں بہا دیا۔ کالی رنگت والا وہ مائ...

کریٹیو رائٹنگ کیوں ضروری ہے؟

تصویر
 کریٹیو رائٹنگ کیوں ضروری ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ الفاظ میں وہ طاقت ہے جو کسی کی سوچ بدل سکتی ہے؟ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ لکھنا صرف ایک مشغلہ ہے، لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ ایک بہترین کیریئر بھی ہے۔ 1. اپنے خیالات کو زبان دیں: ہم سب کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، لیکن اسے درست الفاظ میں ڈھالنا ایک فن ہے۔ کریٹیو رائٹنگ آپ کو اپنے احساسات کو صفحہ قرطاس پر اس طرح بکھیرنا سکھاتی ہے کہ قاری آپ کے لفظوں میں کھو جائے۔ 2. ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا ہتھیار: آج ہر برانڈ، ہر بلاگ اور ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایک اچھے لکھاری کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس لکھنے کی مہارت ہے، تو آپ گھر بیٹھے بلاگنگ، مواد نگاری (Content Writing) اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔ 3. میرا 10 سالہ تجربہ اب آپ کے لیے: میں نے گزشتہ 10 سالوں سے اپنا آن لائن تعلیمی ادارہ چلایا ہے اور اپنے بلاگ کے ذریعے لاکھوں قارئین تک رسائی حاصل کی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ جو مہارت میرا جنون ہے، وہ آپ کا پیشہ بنے۔ 4. اس کورس میں خاص کیا ہے؟ • ایک ماہ کا جامع کورس: صرف 1000 روپے میں وہ تمام گر سیکھیں جو آپ کو ایک ماہر ل...

حصہ دوم: آزمائش کی گھڑی

تصویر
  حصہ دوم: آزمائش کی گھڑی اگلی صبح جب اذلان اسکول کے لیے تیار ہو رہا تھا تو اس کے چہرے پر وہ بوجھ نہیں تھا جو عموماً ٹیسٹ والے دن ہوتا ہے۔ زویا نے اسے الوداع کہتے ہوئے صرف اتنا کہا، یاد رکھنا اذلان، کاغذ کا وہ ٹکڑا تمہاری قابلیت نہیں، صرف تمہاری یادداشت کا امتحان لے رہا ہے۔ تم اس سے بڑے ہو۔ اسکول کا منظر: تصادم کلاس روم میں ریاضی کا ٹیسٹ شروع ہوا۔ اذلان نے سوالات دیکھے۔ کچھ سوالات روایتی فارمولوں سے حل ہونے والے تھے، لیکن ایک سوال ایسا تھا جو منطق مانگ رہا تھا۔ اذلان نے اسے اسی طریقے سے حل کیا جو زویا نے کل اسے باورچی خانے میں اشیاء کی تقسیم کے دوران سمجھایا تھا۔ جب رزلٹ آیا تو اذلان کے اس جواب پر کراس لگا ہوا تھا۔ مس، میرا جواب درست ہے۔ اذلان نے ہمت جمع کر کے کہا۔ مس مارگریٹ نے عینک کے اوپر سے اسے دیکھا۔ اذلان، جواب درست ہو سکتا ہے لیکن طریقہ وہ نہیں جو میں نے کلاس میں لکھوایا تھا۔ اگر ہر بچہ اپنی مرضی کرنے لگا تو نظم و ضبط کہاں رہے گا؟ اذلان خاموش ہو گیا، لیکن اس کے اندر ایک سوال نے جنم لیا۔ کیا نظم و ضبط سوچنے کی آزادی سے زیادہ اہم ہے؟ شام کی نشست: ایک نیا موڑ گھر آ کر ...

خالی بستہ

تصویر
 خالی بستہ نیویارک کی سرد صبح میں کھڑکی کے باہر برف کی باریک تہہ جم رہی تھی اور دس سالہ اذلان اپنا بستہ تیار کر رہا تھا۔ اس کی انگلیاں مشینی انداز میں کتابیں ترتیب دے رہی تھیں جب کچن سے زویا کی آواز آئی، “اذلان! بستہ رکھ دو، آج ہم اسکول نہیں جا رہے۔” اذلان چونک کر پلٹا۔ “ماما، آج کوئی چھٹی نہیں ہے۔ کل میرا میتھس کا ٹیسٹ ہے، مس کہتی ہیں گریڈز بہت ضروری ہیں۔” زویا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ نرم لہجے میں بولی، “بیٹا، گریڈز یہ بتاتے ہیں کہ آپ نے کتنا رٹا لگایا، یہ نہیں بتاتے کہ آپ نے کتنا سیکھا۔ آج ہم گھر پر اصل اسکول لگائیں گے۔” وہ کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ اس کا بیٹا ایک ایسے گول چکر میں پھنس رہا ہے جہاں صرف پیریڈ ختم کرنا اور نمبر لینا ہی مقصد رہ گیا ہے۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ اسے صرف طالب علم نہیں بلکہ سوچنے والا انسان بنائے گی۔ وہ اسے کھڑکی کے پاس لے آئی۔ باہر بارش کے قطرے گر رہے تھے۔ زویا نے پوچھا، “کبھی سوچا ہے بادل اتنے بھاری ہو کر بھی گرتے کیوں نہیں؟ اور پانی ایک دم بالٹی کی طرح کیوں نہیں برستا؟” اذلان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ ٹیسٹ کے دباؤ سے نکل کر سوال کرنے لگا۔ زو...

: منفی خیالات سے چھٹکارا پائیں

تصویر
  : منفی خیالات سے چھٹکارا پائیں زندگی جیسے ایک لمبی خاموشی میں بدل گئی تھی۔ دل جذبات سے اتنا بوجھل تھا کہ ہر سوچ کسی اندھی گلی کی طرف لے جاتی محسوس ہوتی تھی۔ ایک آوارہ خیال نے ابھی پر پھیلانے ہی تھے کہ میں نے اچانک اس کا رخ موڑ دیا۔ میں نے خود سے آہستہ سے کہا: زندگی تب ہی مسکرائے گی جب میری بیٹی مسکرائے گی۔ یہ جملہ جیسے دل پر روشنی بن کر اترا اور میں نے پہلی بار اپنے ہی فیصلے پر خود کو داد دی کہ چلو کسی اچھی بات پر عمل تو کیا۔ انسان کا ذہن عجیب ہے۔ ایک منفی خیال آتا ہے اور پھر اس کے پیچھے جیسے پوری قطار چل پڑتی ہے۔ اگر اسی لمحے اسے نہ روکا جائے تو یہ خیالات دل کی زمین پر خوف اور اداسی کے بیج بو دیتے ہیں۔ اسی لیے میں نے خود کو ایک عادت سکھانا شروع کی: جیسے ہی کوئی منفی سوچ آئے، فوراً اسے بدل دو۔ اس کی جگہ کوئی امید بھرا جملہ رکھ دو، کوئی ایسی تصویر بنا لو جس میں روشنی ہو۔ آہستہ آہستہ محسوس ہوا کہ ذہن واقعی ماننے لگتا ہے۔ کبھی کبھی خیالات واقعی ریلوے کی پٹری کی طرح چلتے رہتے ہیں، رکتے ہی نہیں۔ ایسے لمحوں میں میں کنپٹی پر ہاتھ رکھ کر خود سے کہتی ہوں: بس، اب رک جاؤ۔ شروع میں یہ عمل...

Dua afsana

  شہر کی گہما گہمی اور دفتر کی سیاست سے تھکی ہاری زویا جب گھر لوٹی تو اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ آج پھر کسی نے اس کے کام کا کریڈٹ چرانے کی کوشش کی تھی اور حاسدین کی باتوں نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ دنیا اتنی تلخ کیوں ہے؟ کیوں لوگ بلاوجہ دوسروں کے درپے رہتے ہیں؟ اسی اداسی میں اس نے اپنی دادی اماں کو فون کیا۔ سب حال سننے کے بعد دادی نے بڑے سکون سے کہا: "بیٹی! دشمن باہر نہیں، کبھی کبھی ہماری ہمت کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ تم بس ایک کام کرو، جب بھی کسی کا خوف یا شر محسوس ہو، یہ کلمات اپنی زبان پر سجا لیا کرو: **اللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ**۔" زویا نے ان الفاظ کو ڈائری می ں لکھ لیا۔ اگلے دن دفتر میں جب ایک بار پھر وہی منفی ماحول بنا، تو اس نے گھبرانے کی بجائے دل ہی دل میں ان الفاظ کا ورد شروع کر دیا۔ > *"اے اللہ! ہم تجھے ان کے سینوں (مقابلے) میں لاتے ہیں اور ان کے شرور سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔"* >  حیرت انگیز طور پر، وہ الفاظ جو پہلے اسے تیر کی طرح چبھتے تھے، اب بے اثر ہونے لگے۔ اسے محسوس ہوا جیسے...