اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے

  افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے قسط اول "ہر انسان کی زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت نہیں، اللہ کی حکمت بھرتی ہے۔" رات کے آخری پہر کا سناٹا ہمیشہ اسے اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ گھر کے تمام کمرے خاموش تھے، مگر اس کے دل میں ایک ہجوم آباد تھا۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اسے یوں محسوس ہوتی جیسے وقت اس کے زخم گن رہا ہو۔ کھڑکی سے باہر آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ کہیں دور بجلی چمکی، مگر بارش نہ ہوئی۔ بالکل اس کی زندگی کی طرح... شور بہت تھا، سکون کہیں نہیں تھا۔ زینب نے آہستہ سے الماری کھولی۔ اوپر والی شیلف پر رکھا قرآن مجید احتیاط سے اٹھایا، اسے چوما اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آج اس کا ارادہ صرف تلاوت کا نہیں تھا۔ وہ جواب ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر کچھ لوگ زندگی بھر صرف آزمائشیں ہی کیوں دیکھتے ہیں؟ وہ برسوں سے یہ سوال اپنے رب سے کرتی آ رہی تھی۔ "یا اللہ! کیا ہر درد میرے ہی حصے میں لکھا تھا؟" جواب کبھی آواز میں نہیں آیا، مگر قرآن ہر بار کچھ نہ کچھ ضرور کہہ دیتا تھا۔ اس نے سورۂ یوسف کھولی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ وہ یہ سورت پڑھ رہی تھی۔ شاید پچاسویں یا سویں ...

افسانہ: میری نماز

افسانہ: میری نماز مغرب کی اذان کی آواز فضا میں پھیل رہی تھی۔ آسمان پر شام کی سرخی آہستہ آہستہ نیلگوں اندھیرے میں ڈھل رہی تھی۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے اور ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے برعکس مریم کے اندر ایک شور برپا تھا۔ وہ ابھی ابھی واک کرکے گھر واپس آئی تھی۔ عام دنوں میں واک کے بعد وہ خود کو ہلکا، تازہ دم اور پُرسکون محسوس کرتی تھی، لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ جسم میں تھکن نہیں تھی، مگر دل جیسے بے جان ہو گیا تھا۔ ذہن کسی کام میں لگنے کو تیار نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر کی ساری توانائی کسی نے اچانک کھینچ لی ہو۔ اذان ختم ہو چکی تھی۔ گھر میں ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی خاموشی سے وقت بتا رہی تھی۔ صحن میں رکھا گملوں کا پودا ہلکی ہوا میں جھول رہا تھا، مگر مریم کی نگاہیں ان سب چیزوں سے بے نیاز تھیں۔ "اٹھو... مغرب کا وقت ہو گیا ہے۔" اس نے خود ہی اپنے آپ سے کہا، مگر دل نے جواب دیا: "آج نہیں... ابھی نہیں... تھوڑی دیر بعد..." وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے محسوس کیا کہ اگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی تو وقت نکل جائے گا...

Kahaf ka ghar

تصویر
  کہف — ایک ایسا غار جو پہاڑوں میں نہیں، انسان کے اندر ہوتا ہے جمعہ کی اذان میں ایک عجیب کشش ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہفتے بھر کی گرد آسمان سے نہیں، انسان کے دل سے جھڑ رہی ہو۔ صبح کی ہوا میں ایک نرمی، روشنی میں ایک لطافت اور وقت میں ایک عجیب سی برکت محسوس ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے جمعہ کی صبح میرے لیے صرف ایک دن کا آغاز نہیں، بلکہ اپنے اندر واپس لوٹنے کا سفر ہوتی ہے۔ اس روز دنیا کی آوازیں دھیمی لگنے لگتی ہیں اور قرآن کی آواز دل کے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے۔ میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کی کہانیاں سنی ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں جدائی تھی، کسی کی آواز میں خوف، کسی کے لہجے میں برسوں کی تھکن، اور کسی کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ جو صرف دوسروں کے لیے تھی، اپنے لیے نہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ آخر انسان اتنا تھک کیوں جاتا ہے؟ آخر کون سا بوجھ ہے جو کندھوں پر نہیں، دل پر رکھا جاتا ہے؟ پھر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ انسان کو جسمانی محنت اتنا نہیں تھکاتی، جتنا روح کی مسلسل جنگ تھکا دیتی ہے۔ جب ہر روز کسی کی تلخ بات برداشت کرنی پڑے... جب ہر لمحہ اپنے وجود کو ثابت کرنا پڑے... جب ہر تعلق میں خود ک...

ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا

تصویر
  ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ مغرب کی اذان ہو چکی تھی، مگر گھر کے اندر چراغ ابھی تک نہیں جلا تھا۔ حارث چارپائی کے کنارے بیٹھا تھا۔ سامنے چند کاغذ بکھرے ہوئے تھے۔ کسی پر قرض کی رقم لکھی تھی، کسی پر دوا کا خرچ، اور ایک کاغذ پر صرف ایک لفظ تھا: "نامنظور" آج پورا دن وہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پھرتا رہا تھا۔ کسی نے کہا، "ابھی میرے حالات بھی اچھے نہیں۔" کسی نے نظریں چرا لیں۔ کسی نے وعدہ کیا، مگر وعدہ بھی شام تک ٹوٹ گیا۔ وہ تھکے قدموں سے گھر لوٹا تو یوں محسوس ہوا جیسے سارا شہر اس کے لیے تنگ ہو گیا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر طاق پر رکھے قرآن مجید پر پڑی۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر آہستہ سے قرآن اٹھایا۔ صفحات پلٹتے پلٹتے اس کی نگاہ ایک آیت پر ٹھہر گئی۔ ﴿وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۖ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا﴾ وہ دیر تک اسی آیت کو دیکھتا رہا۔ اچانک اسے اصحابِ کہف یاد آ گئے۔ وہ بھی تو ایک پناہ کی تلاش میں نکلے تھے۔ اللہ نے انہیں ا...

مصحف سے پہلے

تصویر
 ‎ ‎ ‎پیش لفظ ‎ ‎یہ کتاب کسی بڑے دعوے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ ‎نہ میں مفسر ہوں، نہ محدث، نہ رات دن کی محنت کرنے والی عالم۔ ‎میں بس ایک سیاح ہوں — اس وادی کی سیاح جہاں دور دور تک نور کے پہاڑ تھے، اور میں نے ان کے سائے میں بیٹھ کر اپنی بے تعلقی کا احساس کیا۔ ‎ہم عجمی۔ ‎ہماری نسلوں نے قرآن کو تلاوت تو کر لیا، بلکہ کھانے پکانے والی آوازوں میں بھی اس کی آیات گونجیں۔ لیکن افسوس! جب تعلق کی بات آئی، تو ہم صدیوں سے قرآن کے صحن میں کھڑے مسافر ہیں، جس کے اندر کبھی داخلہ نہیں ملا۔ ‎رسم و رواج میں ہم نے مصحف کو عزت دی، لیکن وہ لذت، وہ وجد، وہ رقت جو نبی علیہ السلام کے جگر پر وحی کے اترتے ہی طاری ہو جاتی تھی — وہ ہمارے حصے میں کب آئی؟ ‎ ‎جب میں نے غور کیا تو ایک ایک کر کے پردے اٹھتے گئے۔ ‎لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا تک کا ایک سفر تھا۔ ‎آسمانِ دنیا سے قلبِ نبی ﷺ تک کا ایک اور سفر تھا۔ ‎قلبِ نبی سے صحفِ صدیقی تک کا سفر۔ ‎پھر صحف سے مصحفِ عثمانی تک۔ ‎مصحفِ عثمانی سے اعراب و نقاط تک۔ ‎اور پھر ہمارے ہاتھوں میں یہ پرنٹ شدہ، ڈیجیٹل، یکساں، سادہ سا مصحف — جسے ہم بے زحمت کھول کر پڑھتے ہیں۔ ‎ ‎یہی وہ مقام ہے...

افسانہ: خاموش جنگل کی گونج

تصویر
  افسانہ: خاموش جنگل کی گونج آنکھیں بند تھیں، اور سانسیں آہستہ آہستہ جیسے کسی پوشیدہ تال پر چل رہی تھیں۔ باہر کی دنیا پیچھے رہ گئی تھی، اور اندر ایک اور ہی کائنات کھل رہی تھی—لفظوں کی کائنات، احساسات کی کائنات، اور ایک ایسی خاموشی جو شور سے زیادہ بولتی تھی۔ ذہن کی راہداریوں میں چمکتے ہوئے لفظ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ وہ آگے آگے دوڑ رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے پیچھے کسی انجانی سی کیفیت میں چلتی چلی جا رہی تھی۔ جیسے کوئی مجھے بلائے بھی نہیں اور میں پھر بھی اس آواز کے پیچھے چل پڑوں۔ پھر اچانک وہ راستہ بدل گیا۔ لفظوں کی روشنی ایک گھنے جنگل میں جا گری۔ ایسا جنگل جو خوبصورت بھی تھا اور پراسرار بھی۔ درخت اونچے تھے، مگر ان کی چھاؤں میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ ہوا ٹھہری ہوئی تھی، جیسے کسی بڑی خبر کے انتظار میں ہو۔ اور اسی جنگل کے درمیان وہ الفاظ کھڑے تھے… “فَأَجَآءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ…” میں رک گئی۔ یہ کوئی عام جملہ نہیں تھا۔ یہ تو جیسے وقت کے سینے سے نکلتا ہوا ایک درد تھا، جو صدیوں سے سانس لے رہا تھا۔ ہر لفظ ایک کہانی تھا، اور ہر کہانی کے اندر ایک ...

پہلے عمرے

تصویر
جب میں پہلے عمرے کیلئے مسجد الحرام پہنچی تو میرے داماد اور بیٹی نے مجھے دائیں بائیں سے پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا: “امی! آنکھیں بند کر کے چلیں… اور جیسے ہی ہم کہیں کہ آپ خانہ کعبہ کے سامنے ہیں تو فوراً اپنی دعائیں مانگ لیجیے گا۔” میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترتی ہوئی چل رہی تھی۔ دل عجیب کیفیت میں تھا۔ پھر اچانک دونوں بچوں نے کہا: “امی… اب آنکھیں کھولیں۔ آپ خانہ کعبہ کے بالکل سامنے ہیں…” جونہی میں نے آنکھیں کھولیں اور پہلی نظر خانہ کعبہ پر پڑی… نہ کوئی دعا یاد رہی… نہ کوئی ہوش باقی رہا… یہ سیاہ غلافِ کعبہ کی ہیبت تھی یا ربِ کعبہ کا جلال… دل کی دنیا تہ و بالا ہوگئی۔ میں جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ دماغ کہیں تھا، دل کہیں اور… بعد میں میں لوگوں سے پوچھتی تھی: “کیا آپ کو پہلی نظر میں دعائیں مانگنی یاد رہی تھیں؟” کیونکہ مجھے تو کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا۔ بچوں نے مجھے ہلایا: “امی… دعا مانگیں…” تب میرے منہ سے پہلا لفظ نکلا: “سبحان اللہ…” اور پھر بے اختیار کہا: “اللہ… میں تو اس قابل نہیں تھی۔ آپ کتنے مہربان ہیں…” آج میں اس اللہ کے گھر کے سامنے کھڑی تھی… اس رب کے گھر… جسے ہم ہر دکھ، ہر خوشی، ہر پریشانی اور ہر ...

آٹھواں دروازہ

تصویر
آٹھواں دروازہ ایک روحانی افسانہ — یومِ ترویہ کے راز ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ تھی۔ مکہ کی صبحوں میں ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے سورج یہاں زمین پر نہیں۔۔۔ دلوں کے اندر طلوع ہوتا ہے۔ فضا میں لبیک کی صدائیں تیر رہی تھیں۔ سفید احراموں میں لپٹے لوگ ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے دنیا اپنی تمام پہچانیں اتار کر ایک ہی نام میں سمٹ آئی ہو: “عبد” حرم کے صحن میں، طواف کے شور کے باوجود ایک گہری خاموشی تھی۔ اور اسی خاموشی کے بیچ، زہرہ بیٹھی تھی۔ وہ لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی میں اسلامیات کی استاد تھی۔ الفاظ سے محبت کرتی تھی۔۔۔ مگر کچھ عرصے سے الفاظ اس سے روٹھ گئے تھے۔ وہ دوسروں کو دین سمجھاتی تھی، مگر خود اپنے اندر ایک عجیب خلا محسوس کرتی تھی۔ نماز پڑھتی۔۔۔ قرآن پڑھتی۔۔۔ لیکچر دیتی۔۔۔ لیکن دل میں ایک سوال ہر وقت جاگتا رہتا: “کیا عبادت صرف عمل کا نام ہے۔۔۔ یا کبھی انسان واقعی اللہ تک بھی پہنچتا ہے۔۔۔؟” اسی سوال نے اُسے حج تک پہنچایا تھا۔ اس دن وہ مطاف کے ایک کونے میں بیٹھی لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہر چہرہ الگ تھا۔۔۔ مگر سب کی آنکھوں میں ایک جیسی نمی تھی۔ تبھی اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑ...

جمعہ کی صبح تھی۔

تصویر
  جمعہ کی صبح تھی۔ آسمان پر ہلکی سفیدی پھیلی ہوئی تھی اور شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔ گلیاں خاموش تھیں، ہوا ٹھنڈی تھی، مگر عائشہ کے ذہن میں عجیب سا شور تھا۔ مسلسل کئی دنوں سے وہ لوگوں کے مسائل سن رہی تھی۔ کبھی کسی کی ٹوٹی ہوئی زندگی، کبھی کسی کی بےسکونی، کبھی کسی کی خاموش اذیت۔ وہ سب کو حوصلہ دیتی تھی، مگر آہستہ آہستہ خود اندر سے تھکنے لگی تھی۔ رات اس نے دوا لی تھی تاکہ نیند آسکے۔ نیند تو آگئی، مگر صبح اچانک وہ خوفزدہ ہوکر جاگ اٹھی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ “فجر…!” وہ فوراً بستر سے اٹھی، جلدی جلدی وضو کیا اور جائے نماز پر کھڑی ہوگئی۔ نماز پڑھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی تھی، جیسے وہ نماز نہیں بلکہ کسی محفوظ پناہ گاہ میں آگئی ہو۔ سلام پھیرنے کے بعد اس نے فوراً کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ الحمدللہ۔ اس نے سکون بھرا سانس لیا اور دل میں سوچا: “اگر آج فجر قضا ہوجاتی تو شاید پورا دن اداس گزرتا…” نماز اور اذکار کے بعد وہ دوبارہ سوگئی۔ جب اگلی بار آنکھ کھلی تو جسم میں ابھی بھی تھکن باقی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھی، ناشتہ تیار کیا، امی کے لیے پ...

افسانہ: “جب اسکرین ٹوٹ گئی”

تصویر
  افسانہ: “جب اسکرین ٹوٹ گئی” شہر کی صبحیں عام طور پر شور سے شروع ہوتی ہیں، مگر اس شہر میں ایک اور شور بھی تھا—اسکرینوں کا شور۔ ہر ہاتھ میں موبائل، ہر آنکھ میں روشنی، اور ہر دل میں ایک ہی خواہش: نظر آ جاؤں، پہچان بن جاؤں، وائرل ہو جاؤں۔ اس شہر میں ایک لڑکا تھا—حماد۔ نہ بہت پڑھا لکھا، نہ بالکل جاہل۔ بس ایک عام سا لڑکا جس کے اندر ایک غیر معمولی خواہش پلنے لگی تھی: “مجھے بھی لوگ جانیں گے…” یہ جملہ اس کے دل میں پہلی بار اُس دن آیا تھا جب اس کی ایک چھوٹی سی ویڈیو پر چند ہزار ویوز آئے تھے۔ وہ لمحہ اس کے لیے ایسے تھا جیسے کسی نے اندھیرے کمرے میں اچانک روشنی کر دی ہو۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ہر روشنی رہنمائی نہیں ہوتی، کچھ روشنی صرف جلانے کے لیے بھی ہوتی ہے۔ حماد کی ماں اسے اکثر سمجھاتی تھی: “بیٹا، نام سے زیادہ کام اچھا ہونا چاہیے…” مگر وہ مسکرا کر ٹال دیتا۔ باپ خاموش تھا۔ بس کبھی کبھی اخبار رکھتے ہوئے ایک آہ بھری نگاہ بیٹے پر ڈال دیتا، جیسے وہ کچھ دیکھ رہا ہو جو آنے والا ہے مگر روک نہیں سکتا۔ شروع میں سب سادہ تھا۔ مزاحیہ ویڈیوز، دوستوں کے ساتھ مذاق، ہلکی پھلکی شہرت۔ پھر آہستہ آہ...

🌿 استقامت

تصویر
  🌿 استقامت صبح ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھی۔ کھڑکی کے پردوں سے ہلکی سی روشنی اندر آ رہی تھی، جیسے رات اور دن کے درمیان کوئی نرم سی لکیر کھینچی گئی ہو۔ گھر میں خاموشی تھی، صرف دیوار کی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔ وہ چولہے کے پاس کھڑی چائے بنا رہی تھی، مگر اس کے ہاتھ آج کچھ زیادہ آہستہ چل رہے تھے۔ ہر کام جیسے سوچ مانگ رہا ہو۔ بیٹی اسکول کے لیے تیار ہو رہی تھی، اور گھر کا سارا نظم اب اسی کے کندھوں پر تھا۔ کچھ مہینے پہلے یہ گھر ایسا نہیں تھا۔ اس گھر میں ایک آواز تھی، جو صبح ہوتے ہی کہتی تھی: “جلدی اٹھو… وقت ہو گیا ہے” اور ایک موجودگی تھی جو ہر چیز کو آسان بنا دیتی تھی، چاہے دن کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ اب وہ آواز نہیں تھی۔ صرف یاد رہ گئی تھی۔ وہ چائے کا کپ لے کر بیٹھ گئی۔ سامنے دیوار پر ٹنگی گھڑی اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وقت گزر نہیں رہا، بس چل رہا ہے۔ دل کے اندر اچانک ایک لہری سی اٹھی۔ وہی پرانی باتیں، وہی آخری دن، وہی جملہ: “سو جاؤ… صبح اسکول جانا ہے” اس نے آنکھیں بند کیں۔ کچھ دیر کو لگا جیسے سانس رک جائے گی۔ مگر پھر کہیں اندر سے ایک ہلکی سی آواز اٹھی—نہ باہر کی،...

ناول: 21 کنکر

تصویر
  ناول: 21 کنکر مصنفہ: روبینہ شاہین قسط نمبر 1: نیت کا پہلا کنکر کھڑکی سے چھن کر آنے والی چاندنی نے کمرے کے فرش پر ایک مدہم سی لکیر کھینچ رکھی تھی۔ رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا اور فضا میں ایک عجیب سا، سحر انگیز سکون پھیلا ہوا تھا۔ ذوالحجہ کا چاند نمودار ہوئے کچھ ہی گھنٹے گزرے تھے—نیا چاند، جو اپنے ساتھ ہجری سال کے آخری اور بابرکت ترین مہینے کا پیغام لایا تھا۔ صائمہ نے بستر پر کروٹ بدلی۔ دن بھر کی تھکن، گھر کے الجھے ہوئے حالات، اور سب سے بڑھ کر وہ اندرونی تنہائی جس کا کوئی مداوا نہیں دکھتا تھا، اس کے اعصاب پر سوار تھی۔ وہ زندگی کی اس لایعنی دوڑ، سوشل میڈیا کی سکرین پر تیرتے فتنوں کی چکا چوند، اور نام و نمود کی ہوس سے اندر سے شدید خالی پن کا شکار ہو چکی تھی۔ اس کے سب سے پیارے، اس کے قریبی رشتے اس کی اسی بے حسی کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس سے دور ہو رہے تھے۔ دل تو جیسے مٹی کا وہ برتن بن چکا تھا جس میں دنیا بھر کے شکوے، فکریں اور اداسیاں آ کر جمع ہو گئی تھیں۔ اس نے تکیے کے پاس رکھا فون اٹھایا۔ کسی مخلص دوست کا بھیجا ہوا ایک پیغام سکرین پر چمک رہا تھا: > "ذی الحجہ کا چاند نظر آ چکا ...

شعور کی کنکریاں

تصویر
  شعور کی کنکریاں حرم پاک کے صحن میں عقیدت مندوں کا ایک سمندر تھا جو موجیں مار رہا تھا، لیکن مقیت کے دل کے اندر وسوسوں اور الجھنوں کا ایک الگ ہی طوفان برپا تھا۔ ذوالحجہ کا دوسرا دن تھا—وہ دن جو مناسکِ حج کی گہماگہمی اور روح کی بیداری کا پیغام لے کر آیا تھا۔ مقیت نے اپنے ہاتھ میں تسبیح تھام رکھی تھی، مگر اس کا ذہن جمرات کی طرف جانے والے راستے پر نہیں، بلکہ اپنے ماضی کے پچھتاووں اور حال کی بے سکونیوں میں بھٹک رہا تھا۔ انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ باہر کے شیطانوں کو تو دور سے پہچان لیتا ہے، مگر اپنے اندر پلنے والے حسد، انا اور وسوسوں کے شیطان سے بے خبر رہتا ہے۔ مقیت کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ اس کا ہنستا کھیلتا گھر، اس کی محبتیں، اور اس کے پختہ رشتے—سب کسی "تیسرے عنصر" کی لائی ہوئی دوریوں کی نذر ہو چکے تھے۔ وہ "تیسرا" کوئی انسان نہیں تھا، بلکہ ایک بے قابو انا، موبائل کی سکرین پر تیرتے فتنوں کی چکا چوند، اور دلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے خاموش فاصلے تھے۔ "رمیِ جمرات محض ایک ظاہری عمل نہیں ہے میرے بھائی!" اچانک اس کے برابر میں چلتے ہوئے ایک بوڑھے، نورانی چہرے...

میرا سوہنا شہر لاہور

تصویر
  میرا سوہنا شہر لاہور قسط اول جیسے انسانی زندگی کی ابتدا دل سے ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی میرے اس سفر کی ابتدا پاکستان کے دل لاہور سے ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ شہروں سے آپ کا رشتہ ازل سے جڑا ہوتا ہے، وہ آپ کو اپنی طرف ایسے کھینچتے ہیں جیسے مقناطیس۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ ۱۹۹۵ء کی بات ہے جب میں دسویں جماعت کے پیپرز دینے کے بعد پہلی بار پورے ہوش و حواس میں لاہور آئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے کبھی لاہور نہیں آئی تھی، آئی تو کئی بار تھی، لیکن بچپن کے وہ پھیرے بس یوں ہی تھے جن کی یادیں دھندلی تھیں۔ بڑے ہونے کے بعد، اپنی صوابدید پر، یہ میرا لاہور کا پہلا پھیرا تھا اور اسی پہلے ہی پھیرے میں مجھے اس شہر سے ایسا عشق ہوا کہ ٹھیک تین سال بعد ہم ہمیشہ کے لیے ضلع اوکاڑہ سے لاہور شفٹ ہو گئے۔ وہ شام اور ٹرین کا سفر مجھے آج بھی وہ رات بہت اچھی طرح یاد ہے جب ہم نے اوکاڑہ سے لاہور کے لیے رختِ سفر باندھا تھا۔ امی نے ہمیشہ کی طرح اپنی پرانی روایت کے مطابق شام ہوتے ہی ہمیں کھانا کھلا کر سلا دیا۔ ہمیں رات گیارہ بجے کی ٹرین پکڑنی تھی، اس لیے ہم سب دوبارہ سو کر اٹھے تھے۔ آج کے دور میں ...

میراثِ تمنا

تصویر
 میراثِ تمنا شہر کی بلند و بالا عمارت کے چالیسویں فلور پر بنے اس عالیشان دفتر میں خاموشی کا راج تھا، صرف اس مدھم سی آواز کے ساتھ جو مہنگے کافی میکر سے نکل رہی تھی۔ فواد نے ہاتھ میں پکڑا سنہرا قلم میز پر رکھا اور سامنے پھیلے ہوئے شہر کو دیکھنے لگا۔ اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کا خواب اس نے بیس سال پہلے ایک تنگ گلی کے بوسیدہ مکان میں دیکھا تھا۔ کامیابی، شہرت، اختیار اور بے حساب دولت۔ مگر اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو ایک فاتح کی ہونی چاہیے۔ اس کے سامنے میز پر ایک پرانی ڈائری کھلی تھی، جس کے زرد کاغذ پر اس کے باپ نے مرنے سے پہلے ایک آیت لکھی تھی: اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْہُدٰی (یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی) آج فواد کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، مگر دل خالی تھا۔ اسے لگا جیسے اس نے زندگی کے بہترین سال ایک ایسی دوڑ میں کھو دیے ہوں جس کا اختتام صرف تھکن تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس نے کتنی بار ضمیر کی آواز کو دبا کر “ترقی” کے نام پر وہ راستے اختیار کیے جن پر دل اندر سے خاموش احتجاج کرتا رہا۔ اسی بے چینی میں اس نے اچانک فیصلہ کیا۔ وہ اٹھا، فائلیں ب...

افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی

تصویر
  افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی گھر کے صحن میں آج بھی وہی پرانی لکڑی کی کرسی رکھی تھی، جس پر بیٹھ کر امی ہمیں بارش اور بجلی کے وقت سنبھال لیا کرتی تھیں۔ آسمان پر اگر بادل گرجتے تو پورا گھر جیسے ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جاتا۔ بچپن تھا، اور بچپن میں ڈر بھی سچ لگتا ہے اور کہانیاں بھی حقیقت۔ “جلدی! حضرت بابا فرید شکر گنج کا نام لو… بجلی ڈرتی ہے!” امی کی آواز کے ساتھ ہم سب بہن بھائی ایک دائرے میں کھڑے ہو جاتے۔ جیسے الفاظ نہیں، کوئی حفاظتی حصار بنا رہے ہوں۔ ہر چمک کے ساتھ آواز بلند ہوتی جاتی، اور ہر گرج کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی۔ “بابا فرید شکر گنج… بابا فرید شکر گنج…” ہمیں لگتا تھا جیسے آسمان کی آگ کسی نام سے تھم جائے گی۔ جیسے بجلی سن لے گی اور راستہ بدل لے گی۔ وقت گزرتا گیا، مگر کچھ باتیں وقت سے نہیں بدلتی تھیں۔ وہی ڈر، وہی عادتیں، وہی سرگوشیاں۔ پھر زندگی نے ایک نیا دروازہ کھولا۔ کتابیں، مطالعہ، اور قرآن کا ترجمہ… اور پہلی بار دل نے وہ سوال کیا جو بچپن میں کبھی نہ اٹھا تھا: کیا حفاظت الفاظ میں ہے… یا اللہ کے حکم میں؟ ایک شام آسمان پھر سیاہ ہوا۔ بادل گرجے۔ بجلی کڑکی۔ مگر اس بار منظر ...

افسانہ: جائیدادِ عشق

تصویر
  افسانہ: جائیدادِ عشق شہر کے سب سے روشن کیفے میں قہقہوں اور باتوں کا شور اپنے عروج پر تھا۔ زویا اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں گھری ہوئی تھی، جہاں ہر کوئی اس کی کامیابی اور اس کی شخصیت کا گرویدہ نظر آتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اس موڑ پر تھی جہاں اسے واقعی محسوس ہو رہا تھا کہ دنیا اس کے قدموں میں ہے۔ کامیابی، جوانی اور لوگوں کی ستائش… سب کچھ اسے حاصل تھا۔ اسی دوران اس کے فون پر ایک پرانا پیغام چمکا: “اصل مزہ تب ہے جب دنیا تمہیں چاہ رہی ہو اور تم اپنے رب کی چاہت میں مبتلا ہو جاؤ۔” زویا نے ایک گہرا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر آسمان کی وسعتوں کو دیکھنے لگی۔ اسے محسوس ہوا کہ تالیاں اور تعریفیں کسی سراب کی طرح ہیں۔ اس نے سوچا، بیماری یا بڑھاپے میں تو ہر کوئی اللہ کی طرف پلٹتا ہے، کیونکہ تب کوئی اور سہارا باقی نہیں رہتا۔ مگر اس وقت، جب اس کی رگوں میں جوانی کا لہو دوڑ رہا ہے اور اس کے پاس انتخاب کی پوری طاقت موجود ہے، اگر وہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھائے تو یہی اس کی اصل جائیداد ہوگی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور وضو کرنے چلی گئی۔ پانی کی ہر بوند کے ساتھ اسے یوں لگا جیسے وہ صرف چہرہ نہیں بلکہ اپنی روح کی دھو...