اشاعتیں

Featured post

دعا کی طاقت

تصویر
خوبصورت کہانی جو آپ کے ایمان کو پختہ کرے گی زندگی کی نہایت اہم رات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دی جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چل...

رمضان المبارک میں زکوٰۃ اور فطرانہ

تصویر
  رمضان المبارک میں زکوٰۃ اور فطرانہ (زکوٰۃ الفطر) کی ادائیگی کے احکامات درج ذیل ہیں۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ مال پر واجب ہوتی ہے جبکہ فطرانہ ہر صاحبِ حیثیت مسلمان کے ذمے بطورِ خاص واجب ہوتا ہے۔ 1. زکوٰۃ کے احکامات · رمضان میں ادائیگی: اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں اور آپ پر زکوٰۃ فرض ہے تو اسے رمضان میں ادا کرنا جائز ہے۔ اگرچہ ہر شخص کا زکوٰۃ کا اپنا سال (Haul) ہوتا ہے، لیکن رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اندازہ لگا کر پہلے بھی زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ بعد میں اصل رقم سے تصدیق کر لی جائے . · زکوٰۃ کی نیت سے کھانا کھلانا: یاد رہے کہ محض کسی غریب کو افطار کرانا زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے کہ رقم یا چیز مستحق کی ملکیت میں دے دی جائے (تملیک) . اگر آپ نے غریب کو دعوت دے کر کھانا کھلا دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ اگر اسے زکوٰۃ کی رقم سے خریدا ہوا سامان (جیسے ٹوکری) دے دیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی . 2. فطرانہ (زکوٰۃ الفطر) کے احکامات فطرانہ رمضان المبارک کے اختتام پر دیا جانے والا ایک واجب صدقہ ہے۔ · وجوب (کس پر فرض ہے؟): فط...

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف: مسائل و احکامات

تصویر
  رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف: مسائل و احکامات (قرآن و سنت کی روشنی میں) دیباچہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ رحمتوں کی بارش اور برکتوں کی معراج کا نام ہے۔ اس عشرہ کی سب سے بڑی روحانی نعمت "اعتکاف" ہے، جس میں بندہ اپنے خالق و مالک سے قربت حاصل کرنے کے لیے دنیا سے کنارہ کش ہو کر مسجد میں پناہ لیتا ہے۔ اعتکاف دراصل نبی کریم ﷺ کی سنتِ مُستقِلّہ ہے، جسے آپ نے ہجرت کے بعد سے وصال تک کبھی ترک نہیں فرمایا ۔ اس مختصر کتاب میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں اعتکاف کی فضیلت، اس کے احکامات، شرائط اور جدید و قدیم مسائل کو آسان فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ قاری اس سنت نبویﷺ کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو سکے۔ --- باب اول: اعتکاف کی شرعی حیثیت اور قرآن و سنت میں اس کا مقام اعتکاف صرف ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ عباداتِ الٰہیہ میں سے ایک عظیم عبادت ہے جو پچھلی امتوں میں بھی رائج تھی اور اسلام میں اسے خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اعتکاف کا بیان اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر اعتکاف کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلی آیت: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام ک...

رمضان قرآن اور دعا

تصویر
رمضان: قرآن اور دعا روحانیت، رحمت اور مغفرت کا بہترین مجموعہ دیباچہ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ یہ وہ عظیم مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر بیان کرنے والی نشانیاں ہیں۔ اس ماہ مقدس میں عبادات کی قبولیت کی شرح اور اجر و ثواب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کتاب "رمضان: قرآن اور دعا" میں ہم نے رمضان المبارک کی روحانی فضیلتوں کو قرآن اور دعاؤں کے حوالے سے منفرد انداز میں پیش کیا ہے، تاکہ قارئین اس مہینے کی بھرپور روحانی کیفیات سے مستفید ہو سکیں۔ --- باب اول: رمضان اور قرآن کا مقدس رشتہ ماہ رمضان کا قرآن مجید سے گہرا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو قرآن کے نزول کے لیے منتخب کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ" (البقرہ: 185) "رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی واضح نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی چیزیں ہ...

رمضان 2026 سعودی عرب: دنیا کی چکا چوند سے آخرت کی کامیابی تک

تصویر
رمضان 2026 سعودی عرب: دنیا کی چکا چوند سے آخرت کی کامیابی تک سعودی عرب میں Ramadan 2026 کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا مادی ترقی اور ڈیجیٹل شور و غل میں گم ہے۔ سعودی عرب کی تپتی دھوپ اور مقدس فضاؤں میں اس بار رمضان صرف ایک روایتی مہینہ نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو 'ری سیٹ' کرنے کا ایک الہامی موقع ہے۔ اگر ہم ان چار شعبوں کو مینیج کر لیں، تو ہم نہ صرف اس دنیا میں پرسکون رہیں گے بلکہ آخرت کی کامیابی بھی ہمارا مقدر بنے گی۔ 1. وقت کی تنظیم (Time Management: برکت کا حصول) سعودی عرب میں رمضان کے دوران دفتری اور کاروباری اوقات بدل جاتے ہیں، لیکن اصل چیلنج عبادات کے لیے وقت نکالنا ہے۔  * حل: اپنے دن کو نمازوں کے اوقات کے گرد ترتیب دیں۔ فجر سے اشراق اور عصر سے افطار کا وقت 'گولڈن آورز' ہیں۔ ان لمحات کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے ذکرِ الٰہی کے لیے وقف کریں۔ وقت کی قدر وہی ہے جو اسے آخرت کے لیے سرمایہ بنا لے۔ 2. خوراک کی مینجمنٹ (Diet Management: روح کی بالیدگی) سعودی دسترخوان اپنی وسعت اور لذیذ پکوانوں (کبسا، سمبوسہ، حارث) کے لیے مشہور ہیں، لیکن کثرتِ طعام انسان کو ...

Ramadan and the Accountability of the Soul

تصویر
 رمضان 2026 اور احتسابِ نفس مؤرخ لکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں جب بھی کسی قوم نے اپنے پیٹ کی اشتہا کو لگام دی، اس کی روح کے پروں میں پرواز کی طاقت آ گئی۔ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ خالقِ کائنات کی طرف سے اس مٹی کے پتلے کو یہ باور کروانے کی ایک مشق ہے کہ وہ اپنی جبلتوں کا غلام نہیں بلکہ ان کا حاکم ہے۔ کائنات کا پورا نظام ایک الٰہی نظم و ضبط (Discipline) کے تحت چل رہا ہے، اور رمضان ہمیں اسی آفاقی نظم کا حصہ بناتا ہے۔ سن 2026 کا رمضان ایک ایسے پُرفتن دور میں سایہ فگن ہو رہا ہے جہاں انسان اپنی خواہشات کے حصار میں قید ہو چکا ہے۔ 'حیا' اور 'اخلاقیات' جو کبھی مومن کا حقیقی زیور تھیں، اب مصلحتوں اور فیشن کی نذر ہو رہی ہیں۔ ایمان کی منطقی دلیل یہی ہے کہ اگر ایک بندہ اللہ کے حکم پر حلال رزق کو ایک مخصوص وقت کے لیے چھوڑ سکتا ہے، تو وہ ان تمام کاموں کو ہمیشہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑ سکتا جو اس کے رب نے حرام کیے ہیں؟ 'تقویٰ' دراصل اپنی انا اور لذت کو رضائے الٰہی پر قربان کرنے کا نام ہے، اور یہی آخرت کی دائمی کامیابی کی بنیاد ہے۔ جدیدیت کے نام نہاد علمبرداروں اور...

اگلی قسط: تیسرا دروازہ

تصویر
  اگلی قسط: تیسرا دروازہ اس جمعہ وہ جلدی جاگ گیا تھا۔ بغیر الارم کے۔ جیسے کسی نے اندر سے آواز دی ہو: اُٹھو… اب صرف پڑھنا کافی نہیں۔ سورۃ کہف کھلی۔ مگر آج نظر آیات پر نہیں، خاموشیوں پر تھی۔ وہ سوچ رہا تھا: دو گروہ تو سمجھ آ گئے— ایک حساب میں گم ایک یقین میں مطمئن مگر دل نے سوال کیا: کیا بس یہی دو راستے ہیں؟ آنکھ بند ہوئی اور وہ پھر غار کے سامنے تھا۔ مگر اس بار حیرت ہوئی۔ غار کا دہانہ بند نہیں تھا۔ ایک تیسرا دروازہ کھلا تھا— نہ مکمل اندھیرا نہ مکمل روشنی۔ وہ اندر گیا۔ وہاں کوئی لیٹا ہوا نہیں تھا۔ کوئی سویا ہوا نہیں تھا۔ بس ایک شخص بیٹھا تھا، سر جھکا ہوا، ہاتھ خالی، آنکھیں بند۔ نہ ریت گھڑی نہ آسمان کی طرف نگاہ وہ بول پڑا: “تم کون ہو؟” جواب فوراً نہیں آیا۔ پھر آہستہ سے آواز ابھری: “میں وہ ہوں جو گنتا بھی نہیں اور انکار بھی نہیں کرتا۔” وہ الجھ گیا۔ “تو پھر تم کیا کرتے ہو؟” آواز میں سکون تھا: “میں انتظار کرتا ہوں۔” “کس کا؟” “اُس لمحے کا جب اللہ خود وقت کو بولنے دے۔” وہ چونکا۔ “تمہیں معلوم نہیں کتنی دیر گزر چکی؟” خاموش مسکراہٹ۔ پھر جواب آیا: “جب دل جاگ جائے تو مدت سوال نہیں رہتی۔” تب اسے ...

اگلی قسط: وقت کے پار سوال

تصویر
  اگلی قسط: وقت کے پار سوال اس جمعہ، اس نے سورۃ کہف کھولی تو دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ جیسے پچھلی قسط ختم نہیں ہوئی تھی، بس وقفہ آیا تھا۔ وہی آیت… مگر آج لفظ “أَحْصَى” اس کی نظر میں ٹھہر گیا۔ کس نے زیادہ درست شمار کیا؟ وہ سوچنے لگا: اگر اللہ نے مدت بھی بتا دی، پھر شمار پر سوال کیوں؟ اسی لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ پھر غار کے قریب ہے— مگر اس بار غار اندھیرے میں نہیں تھا۔ اندر ہلکی سی روشنی تھی، جیسے کسی دل میں یقین جاگ رہا ہو۔ غار کے دہانے پر دو آدمی بیٹھے تھے۔ ایک کے ہاتھ میں ریت گھڑی تھی۔ وہ ہر دانہ گن رہا تھا، بےچینی سے۔ دوسرے کے ہاتھ خالی تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پہلا بولا: “اگر میں درست گن لوں تو سچ میرے پاس ہوگا۔” دوسرا مسکرایا: “اور اگر وقت ہی مخلوق ہو تو گنتی کس کی؟” وہ آگے بڑھا۔ “تم میں سے کون درست ہے؟” ریت گھڑی والا بولا: “میں! کیونکہ میرے پاس حساب ہے۔” آسمان کو دیکھنے والے نے آہستہ کہا: “میں نہیں جانتا—اور یہی میرا علم ہے۔” تب غار کے اندر سے آواز آئی، نرم مگر فیصلہ کن: “درست شمار وہ نہیں جو عدد جان لے، درست شمار وہ ہے جو حد جان لے...