اشاعتیں

Featured post

دعا کی طاقت

تصویر
خوبصورت کہانی جو آپ کے ایمان کو پختہ کرے گی زندگی کی نہایت اہم رات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دی جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چل...

حصہ دوم: آزمائش کی گھڑی

تصویر
  حصہ دوم: آزمائش کی گھڑی اگلی صبح جب اذلان اسکول کے لیے تیار ہو رہا تھا تو اس کے چہرے پر وہ بوجھ نہیں تھا جو عموماً ٹیسٹ والے دن ہوتا ہے۔ زویا نے اسے الوداع کہتے ہوئے صرف اتنا کہا، یاد رکھنا اذلان، کاغذ کا وہ ٹکڑا تمہاری قابلیت نہیں، صرف تمہاری یادداشت کا امتحان لے رہا ہے۔ تم اس سے بڑے ہو۔ اسکول کا منظر: تصادم کلاس روم میں ریاضی کا ٹیسٹ شروع ہوا۔ اذلان نے سوالات دیکھے۔ کچھ سوالات روایتی فارمولوں سے حل ہونے والے تھے، لیکن ایک سوال ایسا تھا جو منطق مانگ رہا تھا۔ اذلان نے اسے اسی طریقے سے حل کیا جو زویا نے کل اسے باورچی خانے میں اشیاء کی تقسیم کے دوران سمجھایا تھا۔ جب رزلٹ آیا تو اذلان کے اس جواب پر کراس لگا ہوا تھا۔ مس، میرا جواب درست ہے۔ اذلان نے ہمت جمع کر کے کہا۔ مس مارگریٹ نے عینک کے اوپر سے اسے دیکھا۔ اذلان، جواب درست ہو سکتا ہے لیکن طریقہ وہ نہیں جو میں نے کلاس میں لکھوایا تھا۔ اگر ہر بچہ اپنی مرضی کرنے لگا تو نظم و ضبط کہاں رہے گا؟ اذلان خاموش ہو گیا، لیکن اس کے اندر ایک سوال نے جنم لیا۔ کیا نظم و ضبط سوچنے کی آزادی سے زیادہ اہم ہے؟ شام کی نشست: ایک نیا موڑ گھر آ کر ...

خالی بستہ

تصویر
 خالی بستہ نیویارک کی سرد صبح میں کھڑکی کے باہر برف کی باریک تہہ جم رہی تھی اور دس سالہ اذلان اپنا بستہ تیار کر رہا تھا۔ اس کی انگلیاں مشینی انداز میں کتابیں ترتیب دے رہی تھیں جب کچن سے زویا کی آواز آئی، “اذلان! بستہ رکھ دو، آج ہم اسکول نہیں جا رہے۔” اذلان چونک کر پلٹا۔ “ماما، آج کوئی چھٹی نہیں ہے۔ کل میرا میتھس کا ٹیسٹ ہے، مس کہتی ہیں گریڈز بہت ضروری ہیں۔” زویا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ نرم لہجے میں بولی، “بیٹا، گریڈز یہ بتاتے ہیں کہ آپ نے کتنا رٹا لگایا، یہ نہیں بتاتے کہ آپ نے کتنا سیکھا۔ آج ہم گھر پر اصل اسکول لگائیں گے۔” وہ کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ اس کا بیٹا ایک ایسے گول چکر میں پھنس رہا ہے جہاں صرف پیریڈ ختم کرنا اور نمبر لینا ہی مقصد رہ گیا ہے۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ اسے صرف طالب علم نہیں بلکہ سوچنے والا انسان بنائے گی۔ وہ اسے کھڑکی کے پاس لے آئی۔ باہر بارش کے قطرے گر رہے تھے۔ زویا نے پوچھا، “کبھی سوچا ہے بادل اتنے بھاری ہو کر بھی گرتے کیوں نہیں؟ اور پانی ایک دم بالٹی کی طرح کیوں نہیں برستا؟” اذلان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ ٹیسٹ کے دباؤ سے نکل کر سوال کرنے لگا۔ زو...

: منفی خیالات سے چھٹکارا پائیں

تصویر
  : منفی خیالات سے چھٹکارا پائیں زندگی جیسے ایک لمبی خاموشی میں بدل گئی تھی۔ دل جذبات سے اتنا بوجھل تھا کہ ہر سوچ کسی اندھی گلی کی طرف لے جاتی محسوس ہوتی تھی۔ ایک آوارہ خیال نے ابھی پر پھیلانے ہی تھے کہ میں نے اچانک اس کا رخ موڑ دیا۔ میں نے خود سے آہستہ سے کہا: زندگی تب ہی مسکرائے گی جب میری بیٹی مسکرائے گی۔ یہ جملہ جیسے دل پر روشنی بن کر اترا اور میں نے پہلی بار اپنے ہی فیصلے پر خود کو داد دی کہ چلو کسی اچھی بات پر عمل تو کیا۔ انسان کا ذہن عجیب ہے۔ ایک منفی خیال آتا ہے اور پھر اس کے پیچھے جیسے پوری قطار چل پڑتی ہے۔ اگر اسی لمحے اسے نہ روکا جائے تو یہ خیالات دل کی زمین پر خوف اور اداسی کے بیج بو دیتے ہیں۔ اسی لیے میں نے خود کو ایک عادت سکھانا شروع کی: جیسے ہی کوئی منفی سوچ آئے، فوراً اسے بدل دو۔ اس کی جگہ کوئی امید بھرا جملہ رکھ دو، کوئی ایسی تصویر بنا لو جس میں روشنی ہو۔ آہستہ آہستہ محسوس ہوا کہ ذہن واقعی ماننے لگتا ہے۔ کبھی کبھی خیالات واقعی ریلوے کی پٹری کی طرح چلتے رہتے ہیں، رکتے ہی نہیں۔ ایسے لمحوں میں میں کنپٹی پر ہاتھ رکھ کر خود سے کہتی ہوں: بس، اب رک جاؤ۔ شروع میں یہ عمل...

Dua afsana

  شہر کی گہما گہمی اور دفتر کی سیاست سے تھکی ہاری زویا جب گھر لوٹی تو اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ آج پھر کسی نے اس کے کام کا کریڈٹ چرانے کی کوشش کی تھی اور حاسدین کی باتوں نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ دنیا اتنی تلخ کیوں ہے؟ کیوں لوگ بلاوجہ دوسروں کے درپے رہتے ہیں؟ اسی اداسی میں اس نے اپنی دادی اماں کو فون کیا۔ سب حال سننے کے بعد دادی نے بڑے سکون سے کہا: "بیٹی! دشمن باہر نہیں، کبھی کبھی ہماری ہمت کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ تم بس ایک کام کرو، جب بھی کسی کا خوف یا شر محسوس ہو، یہ کلمات اپنی زبان پر سجا لیا کرو: **اللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ**۔" زویا نے ان الفاظ کو ڈائری می ں لکھ لیا۔ اگلے دن دفتر میں جب ایک بار پھر وہی منفی ماحول بنا، تو اس نے گھبرانے کی بجائے دل ہی دل میں ان الفاظ کا ورد شروع کر دیا۔ > *"اے اللہ! ہم تجھے ان کے سینوں (مقابلے) میں لاتے ہیں اور ان کے شرور سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔"* >  حیرت انگیز طور پر، وہ الفاظ جو پہلے اسے تیر کی طرح چبھتے تھے، اب بے اثر ہونے لگے۔ اسے محسوس ہوا جیسے...

میراثِ حکمت

تصویر
میراثِ حکمت زرد شام کی اداس روشنی کمرے کے روزن سے چھن کر زینب کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جہاں ماضی اور حال کے کئی عکس آپس میں گتھم گتھا تھے۔ زینب، جس کے کالموں اور کونسلنگ کے چرچے دور دور تک تھے، آج خود ایک سوالیہ نشان بنی بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے قرآنِ پاک کھلا تھا اور سورہ مریم کی وہ آیت اس کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی: **"وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا"**۔ اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔ یادوں کے بکھرے ہوئے لمحے کسی پرانے البم کی طرح اس کے سامنے وا ہو گئے۔ اس نے تخیل کے ہاتھوں سے دو چار لمحے چنے، انہیں ہتھیلی پر سجایا اور پھر اس آیت کے سامنے رکھ کر موازنہ کرنے لگی۔ اس کے لبوں پر ایک مسرور کردینے والی مسکراہٹ ابھری۔ ایک بار، دو بار، تین بار... وہ بار بار اس جملے کو زبان کی نوک پر رکھ کر دہرانے لگی۔ "بچپن میں دانائی مل جانا... کس قدر حسین اور خوبصورت احساس ہے!" "زینب! کہاں کھو گئی ہو؟" اس کی ماں، کلثوم بیگم کی دھیمی آواز نے اسے حال میں واپس لایا۔ وہ کمرے میں داخل ہو رہی تھیں، ان کے ہاتھ میں وہی پرانی اون اور سلائیاں تھیں جنہیں وہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتی تھیں۔ زینب ن...

دیوارِ گریہ اور گلاب: ایک افسانہ

تصویر
  دیوارِ گریہ اور گلاب: ایک افسانہ ایڈورڈز ٹاؤن کی سرد شاموں میں جب برفباری شروع ہوتی تو شہر کی رنگین روشنیاں دھند میں گم ہونے لگتیں۔ مگر سینٹ جیمز اسٹریٹ کے آخری سرے پر واقع ایک پرانے لکڑی کے مکان کی کھڑکی سے ہمیشہ ایک نرم اور پُرسکون روشنی باہر آتی رہتی تھی۔ یہ ایلینا کا گھر تھا۔ ایلینا ایک ایسے معاشرے میں رہتی تھی جہاں رشتے اکثر موسموں کی طرح بدل جاتے تھے، مگر وہ خود ایک خاموش استقامت کی مثال تھی۔ اس کے شوہر مارک کو ایک طویل مہم پر سمندر پار گئے تین سال گزر چکے تھے۔ ان برسوں میں اس نے صرف گھر کی حفاظت نہیں کی تھی بلکہ اپنے وجود کی اس پاکیزگی کو بھی سنبھالے رکھا تھا جو اس شہر میں کم کم دکھائی دیتی تھی۔ ایک شام شہر کے معروف بزنس مین جولین نے اسے ایک بڑی تقریب میں مدعو کیا۔ جولین کا خیال تھا کہ تنہائی آخرکار ہر انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “ایلینا، تم اس خاموش زندگی میں کیوں قید ہو؟ مارک شاید تمہیں بھول چکا ہو۔ یہاں زندگی ہے، رونق ہے، آسائش ہے… اور میں تمہیں وہ سب دے سکتا ہوں جس کی تمہیں ضرورت ہو۔” ایلینا نے سکون بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس...

افسانہ: زمانوں کی دستک

تصویر
  افسانہ: زمانوں کی دستک شہر پر ایک عجیب خاموشی طاری تھی۔ گلیوں میں رونق تو تھی مگر دلوں میں خوف بستا تھا۔ لوگ بتوں کے سامنے جھکتے تھے اور بادشاہ کے حکم کو ہی آخری سچ سمجھتے تھے۔ ایسے ماحول میں چند نوجوان اپنے سینوں میں ایک الگ آگ لیے پھر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سچ ایک ہی ہے اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ بات چھپانا اب ان کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ ہر گزرتا دن خطرہ بڑھا رہا تھا۔ بادشاہ کے کارندے ہر اس شخص کو ڈھونڈتے پھرتے تھے جو توحید کی بات کرتا تھا۔ آخر ایک رات ان نوجوانوں نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ خاموشی سے پہاڑوں کی طرف نکل گئے۔ ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا جو راستے بھر ان کے پیچھے چلتا رہا، جیسے اسے بھی معلوم ہو کہ یہ سفر عام نہیں۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد انہیں ایک غار ملا۔ تھکے ہوئے قدم رک گئے۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا مانگی۔ “اے ہمارے رب، ہم پر اپنا کرم فرما اور ہمارے لیے بھلائی کا راستہ آسان کر دے۔” پھر وہ غار کے اندر سو گئے۔ دن گزرتے رہے۔ موسم بدلتے رہے۔ سورج ہر روز نکلتا اور ڈھل جاتا، مگر غار کے اندر ایک خاموش سکون قائم رہا۔ باہر دنیا بدل رہی تھی اور اندر...