اشاعتیں

Featured post

دعا کی طاقت

تصویر
خوبصورت کہانی جو آپ کے ایمان کو پختہ کرے گی زندگی کی نہایت اہم رات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دی جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چل...

میراثِ تمنا

تصویر
 میراثِ تمنا شہر کی بلند و بالا عمارت کے چالیسویں فلور پر بنے اس عالیشان دفتر میں خاموشی کا راج تھا، صرف اس مدھم سی آواز کے ساتھ جو مہنگے کافی میکر سے نکل رہی تھی۔ فواد نے ہاتھ میں پکڑا سنہرا قلم میز پر رکھا اور سامنے پھیلے ہوئے شہر کو دیکھنے لگا۔ اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کا خواب اس نے بیس سال پہلے ایک تنگ گلی کے بوسیدہ مکان میں دیکھا تھا۔ کامیابی، شہرت، اختیار اور بے حساب دولت۔ مگر اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو ایک فاتح کی ہونی چاہیے۔ اس کے سامنے میز پر ایک پرانی ڈائری کھلی تھی، جس کے زرد کاغذ پر اس کے باپ نے مرنے سے پہلے ایک آیت لکھی تھی: اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْہُدٰی (یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی) آج فواد کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے، مگر دل خالی تھا۔ اسے لگا جیسے اس نے زندگی کے بہترین سال ایک ایسی دوڑ میں کھو دیے ہوں جس کا اختتام صرف تھکن تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس نے کتنی بار ضمیر کی آواز کو دبا کر “ترقی” کے نام پر وہ راستے اختیار کیے جن پر دل اندر سے خاموش احتجاج کرتا رہا۔ اسی بے چینی میں اس نے اچانک فیصلہ کیا۔ وہ اٹھا، فائلیں ب...

افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی

تصویر
  افسانہ: گرج، خوف اور یقین کی روشنی گھر کے صحن میں آج بھی وہی پرانی لکڑی کی کرسی رکھی تھی، جس پر بیٹھ کر امی ہمیں بارش اور بجلی کے وقت سنبھال لیا کرتی تھیں۔ آسمان پر اگر بادل گرجتے تو پورا گھر جیسے ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جاتا۔ بچپن تھا، اور بچپن میں ڈر بھی سچ لگتا ہے اور کہانیاں بھی حقیقت۔ “جلدی! حضرت بابا فرید شکر گنج کا نام لو… بجلی ڈرتی ہے!” امی کی آواز کے ساتھ ہم سب بہن بھائی ایک دائرے میں کھڑے ہو جاتے۔ جیسے الفاظ نہیں، کوئی حفاظتی حصار بنا رہے ہوں۔ ہر چمک کے ساتھ آواز بلند ہوتی جاتی، اور ہر گرج کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی۔ “بابا فرید شکر گنج… بابا فرید شکر گنج…” ہمیں لگتا تھا جیسے آسمان کی آگ کسی نام سے تھم جائے گی۔ جیسے بجلی سن لے گی اور راستہ بدل لے گی۔ وقت گزرتا گیا، مگر کچھ باتیں وقت سے نہیں بدلتی تھیں۔ وہی ڈر، وہی عادتیں، وہی سرگوشیاں۔ پھر زندگی نے ایک نیا دروازہ کھولا۔ کتابیں، مطالعہ، اور قرآن کا ترجمہ… اور پہلی بار دل نے وہ سوال کیا جو بچپن میں کبھی نہ اٹھا تھا: کیا حفاظت الفاظ میں ہے… یا اللہ کے حکم میں؟ ایک شام آسمان پھر سیاہ ہوا۔ بادل گرجے۔ بجلی کڑکی۔ مگر اس بار منظر ...

افسانہ: جائیدادِ عشق

تصویر
  افسانہ: جائیدادِ عشق شہر کے سب سے روشن کیفے میں قہقہوں اور باتوں کا شور اپنے عروج پر تھا۔ زویا اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں گھری ہوئی تھی، جہاں ہر کوئی اس کی کامیابی اور اس کی شخصیت کا گرویدہ نظر آتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اس موڑ پر تھی جہاں اسے واقعی محسوس ہو رہا تھا کہ دنیا اس کے قدموں میں ہے۔ کامیابی، جوانی اور لوگوں کی ستائش… سب کچھ اسے حاصل تھا۔ اسی دوران اس کے فون پر ایک پرانا پیغام چمکا: “اصل مزہ تب ہے جب دنیا تمہیں چاہ رہی ہو اور تم اپنے رب کی چاہت میں مبتلا ہو جاؤ۔” زویا نے ایک گہرا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر آسمان کی وسعتوں کو دیکھنے لگی۔ اسے محسوس ہوا کہ تالیاں اور تعریفیں کسی سراب کی طرح ہیں۔ اس نے سوچا، بیماری یا بڑھاپے میں تو ہر کوئی اللہ کی طرف پلٹتا ہے، کیونکہ تب کوئی اور سہارا باقی نہیں رہتا۔ مگر اس وقت، جب اس کی رگوں میں جوانی کا لہو دوڑ رہا ہے اور اس کے پاس انتخاب کی پوری طاقت موجود ہے، اگر وہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھائے تو یہی اس کی اصل جائیداد ہوگی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور وضو کرنے چلی گئی۔ پانی کی ہر بوند کے ساتھ اسے یوں لگا جیسے وہ صرف چہرہ نہیں بلکہ اپنی روح کی دھو...

: **بساط کے آخری مہرے**

تصویر
  : **بساط کے آخری مہرے** **لاہور، 13 مئی 2026** رات کے ڈھائی بج رہے تھے، لیکن عدیل کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔ اس کے سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ارجنٹائن کے ساحل سے دور، سمندر کے بیچوں بیچ پھنسے ہوئے کروز شپ 'ایم وی ہونڈیئس' کی دھندلی سی ویڈیو چل رہی تھی۔ جہاز کے ڈیک پر موجود مسافروں کی چیخیں تو سنائی نہیں دے رہی تھیں، لیکن ان کے لڑکھڑاتے قدم اور ایک دوسرے کی طرف بے مقصد لپکنا عدیل کے جسم میں سنسنی دوڑا رہا تھا۔ "بالکل وہی منظر..." وہ بڑبڑایا۔ "ٹرین ٹو بوسن کا وہ پہلا ہرن... بس اب یہ ایک جہاز ہے۔" عدیل ایک فری لانس صحافی تھا جس نے 2021 میں 'زومبی وائرس اور عالمی بساط' کے نام سے ایک کالم لکھا تھا۔ اس وقت لوگوں نے اسے ایک فلمی دیوانے کی بڑ قرار دیا تھا، لیکن آج جب دنیا اسے 'ہنٹا وائرس' کا نیا ورژن کہہ رہی تھی، عدیل جانتا تھا کہ یہ صرف ایک پردہ ہے۔ اس کی نظریں میز پر رکھی کالی بوتل پر پڑیں، جس کا لیبل ایک حالیہ اربوں ڈالر کے عالمی گٹھ جوڑ کی گواہی دے رہا تھا۔ اس نے ایک جھرجھری لی اور اسے اٹھا کر سنک میں بہا دیا۔ کالی رنگت والا وہ مائ...

کریٹیو رائٹنگ کیوں ضروری ہے؟

تصویر
 کریٹیو رائٹنگ کیوں ضروری ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ الفاظ میں وہ طاقت ہے جو کسی کی سوچ بدل سکتی ہے؟ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ لکھنا صرف ایک مشغلہ ہے، لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ ایک بہترین کیریئر بھی ہے۔ 1. اپنے خیالات کو زبان دیں: ہم سب کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، لیکن اسے درست الفاظ میں ڈھالنا ایک فن ہے۔ کریٹیو رائٹنگ آپ کو اپنے احساسات کو صفحہ قرطاس پر اس طرح بکھیرنا سکھاتی ہے کہ قاری آپ کے لفظوں میں کھو جائے۔ 2. ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا ہتھیار: آج ہر برانڈ، ہر بلاگ اور ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایک اچھے لکھاری کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس لکھنے کی مہارت ہے، تو آپ گھر بیٹھے بلاگنگ، مواد نگاری (Content Writing) اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔ 3. میرا 10 سالہ تجربہ اب آپ کے لیے: میں نے گزشتہ 10 سالوں سے اپنا آن لائن تعلیمی ادارہ چلایا ہے اور اپنے بلاگ کے ذریعے لاکھوں قارئین تک رسائی حاصل کی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ جو مہارت میرا جنون ہے، وہ آپ کا پیشہ بنے۔ 4. اس کورس میں خاص کیا ہے؟ • ایک ماہ کا جامع کورس: صرف 1000 روپے میں وہ تمام گر سیکھیں جو آپ کو ایک ماہر ل...

حصہ دوم: آزمائش کی گھڑی

تصویر
  حصہ دوم: آزمائش کی گھڑی اگلی صبح جب اذلان اسکول کے لیے تیار ہو رہا تھا تو اس کے چہرے پر وہ بوجھ نہیں تھا جو عموماً ٹیسٹ والے دن ہوتا ہے۔ زویا نے اسے الوداع کہتے ہوئے صرف اتنا کہا، یاد رکھنا اذلان، کاغذ کا وہ ٹکڑا تمہاری قابلیت نہیں، صرف تمہاری یادداشت کا امتحان لے رہا ہے۔ تم اس سے بڑے ہو۔ اسکول کا منظر: تصادم کلاس روم میں ریاضی کا ٹیسٹ شروع ہوا۔ اذلان نے سوالات دیکھے۔ کچھ سوالات روایتی فارمولوں سے حل ہونے والے تھے، لیکن ایک سوال ایسا تھا جو منطق مانگ رہا تھا۔ اذلان نے اسے اسی طریقے سے حل کیا جو زویا نے کل اسے باورچی خانے میں اشیاء کی تقسیم کے دوران سمجھایا تھا۔ جب رزلٹ آیا تو اذلان کے اس جواب پر کراس لگا ہوا تھا۔ مس، میرا جواب درست ہے۔ اذلان نے ہمت جمع کر کے کہا۔ مس مارگریٹ نے عینک کے اوپر سے اسے دیکھا۔ اذلان، جواب درست ہو سکتا ہے لیکن طریقہ وہ نہیں جو میں نے کلاس میں لکھوایا تھا۔ اگر ہر بچہ اپنی مرضی کرنے لگا تو نظم و ضبط کہاں رہے گا؟ اذلان خاموش ہو گیا، لیکن اس کے اندر ایک سوال نے جنم لیا۔ کیا نظم و ضبط سوچنے کی آزادی سے زیادہ اہم ہے؟ شام کی نشست: ایک نیا موڑ گھر آ کر ...

خالی بستہ

تصویر
 خالی بستہ نیویارک کی سرد صبح میں کھڑکی کے باہر برف کی باریک تہہ جم رہی تھی اور دس سالہ اذلان اپنا بستہ تیار کر رہا تھا۔ اس کی انگلیاں مشینی انداز میں کتابیں ترتیب دے رہی تھیں جب کچن سے زویا کی آواز آئی، “اذلان! بستہ رکھ دو، آج ہم اسکول نہیں جا رہے۔” اذلان چونک کر پلٹا۔ “ماما، آج کوئی چھٹی نہیں ہے۔ کل میرا میتھس کا ٹیسٹ ہے، مس کہتی ہیں گریڈز بہت ضروری ہیں۔” زویا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ نرم لہجے میں بولی، “بیٹا، گریڈز یہ بتاتے ہیں کہ آپ نے کتنا رٹا لگایا، یہ نہیں بتاتے کہ آپ نے کتنا سیکھا۔ آج ہم گھر پر اصل اسکول لگائیں گے۔” وہ کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ اس کا بیٹا ایک ایسے گول چکر میں پھنس رہا ہے جہاں صرف پیریڈ ختم کرنا اور نمبر لینا ہی مقصد رہ گیا ہے۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ اسے صرف طالب علم نہیں بلکہ سوچنے والا انسان بنائے گی۔ وہ اسے کھڑکی کے پاس لے آئی۔ باہر بارش کے قطرے گر رہے تھے۔ زویا نے پوچھا، “کبھی سوچا ہے بادل اتنے بھاری ہو کر بھی گرتے کیوں نہیں؟ اور پانی ایک دم بالٹی کی طرح کیوں نہیں برستا؟” اذلان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ ٹیسٹ کے دباؤ سے نکل کر سوال کرنے لگا۔ زو...