اشاعتیں

Featured post

دعا کی طاقت

تصویر
خوبصورت کہانی جو آپ کے ایمان کو پختہ کرے گی زندگی کی نہایت اہم رات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دی جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چل...

تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ

تصویر
    تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ عوامی حلقوں میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ تقدیر کے فیصلے 15 شعبان یعنی شبِ برات کو ہوتے ہیں، لیکن جب ہم قرآنِ مجید کی آیات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ قرآن کی نصِ قطعی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تمام فیصلے درحقیقت لیلۃ القدر (شبِ قدر) میں ہوتے ہیں۔ قرآن کی روشنی میں دلائل قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقدیر کے فیصلوں اور اپنے احکامات کے نزول کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے:  * سورۃ القدر کی گواہی: "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ"    (اس میں فرشتے اور روح (جبریل) ہر امر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، اپنے رب کے حکم سے۔)    یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کے انتظامی معاملات اور فیصلے اسی رات فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔  * سورۃ الدخان کی صراحت:    "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ... فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ"    (ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا... اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا ج...

دل کا قبلہ افسانہ

تصویر
   افسانہ دل کا قبلہ جب احمد کی دکان پر پہلی بار روشنی لگی تو گلی والوں نے صرف ایک بات نوٹ کی— وہ مسکرا رہا تھا۔ یہ مسکراہٹ عام سی تھی، نہ شور، نہ اعلان۔ بس جیسے کسی نے دل کے اندر چراغ جلا لیا ہو اور روشنی آنکھوں تک آ گئی ہو۔ اسی گلی میں سلیم بھی رہتا تھا۔ سلیم کی آنکھوں نے روشنی دیکھی تو دل نے اندھیرا محسوس کیا۔ “اچھا… کاروبار چل نکلا؟” سلیم نے کہا، مگر لہجے میں دعا نہیں تھی، حساب تھا۔ احمد نے سر جھکا کر کہا: “اللہ کا کرم ہے۔” یہ جملہ سلیم کو ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ کیونکہ سلیم نے زندگی کو کبھی “کرم” کے زاویے سے نہیں دیکھا تھا، وہ ہمیشہ بندوبست کے زاویے سے دیکھتا تھا۔ وقت گزرا۔ ایک دن احمد کی دکان پر آگ لگ گئی۔ شعلے خاموش نہیں تھے، مگر احمد خاموش تھا۔ وہ راکھ میں کھڑا تھا، آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل میں شور نہیں تھا۔ اسی شام سلیم گلی میں لوگوں کو بتا رہا تھا: “میں نے تو پہلے ہی سوچ رکھا تھا، اسی لیے میں نے رسک نہیں لیا۔ دیکھا؟ عقل مند وہی ہوتا ہے جو پہلے بندوبست کر لے۔” کہتے ہوئے اس کے ہونٹ مسکرا رہے تھے۔ یہ وہ مسکراہٹ تھی جو کسی کی کامیابی سے نہیں، کسی کے جلنے سے پیدا ہ...

رمضان 2026 کی تیاریاں: روحانی، جسمانی اور انتظامی رہنمائی

تصویر
  رمضان 2026 کی تیاریاں: روحانی، جسمانی اور انتظامی رہنمائی فروری 2026 کا مہینہ اپنے ساتھ رحمتوں اور برکتوں کا وہ عظیم الشان موسم لے کر آ رہا ہے جس کا ہر مسلمان کو شدت سے انتظار ہوتا ہے۔ رمضان المبارک 2026 محض ایک مہینہ نہیں بلکہ یہ اپنی روح کو پاک کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا تعلق دوبارہ جوڑنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ خاص طور پر امریکہ، یورپ اور پاکستان میں مصروف طرزِ زندگی گزارنے والے مسلمانوں کے لیے رمضان کی پیشگی تیاری (Pre-Ramadan Planning) انتہائی ضروری ہے تاکہ اس مبارک مہینے کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔ 1. روحانی تیاری: دل کی زمین کو ہموار کریں رمضان کی تیاری کا اصل مقصد اپنے دل کو اللہ کی عبادت کے لیے تیار کرنا ہے۔ اگر ہم شعبان کے مہینے سے ہی اپنی تربیت شروع نہیں کریں گے، تو رمضان کے ابتدائی دن صرف جسمانی تھکن اور بھوک پیاس کی نذر ہو جائیں گے۔  * توبہ اور استغفار: اپنے پچھلے گناہوں پر ندامت کے ساتھ اللہ سے معافی مانگیں تاکہ رمضان کا آغاز ایک پاکیزہ روح کے ساتھ ہو۔  * نیت کی درستی: یہ عزم کریں کہ یہ رمضان آپ کی زندگی کا سب سے بہترین رمضان ہوگا۔...

دل کے صحن میں روشنی کے بیج

تصویر
دل کے صحن میں روشنی کے بیج وہ آنکھیں جو رو نہیں سکتیں، آہستہ آہستہ ویران ہو جاتی ہیں۔ یہ بات اس نے بہت دیر سے سیکھی تھی۔ شہر کے ایک خاموش محلے میں، پرانے درختوں کے سائے تلے، زینب کا گھر تھا۔ گھر نہیں، ایک ٹھہرا ہوا لمحہ۔ دیواروں پر نمی کے نشان تھے، جیسے وقت نے بھی یہاں آ کر سانس روک لی ہو۔ زینب کی آنکھیں خشک تھیں، مگر دل… دل میں ایک عجیب سی وحشت بسی رہتی تھی، جیسے کسی خالی کمرے میں اندھیرا بولنے لگے۔ وہ وضو کرتی تھی۔ روز۔ پانی چہرے کو چھوتا، ہاتھوں سے بہتا، مگر اندر کہیں کچھ نہ دھلتا۔ وہ جانتی تھی کہ مسئلہ پانی کا نہیں، نیت کا ہے۔ سمجھنے کے لیے اندر کی صفائی ضروری تھی۔ ایک دن اس نے اپنی ماں کی پرانی ڈائری کھولی۔ پیلے اوراق، کمزور تحریر، مگر لفظوں میں عجیب سی تازگی۔ ایک جگہ لکھا تھا: “دل اگر دل والے سے خالی ہو جائے تو اس میں کچھ اور آ بسـتا ہے۔ پھر وہ کچھ انسان نہیں رہنے دیتا۔” زینب نے ڈائری بند کر دی۔ اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔ اسی رات خواب میں اس نے ایک صحن دیکھا۔ بڑا، روشن، مگر خالی۔ صحن کے بیچوں بیچ ایک کاسہ رکھا تھا۔ کوئی آواز آئی: “...

قرآن، تجوید اور برکات

تصویر
  قرآن، تجوید اور برکات قرآن کریم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جس کی تلاوت باعثِ اجر و ثواب اور باعثِ برکت ہے۔ لیکن اس کلامِ الٰہی سے مکمل فیض حاصل کرنے کے لیے اسے اسی طرح پڑھنا ضروری ہے جیسے یہ نازل ہوا۔ تجوید محض حروف کی درست ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ یہ تلاوت میں وہ روح پھونکتی ہے جس سے قاری کی زندگی میں برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ علمائے امت اور کتبِ سلف کے اقتباسات فنِ تجوید کی اہمیت پر ائمہ دین نے بہت زور دیا ہے۔ ذیل میں چند معتبر کتب سے اقتباسات پیش خدمت ہیں:  * امام ابن الجزری (کتاب النشر): آپ فرماتے ہیں کہ "امتِ مسلمہ جس طرح قرآن کے معانی کی حفاظت کی مکلف ہے، اسی طرح اس کے الفاظ اور حروف کی تجوید کی حفاظت کی بھی مکلف ہے تاکہ یہ اسی طرح باقی رہے جیسے نازل ہوا تھا۔"  * ملا علی قاری (شرح الجزریہ): آپ کے نزدیک تجوید کا علم اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر تلاوت میں "لحنِ جلی" (بڑی غلطی) کا اندیشہ ہوتا ہے، جس سے بسا اوقات معنی بدل جاتے ہیں اور نماز فاسد ہو سکتی ہے۔  * امام غزالی (احیاء العلوم): آپ فرماتے ہیں کہ "قرآن کا حق یہ ہے کہ اسے ترتیل (تجوید) کے ساتھ پڑ...

قرآن کے ساتھ میرا سفر — 3

تصویر
  قرآن کے ساتھ میرا سفر —  3 جب حق آتا ہے وہ آیت پڑھ کر دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ خاموشی ایسی تھی جیسے شور تھک کر بیٹھ گیا ہو۔ حَتَّىٰ جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ حق آ جاتا ہے… یہ جملہ کوئی اعلان نہیں تھا، یہ ایک قانون تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ فتنہ ہمیشہ شور مچاتا ہے۔ وہ سوالوں کو الجھاتا ہے، باتوں کو موڑتا ہے، نیتوں پر گرد ڈالتا ہے۔ فتنہ چیختا ہے تاکہ سچ سنائی نہ دے۔ اور حق؟ حق کبھی چیختا نہیں۔ وہ آہستہ چلتا ہے، خاموشی سے جگہ بناتا ہے، اور پھر… کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسے یاد آیا کہ زندگی میں کتنی بار اس نے شور کو طاقت سمجھ لیا تھا۔ کتنی بار کنفیوژن کو ذہانت کا نام دیا تھا۔ اور کتنی بار سچ اپنی سادگی کے باعث نظرانداز ہو گیا تھا۔ وہ سوچنے لگی— جو دل سے حق کے دشمن ہوں وہ دلیل سے نہیں ڈرتے، وہ وضاحت سے ڈرتے ہیں۔ اسی لیے وہ بات کو گھماتے ہیں، لفظوں کو بگاڑتے ہیں، اور فضا میں ایسا دھواں بھر دیتے ہیں کہ اصل چیز دکھائی ہی نہ دے۔ مگر دھواں ہمیشہ ہوا کے سامنے ہار جاتا ہے۔ حق کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ کسی کو قائل کرنے نہیں آتا، وہ صرف ظاہر ہ...

قرآن کے ساتھ میرا سفر 2

تصویر
  قرآن کے ساتھ میرا سفر  ہدایت کے کنارے کھڑا انسان وہ سمجھ رہی تھی کہ یقین ایک منزل ہے۔ مگر آیت نمبر پانچ نے آ کر بتایا کہ یقین تو صرف دروازہ ہے۔ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ وہ دیر تک اس آیت کو دیکھتی رہی۔ ہدایت پر ہونا— یہ کوئی دعویٰ نہیں، یہ کوئی نعرہ نہیں، یہ کوئی لباس یا پہچان نہیں۔ یہ ایک کھڑا ہونا ہے۔ وہ سوچنے لگی ہم اکثر کہتے ہیں “ہمیں ہدایت مل گئی ہے” مگر قرآن کہتا ہے کہ ہدایت ملتی نہیں، ہدایت پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اور کھڑا ہونا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ہدایت ایک سیدھی لکیر نہیں، یہ ایک باریک راستہ ہے جہاں ذرا سا جھکاؤ انسان کو کنارے سے نیچے گرا دیتا ہے۔ وہ جان گئی کہ ہدایت کوئی محفوظ قلعہ نہیں جہاں پہنچ کر دروازہ بند ہو جائے۔ یہ تو ہر لمحہ اپنے آپ کو سنبھالنے کا نام ہے۔ اور پھر فلاح… فلاح کا مطلب صرف کامیابی نہیں۔ یہ اندر کی نجات ہے، وہ سکون جو ہجوم میں بھی میسر آ جائے، وہ روشنی جو اندھیرے میں بھی ساتھ چلتی رہے...