اشاعتیں

Featured post

دعا کی طاقت

تصویر
خوبصورت کہانی جو آپ کے ایمان کو پختہ کرے گی زندگی کی نہایت اہم رات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دی جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چل...

رمضان 2026 سعودی عرب: دنیا کی چکا چوند سے آخرت کی کامیابی تک

تصویر
رمضان 2026 سعودی عرب: دنیا کی چکا چوند سے آخرت کی کامیابی تک سعودی عرب میں Ramadan 2026 کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا مادی ترقی اور ڈیجیٹل شور و غل میں گم ہے۔ سعودی عرب کی تپتی دھوپ اور مقدس فضاؤں میں اس بار رمضان صرف ایک روایتی مہینہ نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو 'ری سیٹ' کرنے کا ایک الہامی موقع ہے۔ اگر ہم ان چار شعبوں کو مینیج کر لیں، تو ہم نہ صرف اس دنیا میں پرسکون رہیں گے بلکہ آخرت کی کامیابی بھی ہمارا مقدر بنے گی۔ 1. وقت کی تنظیم (Time Management: برکت کا حصول) سعودی عرب میں رمضان کے دوران دفتری اور کاروباری اوقات بدل جاتے ہیں، لیکن اصل چیلنج عبادات کے لیے وقت نکالنا ہے۔  * حل: اپنے دن کو نمازوں کے اوقات کے گرد ترتیب دیں۔ فجر سے اشراق اور عصر سے افطار کا وقت 'گولڈن آورز' ہیں۔ ان لمحات کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے ذکرِ الٰہی کے لیے وقف کریں۔ وقت کی قدر وہی ہے جو اسے آخرت کے لیے سرمایہ بنا لے۔ 2. خوراک کی مینجمنٹ (Diet Management: روح کی بالیدگی) سعودی دسترخوان اپنی وسعت اور لذیذ پکوانوں (کبسا، سمبوسہ، حارث) کے لیے مشہور ہیں، لیکن کثرتِ طعام انسان کو ...

Ramadan and the Accountability of the Soul

تصویر
 رمضان 2026 اور احتسابِ نفس مؤرخ لکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں جب بھی کسی قوم نے اپنے پیٹ کی اشتہا کو لگام دی، اس کی روح کے پروں میں پرواز کی طاقت آ گئی۔ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ خالقِ کائنات کی طرف سے اس مٹی کے پتلے کو یہ باور کروانے کی ایک مشق ہے کہ وہ اپنی جبلتوں کا غلام نہیں بلکہ ان کا حاکم ہے۔ کائنات کا پورا نظام ایک الٰہی نظم و ضبط (Discipline) کے تحت چل رہا ہے، اور رمضان ہمیں اسی آفاقی نظم کا حصہ بناتا ہے۔ سن 2026 کا رمضان ایک ایسے پُرفتن دور میں سایہ فگن ہو رہا ہے جہاں انسان اپنی خواہشات کے حصار میں قید ہو چکا ہے۔ 'حیا' اور 'اخلاقیات' جو کبھی مومن کا حقیقی زیور تھیں، اب مصلحتوں اور فیشن کی نذر ہو رہی ہیں۔ ایمان کی منطقی دلیل یہی ہے کہ اگر ایک بندہ اللہ کے حکم پر حلال رزق کو ایک مخصوص وقت کے لیے چھوڑ سکتا ہے، تو وہ ان تمام کاموں کو ہمیشہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑ سکتا جو اس کے رب نے حرام کیے ہیں؟ 'تقویٰ' دراصل اپنی انا اور لذت کو رضائے الٰہی پر قربان کرنے کا نام ہے، اور یہی آخرت کی دائمی کامیابی کی بنیاد ہے۔ جدیدیت کے نام نہاد علمبرداروں اور...

اگلی قسط: تیسرا دروازہ

تصویر
  اگلی قسط: تیسرا دروازہ اس جمعہ وہ جلدی جاگ گیا تھا۔ بغیر الارم کے۔ جیسے کسی نے اندر سے آواز دی ہو: اُٹھو… اب صرف پڑھنا کافی نہیں۔ سورۃ کہف کھلی۔ مگر آج نظر آیات پر نہیں، خاموشیوں پر تھی۔ وہ سوچ رہا تھا: دو گروہ تو سمجھ آ گئے— ایک حساب میں گم ایک یقین میں مطمئن مگر دل نے سوال کیا: کیا بس یہی دو راستے ہیں؟ آنکھ بند ہوئی اور وہ پھر غار کے سامنے تھا۔ مگر اس بار حیرت ہوئی۔ غار کا دہانہ بند نہیں تھا۔ ایک تیسرا دروازہ کھلا تھا— نہ مکمل اندھیرا نہ مکمل روشنی۔ وہ اندر گیا۔ وہاں کوئی لیٹا ہوا نہیں تھا۔ کوئی سویا ہوا نہیں تھا۔ بس ایک شخص بیٹھا تھا، سر جھکا ہوا، ہاتھ خالی، آنکھیں بند۔ نہ ریت گھڑی نہ آسمان کی طرف نگاہ وہ بول پڑا: “تم کون ہو؟” جواب فوراً نہیں آیا۔ پھر آہستہ سے آواز ابھری: “میں وہ ہوں جو گنتا بھی نہیں اور انکار بھی نہیں کرتا۔” وہ الجھ گیا۔ “تو پھر تم کیا کرتے ہو؟” آواز میں سکون تھا: “میں انتظار کرتا ہوں۔” “کس کا؟” “اُس لمحے کا جب اللہ خود وقت کو بولنے دے۔” وہ چونکا۔ “تمہیں معلوم نہیں کتنی دیر گزر چکی؟” خاموش مسکراہٹ۔ پھر جواب آیا: “جب دل جاگ جائے تو مدت سوال نہیں رہتی۔” تب اسے ...

اگلی قسط: وقت کے پار سوال

تصویر
  اگلی قسط: وقت کے پار سوال اس جمعہ، اس نے سورۃ کہف کھولی تو دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ جیسے پچھلی قسط ختم نہیں ہوئی تھی، بس وقفہ آیا تھا۔ وہی آیت… مگر آج لفظ “أَحْصَى” اس کی نظر میں ٹھہر گیا۔ کس نے زیادہ درست شمار کیا؟ وہ سوچنے لگا: اگر اللہ نے مدت بھی بتا دی، پھر شمار پر سوال کیوں؟ اسی لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ پھر غار کے قریب ہے— مگر اس بار غار اندھیرے میں نہیں تھا۔ اندر ہلکی سی روشنی تھی، جیسے کسی دل میں یقین جاگ رہا ہو۔ غار کے دہانے پر دو آدمی بیٹھے تھے۔ ایک کے ہاتھ میں ریت گھڑی تھی۔ وہ ہر دانہ گن رہا تھا، بےچینی سے۔ دوسرے کے ہاتھ خالی تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پہلا بولا: “اگر میں درست گن لوں تو سچ میرے پاس ہوگا۔” دوسرا مسکرایا: “اور اگر وقت ہی مخلوق ہو تو گنتی کس کی؟” وہ آگے بڑھا۔ “تم میں سے کون درست ہے؟” ریت گھڑی والا بولا: “میں! کیونکہ میرے پاس حساب ہے۔” آسمان کو دیکھنے والے نے آہستہ کہا: “میں نہیں جانتا—اور یہی میرا علم ہے۔” تب غار کے اندر سے آواز آئی، نرم مگر فیصلہ کن: “درست شمار وہ نہیں جو عدد جان لے، درست شمار وہ ہے جو حد جان لے...

غار میں سویا ہوا وقت

  غار میں سویا ہوا وقت ہر جمعہ کی طرح اس جمعہ بھی، فجر کے بعد اس نے سورۃ کہف کھولی۔ صفحات تو وہی تھے، مگر آج الفاظ کچھ زیادہ خاموش تھے، جیسے کسی گہرے راز کو زبان دینے سے پہلے توقف کر رہے ہوں۔ وہ آیت پر آ کر ٹھہر گیا: “ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ…” اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اچانک اسے یوں لگا جیسے وہ کسی غار کے دہانے پر کھڑا ہے۔ باہر دھوپ ہے، اندر گہری ٹھنڈک۔ غار کے اندر چند نوجوان لیٹے ہیں۔ ان کے چہرے پُرسکون ہیں، جیسے وقت نے انہیں چھونا چھوڑ دیا ہو۔ وہ آگے بڑھا۔ “تم کب سے سو رہے ہو؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔ ایک نوجوان نے آنکھیں کھولیں، مسکرایا، اور کہا: “ایک دن… یا شاید اس کا کچھ حصہ۔” وہ چونک گیا۔ باہر صدیوں کی گرد جمی تھی، سلطنتیں بدل چکی تھیں، زبانیں مر چکی تھیں، مگر یہاں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔ وہ سمجھ گیا: یہ نیند نہیں تھی، یہ اعلان تھا۔ یہ غفلت نہیں تھی، یہ قدرت تھی۔ اسی لمحے غار کے باہر دو آوازیں سنائی دیں۔ ایک آواز کہہ رہی تھی: “تین سو سال! یہ ناممکن ہے۔” دوسری آواز بولی: “اگر وقت اللہ کے ہاتھ میں ہو، تو صدی اور لمحہ برابر ہیں۔” وہ باہر آیا تو دیکھا:...

ای-بک: بریرہ

تصویر
  ---  ای-بک: بریرہ – ایک ماں کی سچائی اور خاموشی کی ڈھال (ایڈیشن: مارچ 2026) --- پیش لفظ: سچ کی دستاویز "To study psychological trauma is to come face-to-face with human vulnerability in the natural world and with the capacity for evil in human nature." (نفسیاتی صدمے کا مطالعہ کرنا قدرتی دنیا میں انسانی کمزوری اور انسانی فطرت میں برائی کی صلاحیت کا سامنا کرنا ہے۔) — جوڈتھ ہرمن (Judith Herman)، "Trauma and Recovery" یہ کتاب محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ماں کا اپنی بیٹی کے نام وہ عہد نامہ ہے جو اسے مستقبل کے اندھیروں سے بچائے گا۔ بریرہ، میری جان، جب تم اس کتاب کو پڑھو گی تو شاید تم جوان ہو چکی ہو گی، شاید تم خود ایک ماں بن چکی ہو گی، یا شاید زندگی تمہیں کسی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے جہاں تمہیں یہ جاننے کی ضرورت ہو کہ تم کہاں سے آئی ہو اور تمہارے ساتھ کیا گزرا ہے۔ اس کتاب کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ وقت گزرنے کے ساتھ حقائق مسخ ہو جاتے ہیں۔ لوگ اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے کہانیوں کے نئے رنگ بھرتے ہیں، اور کبھی کبھی تو وہ خود کو ہیرو اور متاثرین کو ولن بنا کر پیش کرتے ہیں۔...

افسانہ: جب روشنی ملی تو وہ چلی

تصویر
افسانہ: جب روشنی ملی تو وہ چلی وہ اندھیرے میں کھڑی تھی۔ یہ اندھیرا رات کا نہیں تھا، یہ وہ اندھیرا تھا جو سوالوں سے بنتا ہے۔ ایسا اندھیرا جس میں آنکھیں کھلی ہوں مگر راستے دھندلے ہو جائیں۔ اچانک ایک چمک سی ہوئی۔ اتنی تیز نہیں کہ سب کچھ واضح ہو جائے، بس اتنی کہ قدم کا اندازہ ہو جائے۔ وہ رک گئی۔ دل نے کہا: چل خوف نے کہا: ٹھہر پھر اسے یاد آیا— جب روشنی ملے تو چلنا، اور جب اندھیرا آئے تو رک جانا۔ وہ آگے بڑھی۔ صرف ایک قدم۔ پورا سفر نہیں، صرف ایک قدم۔ کیونکہ بجلی کی روشنی کبھی پورا منظر نہیں دکھاتی، صرف اگلا قدم دکھاتی ہے۔ وہ جانتی تھی یہ روشنی اس کی نہیں، یہ وہ روشنی تھی جو کسی اور نے اس کے لیے پیدا کی تھی۔ ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا۔ نظر نہ آنے والی، مگر زندگی دینے والی۔ وہ مسکرائی۔ ضروری چیزیں ہمیشہ دکھائی نہیں دیتیں۔ اسے درخت یاد آئے— جنہیں انسان نے کاٹ کر یہ گمان کیا تھا کہ وہ طاقتور ہو گیا ہے، اور درختوں نے خاموشی سے اس کی سانسیں بچا لیں۔ ایک لمحے کو اندھیرا پھر چھا گیا۔ وہ رک گئی۔ اس بار خوف سے نہیں، سمجھ سے۔ یہ رکنا پیچھے ہٹنا نہیں تھا، یہ خود کو سنبھالنا تھا۔ ...