دیوارِ گریہ اور گلاب: ایک افسانہ
دیوارِ گریہ اور گلاب: ایک افسانہ
ایڈورڈز ٹاؤن کی سرد شاموں میں جب برفباری شروع ہوتی تو شہر کی رنگین روشنیاں دھند میں گم ہونے لگتیں۔ مگر سینٹ جیمز اسٹریٹ کے آخری سرے پر واقع ایک پرانے لکڑی کے مکان کی کھڑکی سے ہمیشہ ایک نرم اور پُرسکون روشنی باہر آتی رہتی تھی۔ یہ ایلینا کا گھر تھا۔
ایلینا ایک ایسے معاشرے میں رہتی تھی جہاں رشتے اکثر موسموں کی طرح بدل جاتے تھے، مگر وہ خود ایک خاموش استقامت کی مثال تھی۔ اس کے شوہر مارک کو ایک طویل مہم پر سمندر پار گئے تین سال گزر چکے تھے۔ ان برسوں میں اس نے صرف گھر کی حفاظت نہیں کی تھی بلکہ اپنے وجود کی اس پاکیزگی کو بھی سنبھالے رکھا تھا جو اس شہر میں کم کم دکھائی دیتی تھی۔
ایک شام شہر کے معروف بزنس مین جولین نے اسے ایک بڑی تقریب میں مدعو کیا۔ جولین کا خیال تھا کہ تنہائی آخرکار ہر انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔
اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “ایلینا، تم اس خاموش زندگی میں کیوں قید ہو؟ مارک شاید تمہیں بھول چکا ہو۔ یہاں زندگی ہے، رونق ہے، آسائش ہے… اور میں تمہیں وہ سب دے سکتا ہوں جس کی تمہیں ضرورت ہو۔”
ایلینا نے سکون بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے لہجے میں نہ غصہ تھا نہ سختی، صرف وقار تھا۔
“جولین، تم جسے قید سمجھتے ہو، وہ میرے لیے امانت ہے۔ میں صرف اس چیز کی حفاظت نہیں کر رہی جو مارک میرے پاس چھوڑ گیا ہے، بلکہ اس وعدے کی نگہبان ہوں جو میرے اور میرے رب کے درمیان ہے۔”
جولین خاموش ہوگیا۔ شاید پہلی بار اس نے کسی عورت کی آنکھوں میں ایسی مضبوطی دیکھی تھی جو دنیاوی لالچ سے بلند تھی۔
ایلینا کی سہیلیاں اکثر حیران ہوتیں کہ وہ اتنی تنہائی میں خود کو کیسے سنبھال لیتی ہے۔ وہ ہمیشہ نرمی سے جواب دیتی، “یہ میری اپنی طاقت نہیں۔ جب انسان سجدے میں اپنے رب سے بات کرتا ہے تو دل کو ایک عجیب سکون ملتا ہے۔ پھر اکیلا پن بھی خوف نہیں دیتا۔”
اس کے کردار میں خاموش وفاداری تھی۔ وہ صرف اپنے شوہر کے گھر کی محافظ نہیں تھی بلکہ اس کی عزت، اس کے نام اور اپنی حیا کی بھی حفاظت کر رہی تھی۔
پھر ایک صبح مارک واپس لوٹا۔
گھر ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ دروازے پر وہی سفید گلاب رکھے تھے، کمروں میں وہی مانوس خوشبو تھی، اور ایلینا کے چہرے پر وہی پاکیزہ سکون۔
کچھ دنوں بعد اسے اندازہ ہوا کہ ان برسوں میں کتنے امتحان اس گھر کے دروازے تک آئے تھے۔
اس نے حیرت سے پوچھا، “ایلینا، تم نے یہ سب کیسے نبھایا؟”
ایلینا نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا، “یہ میری طاقت نہیں تھی، مارک۔ یہ اس کی توفیق تھی۔ میں نے بس ہر کمزوری کے لمحے میں اس سے پناہ مانگی، اور اس نے میری حفاظت کر دی۔”
اس سرد شہر کی خاموش راتوں میں ایلینا کا کردار ایک چراغ کی طرح تھا، جو یہ یاد دلاتا تھا کہ پاکیزگی، وفاداری اور تقویٰ کسی زبان، لباس یا سرزمین کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ تو دل کے وہ راز ہیں جو انسان کو اپنے رب کے قریب کر دیتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں