خالی بستہ
خالی بستہ
نیویارک کی سرد صبح میں کھڑکی کے باہر برف کی باریک تہہ جم رہی تھی اور دس سالہ اذلان اپنا بستہ تیار کر رہا تھا۔ اس کی انگلیاں مشینی انداز میں کتابیں ترتیب دے رہی تھیں جب کچن سے زویا کی آواز آئی، “اذلان! بستہ رکھ دو، آج ہم اسکول نہیں جا رہے۔”
اذلان چونک کر پلٹا۔ “ماما، آج کوئی چھٹی نہیں ہے۔ کل میرا میتھس کا ٹیسٹ ہے، مس کہتی ہیں گریڈز بہت ضروری ہیں۔”
زویا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ نرم لہجے میں بولی، “بیٹا، گریڈز یہ بتاتے ہیں کہ آپ نے کتنا رٹا لگایا، یہ نہیں بتاتے کہ آپ نے کتنا سیکھا۔ آج ہم گھر پر اصل اسکول لگائیں گے۔” وہ کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ اس کا بیٹا ایک ایسے گول چکر میں پھنس رہا ہے جہاں صرف پیریڈ ختم کرنا اور نمبر لینا ہی مقصد رہ گیا ہے۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ اسے صرف طالب علم نہیں بلکہ سوچنے والا انسان بنائے گی۔
وہ اسے کھڑکی کے پاس لے آئی۔ باہر بارش کے قطرے گر رہے تھے۔ زویا نے پوچھا، “کبھی سوچا ہے بادل اتنے بھاری ہو کر بھی گرتے کیوں نہیں؟ اور پانی ایک دم بالٹی کی طرح کیوں نہیں برستا؟” اذلان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ ٹیسٹ کے دباؤ سے نکل کر سوال کرنے لگا۔ زویا نے مسکرا کر اسے پانی کے چکر کی کہانی سنائی۔ اس لمحے ماں اور بیٹے کے درمیان ایک نیا تعلق جنم لے رہا تھا۔
دوپہر کو زویا نے اسے کچن میں بلایا اور کہا، “آج ہم دیانتداری پڑھیں گے۔” اذلان نے بے دلی سے جواب دیا، “یہ تو کتاب میں بھی لکھا ہے۔” زویا نے کہا، “کل گروسری اسٹور پر کیشیئر نے ہمیں دس ڈالر زیادہ دے دیے تھے، اگر میں رکھ لیتی تو کیا ہوتا؟” اذلان فوراً بولا، “وہ چوری ہوتی۔” زویا مسکرائی، “کتاب کی تعریف بھول جاؤ گے، مگر وہ دس ڈالر واپس کرنا ہمیشہ یاد رہے گا۔”
شام کو سائنسی ماڈل بناتے ہوئے اذلان سے غلطی ہوئی اور ماڈل ٹوٹ گیا۔ وہ ڈر گیا کہ اب ڈانٹ پڑے گی، مگر زویا ہنس کر بولی، “شاباش، اب تمہیں ایک طریقہ معلوم ہو گیا جس سے یہ نہیں بن سکتا۔ اب دوسرا طریقہ آزماؤ۔” اس جملے نے اس کے دل سے ناکامی کا خوف نکال دیا اور وہ کھل کر سوال پوچھنے لگا۔
رات کو سونے سے پہلے زویا نے پوچھا، “آج کی سب سے اہم بات کیا تھی جو تم اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہو؟” اذلان نے کچھ دیر سوچا، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا، “میں نے سیکھا کہ سوال پوچھنا ڈرنے سے بہتر ہے، اور میرا دماغ صرف کتابیں بھرنے کی مشین نہیں ہے۔” زویا نے اسے گلے لگا لیا۔ اسے سکون تھا کہ آج اس نے صرف پڑھایا نہیں بلکہ اثر چھوڑا ہے۔ اسے یقین تھا کہ کل جب اذلان اسکول جائے گا تو اس کا بستہ کتابوں سے بھرا ہوگا، مگر اس کا ذہن سوالوں اور جذبوں سے بھرا ہوگا جو اسے غیر معمولی انسان بنائیں گے۔
پڑھانا ایک نوکری ہو سکتی ہے، لیکن زندگی بدلنا ایک فن ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں