Dua afsana

 


شہر کی گہما گہمی اور دفتر کی سیاست سے تھکی ہاری زویا جب گھر لوٹی تو اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ آج پھر کسی نے اس کے کام کا کریڈٹ چرانے کی کوشش کی تھی اور حاسدین کی باتوں نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ دنیا اتنی تلخ کیوں ہے؟ کیوں لوگ بلاوجہ دوسروں کے درپے رہتے ہیں؟

اسی اداسی میں اس نے اپنی دادی اماں کو فون کیا۔ سب حال سننے کے بعد دادی نے بڑے سکون سے کہا:

"بیٹی! دشمن باہر نہیں، کبھی کبھی ہماری ہمت کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ تم بس ایک کام کرو، جب بھی کسی کا خوف یا شر محسوس ہو، یہ کلمات اپنی زبان پر سجا لیا کرو: **اللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ**۔"

زویا نے ان الفاظ کو ڈائری می



ں لکھ لیا۔ اگلے دن دفتر میں جب ایک بار پھر وہی منفی ماحول بنا، تو اس نے گھبرانے کی بجائے دل ہی دل میں ان الفاظ کا ورد شروع کر دیا۔

> *"اے اللہ! ہم تجھے ان کے سینوں (مقابلے) میں لاتے ہیں اور ان کے شرور سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔"*

حیرت انگیز طور پر، وہ الفاظ جو پہلے اسے تیر کی طرح چبھتے تھے، اب بے اثر ہونے لگے۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے گرد ایک غیر مرئی دیوار کھڑی ہو گئی ہے۔ جس شخص نے اسے نیچا دکھانے کے لیے جال بنا تھا، وہ خود ہی اپنی باتوں میں الجھ کر رہ گیا۔

شام کو جب وہ واپس آئی تو اس کے قدموں میں تھکن نہیں، بلکہ ایک فاتحانہ سکون تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ جب ہم اللہ کو اپنے اور دشمن کے درمیان کھڑا کر دیتے ہیں، تو دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اللہ کی قدرت کے سامنے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتا ہے۔

اب یہ دعا زویا کا مستقل وظیفہ بن چکی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ دشمن تو ہر موڑ پر بدلتے رہیں گے، لیکن اگر "حصارِ دعا" مضبوط ہو تو کوئی شر اسے چھو بھی نہیں سکتا۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز