میرا سوہنا شہر لاہور

میرا سوہنا شہر لاہور

 

میرا سوہنا شہر لاہور

قسط اول

جیسے انسانی زندگی کی ابتدا دل سے ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی میرے اس سفر کی ابتدا پاکستان کے دل لاہور سے ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ شہروں سے آپ کا رشتہ ازل سے جڑا ہوتا ہے، وہ آپ کو اپنی طرف ایسے کھینچتے ہیں جیسے مقناطیس۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

یہ ۱۹۹۵ء کی بات ہے جب میں دسویں جماعت کے پیپرز دینے کے بعد پہلی بار پورے ہوش و حواس میں لاہور آئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے کبھی لاہور نہیں آئی تھی، آئی تو کئی بار تھی، لیکن بچپن کے وہ پھیرے بس یوں ہی تھے جن کی یادیں دھندلی تھیں۔ بڑے ہونے کے بعد، اپنی صوابدید پر، یہ میرا لاہور کا پہلا پھیرا تھا اور اسی پہلے ہی پھیرے میں مجھے اس شہر سے ایسا عشق ہوا کہ ٹھیک تین سال بعد ہم ہمیشہ کے لیے ضلع اوکاڑہ سے لاہور شفٹ ہو گئے۔

وہ شام اور ٹرین کا سفر

مجھے آج بھی وہ رات بہت اچھی طرح یاد ہے جب ہم نے اوکاڑہ سے لاہور کے لیے رختِ سفر باندھا تھا۔ امی نے ہمیشہ کی طرح اپنی پرانی روایت کے مطابق شام ہوتے ہی ہمیں کھانا کھلا کر سلا دیا۔ ہمیں رات گیارہ بجے کی ٹرین پکڑنی تھی، اس لیے ہم سب دوبارہ سو کر اٹھے تھے۔

آج کے دور میں جب ہم رات کے ایک ایک بجے تک جاگتے ہیں تو یہ سوچنا بھی محال لگتا ہے کہ شام ڈھلتے ہی کوئی کیسے سو سکتا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس وقت کی سادگی، اس خوبصورت روٹین اور اس سکون کا کوئی مول نہیں تھا، اور نہ ہی وہ سکون اب کہیں ملتا ہے۔

جب ٹرین اوکاڑہ کے اسٹیشن سے چلی تو دل میں ایک عجیب سا تجسس اور خوشی تھی۔ پٹریوں کی وہ شناسا آواز رات کے سناٹے میں ایک نیا گیت سنا رہی تھی، ایک نئی زندگی کا گیت۔

لاہور کا بڑا اسٹیشن اور کلمہ چوک کا مسکن

صبح ہوتے ہی ہماری ٹرین لاہور کے بڑے اسٹیشن پر جا رکی۔ قلیوں کا شور، چائے والوں کی آوازیں اور لاہور کی ہوا میں رچی بسی ایک خاص مہک۔ ہم نے اسٹیشن سے تانگہ لیا اور ہماری پہلی منزل قصور پورہ بنی۔ ایک ماہ ہم وہاں رہے، لیکن اس کے بعد کلمہ چوک ہمارا وہ مستقل مسکن بنا جہاں ہم نے ۲۰۱۴ء تک اپنی زندگی کا ایک طویل اور خوبصورت حصہ گزارا۔

کلمہ چوک کا وہ گھر صرف اینٹ گارے کا مکان نہیں تھا، وہ ہماری زندگی کی کتاب تھا۔ وہاں کی یادیں اتنی خوبصورت اور اتنی گہری ہیں کہ آج بھی دل تڑپ اٹھتا ہے۔ اسی گھر کے آنگن سے میرے پیارے ابو اور بھائی کے جنازے اٹھے، دکھ کا وہ موسم بھی ہم نے وہیں جھیلا۔ اور اسی گھر کی دیواروں نے خوشیوں کے قہقہے بھی سنے جب میرے تین بھائیوں کی شادیاں اسی گھر سے ہوئیں، میری دو بہنیں اور تین بھتیجے بھانجیاں اسی صحن میں پیدا ہوئیں۔ دکھ اور سکھ کے سارے موسم ہم نے اسی ایک چھت کے نیچے گزارے۔

یادوں کی رہگزر اور بدلاؤ کے رنگ

کلمہ چوک صرف ایک چوک نہیں تھا، وہ ہمارا گواہ تھا۔ برکت مارکیٹ کی وہ آوارہ گردیاں، وہ بھی پیدل سہیلیوں اور گھر والوں کے ساتھ، اور اچھرہ کے بازاروں کی خاک چھاننا، یہ سب لاہور کی اس زندگی کے رنگ تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے لے کر لیڈز یونیورسٹی تک کا میرا تعلیمی اور ذاتی سفر بھی اسی علاقے سے جڑا رہا۔ کلمہ چوک آج بھی اپنی جگہ قائم ہے اور جب بھی میں وہاں سے گزرتی ہوں تو میری زندگی کی فلم آنکھوں کے سامنے چلنے لگتی ہے۔

اس کے بعد زندگی ہمیں چونگی امرسیدھو لے گئی جہاں ہم کچھ سال رہے۔ پھر میری شادی کے فوراً بعد ہم بینک اسٹاپ شفٹ ہو گئے اور اسی خوبصورت موڑ پر میری بیٹی کی پیدائش ہوئی جس نے میری زندگی کو نئے رنگوں سے بھر دیا۔ تاحال ہماری رہائش وہیں ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ کرائے کے گھر کا کیا فائدہ؟ لیکن میں مسکرا کر کہتی ہوں کہ کرائے کے گھر کا یہی سب سے بڑا فائدہ ہے کہ جہاں دل چاہا، جہاں یادوں نے نیا بسیرا ڈھونڈا، ہم وہیں چل دیے۔ اور پھر سال ۲۰۲۵ء میں اس شہر نے مجھے ایک بار پھر اپنی آغوش میں لے لیا۔ لاہور نے مجھے پناہ بھی دی، نام بھی دیا، رشتے بھی دیے اور بے شمار یادیں بھی۔ یہ شہر اب مجھ سے اور میں اس شہر سے الگ نہیں ہو سکتے۔

پہلی قسط کا اختتام

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز