افسانہ: محل، مصلّٰی اور دیوارِ گریہ

 


افسانہ: محل، مصلّٰی اور دیوارِ گریہ


زمانوں کی گرد اڑی تو تاریخ کے افق پر چار دیو قامت سائے لہرائے۔ یہ سائے چار عورتوں کے تھے، جن کے قدموں تلے خاک تو ایک سی تھی مگر جن کے ماتھے پر لکھی تحریریں ایک دوسرے سے یکسر جدا تھیں۔


پہلا منظر ایک ایسے گھر کا تھا جہاں فجر کی پہلی کرن کے ساتھ وحی اترتی تھی۔ فضا میں فرشتے پر مارتے تھے اور صدق و صفا کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ یہاں دو عظیم پیغمبروں، نوحؑ اور لوطؑ کی بیویاں رہتی تھیں۔ باہر سے دیکھنے والوں کو لگتا تھا کہ یہ عورتیں کائنات کی خوش نصیب ترین روحیں ہیں جو نبوت کے سائے میں سانس لے رہی ہیں۔ مگر دیواروں کے پیچھے کہانی کچھ اور تھی۔ ان کے دلوں میں منافقت کی دیمک لگی تھی۔ وہ اس نور کے اتنے قریب تھیں کہ اس کی چمک نے انہیں اندھا کر دیا تھا۔ انہوں نے سچائی کو ایک گھریلو روایت سمجھا اور ایمان کی امانت میں خیانت کی۔ جب عذاب کی گھڑی آئی تو پیغمبر کی رفاقت بھی انہیں نہ بچا سکی۔ ان کا قصہ ہمیں پکار پکار کر کہتا ہے کہ ہدایت گھر کی دیواروں میں نہیں، دل کی گہرائیوں میں ہوتی ہے۔


دوسرا منظر ایک عالیشان محل کا تھا۔ وہاں سنگِ مرمر کے ستون تھے، سونے کے تخت تھے اور فضاؤں میں ایک ظالم کی خدائی کا رعب تھا۔ فرعون کی ملکہ آسیہ اس محل کے وسط میں کھڑی ایک ایسی قیدی تھی جس کی روح آزاد تھی۔ باہر جبر کا سمندر تھا مگر آسیہ کے سینے میں ایمان کا ایک چھوٹا سا چراغ جل رہا تھا جسے فرعون کی تمام تر طاقت بھی نہ بجھا سکی۔ جب اس نے محل کی آرائشوں کو ٹھکرا کر پکارا

اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے

تو گویا اس نے رہتی دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ تمہارا ماحول تمہیں نیکی سے نہیں روک سکتا؛ اگر تم چاہو تو کفر کے گڑھ میں بھی جنت کا راستہ تلاش کر سکتی ہو۔


تیسرا منظر ایک خاموش حجرے کا تھا جہاں مریمؑ اپنی تنہائی اور توکل کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ ان کا امتحان سب سے انوکھا تھا۔ وہ پاکیزہ تھیں مگر ان پر تہمتوں کے پہاڑ ٹوٹنے والے تھے۔ انہوں نے نہ شور مچایا، نہ صفائیاں پیش کیں۔ انہوں نے صرف اپنے رب کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ ان کی خاموشی اور ان کا صبر ایک ایسی ڈھال بن گیا جس نے زمانے کی تمام کڑوی باتوں کو بے اثر کر دیا۔


جب ہم ان چاروں داستانوں کو ایک جگہ رکھ کر دیکھتے ہیں تو ایک عجیب سچائی سامنے آتی ہے۔ نوحؑ اور لوطؑ کی بیویاں اس لیے ہلاک ہوئیں کیونکہ انہوں نے خیر کے سمندر کے پاس رہ کر بھی پیاسا رہنا پسند کیا۔ اور آسیہؑ اس لیے امر ہو گئیں کیونکہ انہوں نے شر کے طوفان میں بھی خیر کا دامن تھامے رکھا۔


حاصلِ افسانہ

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ تمہاری نجات اس میں نہیں کہ تم کس کی بیوی ہو، کس کی بیٹی ہو یا کس کے محل میں رہتی ہو۔ تمہاری نجات صرف تمہارے اپنے انتخاب میں ہے۔ اپنے حصے کی مشقت کو ہمت سے کاٹو، کیونکہ مریم کا صبر ہو یا آسیہ کا عزم، ہر مشکل کے بعد خیر ان کا مقدر بنی۔ اور تمہارا مقدر بھی تمہارے ہاتھ میں ہے۔



---۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


The Walls of Choice


As the dust of time settles, four shadows emerge from history. These are the shadows of four women who shared the same earth but walked entirely different paths.


The first scene was in a home where angels descended and Divine words were spoken. Here lived the wives of Nuh (A.S) and Lut (A.S). To the world, they seemed like the luckiest souls, living in the shadow of Prophets. But behind the walls, their hearts were cold. They were so close to the light that they became blind to it. They betrayed the trust of faith. When the time of judgment came, even being the wife of a Prophet could not save them. Their story tells us that guidance is not found in the walls of a house, but in the depths of the heart.


The second scene was a magnificent palace. There were marble pillars, golden thrones, and the terror of a tyrant who claimed to be God. Asiya, the Queen of Pharaoh, stood in the middle of this palace — a prisoner whose soul was free. Outside was a sea of oppression, but inside her chest burned a small lamp of faith that even Pharaoh’s power could not blow out. When she prayed, O my Lord, build for me a house near You in Paradise, she sent a message to the world that your environment cannot stop you from being good. If you choose, you can find a path to Heaven even in the house of a tyrant.


The third scene was a silent room where Maryam (A.S) sat with her trust in Allah. Her trial was unique. She was pure, yet she faced the judgment of the world. She didn’t argue or scream; she simply surrendered to Allah’s will. Her silence and patience became a shield that protected her honor forever.


When we look at these stories together, a powerful truth appears. The wives of the Prophets failed because they chose to stay thirsty while sitting next to the ocean of Truth. But Asiya succeeded because she held onto the Truth even in the middle of a storm of evil.


The Lesson

Your success does not depend on whose wife or daughter you are, or what kind of house you live in. Your success depends only on your own choices. Be brave, because every struggle eventually leads to goodness, and your destiny is in your hands.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز