افسانہ: زمانوں کی دستک
افسانہ: زمانوں کی دستک
شہر پر ایک عجیب خاموشی طاری تھی۔ گلیوں میں رونق تو تھی مگر دلوں میں خوف بستا تھا۔ لوگ بتوں کے سامنے جھکتے تھے اور بادشاہ کے حکم کو ہی آخری سچ سمجھتے تھے۔ ایسے ماحول میں چند نوجوان اپنے سینوں میں ایک الگ آگ لیے پھر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سچ ایک ہی ہے اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔
یہ بات چھپانا اب ان کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ ہر گزرتا دن خطرہ بڑھا رہا تھا۔ بادشاہ کے کارندے ہر اس شخص کو ڈھونڈتے پھرتے تھے جو توحید کی بات کرتا تھا۔ آخر ایک رات ان نوجوانوں نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
وہ خاموشی سے پہاڑوں کی طرف نکل گئے۔ ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا جو راستے بھر ان کے پیچھے چلتا رہا، جیسے اسے بھی معلوم ہو کہ یہ سفر عام نہیں۔
کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد انہیں ایک غار ملا۔ تھکے ہوئے قدم رک گئے۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا مانگی۔
“اے ہمارے رب، ہم پر اپنا کرم فرما اور ہمارے لیے بھلائی کا راستہ آسان کر دے۔”
پھر وہ غار کے اندر سو گئے۔
دن گزرتے رہے۔ موسم بدلتے رہے۔ سورج ہر روز نکلتا اور ڈھل جاتا، مگر غار کے اندر ایک خاموش سکون قائم رہا۔ باہر دنیا بدل رہی تھی اور اندر وقت جیسے رک گیا تھا۔
صدیاں بیت گئیں۔
جب ان نوجوانوں کی آنکھ کھلی تو انہیں یوں لگا جیسے چند گھنٹے ہی گزرے ہوں۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا:
“کتنی دیر سوئے رہے ہوں گے؟”
کسی نے کہا، “شاید ایک دن۔”
بھوک محسوس ہوئی تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو کچھ سکے دے کر شہر بھیجا۔
وہ نوجوان جیسے ہی آبادی میں داخل ہوا، اس کے قدم رک گئے۔ بازار وہی تھا مگر سب کچھ بدلا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ لوگوں کے لباس الگ تھے، بولنے کا انداز مختلف تھا، حتیٰ کہ عمارتیں بھی نئی لگ رہی تھیں۔
وہ ایک دکان پر گیا اور کھانے کی چیز مانگی۔ جب اس نے پرانا سکہ نکالا تو دکاندار حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
“یہ سکہ کہاں سے آیا؟”
چند لمحوں میں وہاں لوگ جمع ہو گئے۔ نوجوان گھبرا گیا۔ اسے لگا شاید وہ پکڑا گیا ہے۔ مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ اب حالات ویسے نہیں رہے۔ شہر میں اب اللہ کا نام آزادی سے لیا جا رہا تھا۔
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
وہ فوراً واپس غار کی طرف دوڑا اور اپنے ساتھیوں کو سب کچھ بتایا۔ تب انہیں اندازہ ہوا کہ اللہ نے انہیں محض بچایا ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا ہے۔
ان نوجوانوں کی کہانی آج بھی دل کو حوصلہ دیتی ہے۔ کبھی کبھی انسان خود کو دنیا میں اکیلا محسوس کرتا ہے، مگر سچائی پر قائم رہنے والا کبھی حقیقت میں تنہا نہیں ہوتا۔ اللہ اپنے بندوں کے لیے ایسے راستے پیدا کر دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
---۔۔۔۔۔۔۔۔
The Knock of Time
The city looked alive, but fear lived inside its people. Idols stood in every corner, and no one dared to speak against the king. In the middle of that darkness, a few young men carried a different light in their hearts. They believed that only Allah deserved worship.
Every passing day made life harder for them. The king punished anyone who spoke about truth openly. Finally, the young men decided to leave the city before their faith was taken away from them.
Late one night, they quietly walked toward the mountains. A loyal dog followed them the entire way, refusing to leave them alone.
After a long journey, they found a cave. Tired and worried, they sat down and prayed:
“Our Lord, shower us with Your mercy and guide us to what is right.”
Soon after, they fell into a deep sleep.
Days passed. Seasons changed. The sun continued to rise and set, but inside the cave there was complete peace. While the world outside kept moving, time inside seemed frozen.
Hundreds of years went by.
When the young men finally woke up, they believed they had slept for only a short while.
One of them asked, “How long were we asleep?”
“Maybe a day,” another replied quietly.
Feeling hungry, they sent one companion to the city with some silver coins.
As he entered the town, confusion covered his face. Everything looked unfamiliar. The buildings were different, the clothes had changed, and even the people spoke differently.
He stopped at a shop to buy food. The moment he handed over the old coin, the shopkeeper stared at it in shock.
“Where did you get this?”
People quickly gathered around him. Fear filled the young man’s heart, but then he noticed something strange. No idols were standing in the streets anymore. People were openly speaking about Allah.
He rushed back to the cave and told his friends everything. Only then did they realize what had happened. Allah had protected them and turned their story into a lesson for generations.
Their story still gives hope to anyone who feels lonely while holding onto truth. Sometimes the world leaves a person with nowhere to go, but Allah can create safety in the most unexpected places.
۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں