اے قرآن! تو میری گواہی بن جا

 


اے قرآن! تو میری گواہی بن جا
#مقیتہ وسیم

اے قرآنِ پاک!
اے اللہ سبحان و تعالیٰ کے نازل کردہ زندہ کلام!
تو صرف ایک کتاب نہیں،
تو میری روح کا سہارا ہے،
میری تنہائی کا ہم راز ہے،
میری بے قراری کا جواب ہے۔

میں آج تیرے سامنے کھڑی ہوں
نہ کسی دعوے کے ساتھ
نہ کسی کمال کے زعم میں،
بس ایک کمزور انسان کی حیثیت سے،
جو مانتی ہے کہ وہ اکثر تھک جاتی ہے،
جو اعتراف کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ مضبوط نہیں رہتی۔

اے قرآن!
میں مانتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ تیرا حق ادا نہیں کیا۔
کبھی مصروفیت کا بہانہ بنا لیا،
کبھی دل کی سستی کو عذر بنا لیا،
کبھی دنیا کی آوازیں اتنی بلند ہو گئیں
کہ تیری آواز پس منظر میں چلی گئی۔
مگر تو گواہ رہنا،
میرا دل کبھی تجھ سے بے نیاز نہیں ہوا۔

جب میں خاموشی کے بوجھ تلے دب گئی،
میں تیرے پاس آئی۔
جب لفظ میرا ساتھ چھوڑ گئے،
تیری آیات نے مجھے بولنا سکھایا۔
جب آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
اور کسی کو دکھانے کی ہمت نہ ہوئی،
میں نے تجھے کھولا
اور تیرے سامنے سب رکھ دیا۔

میں نے تجھ سے اپنے خوف کہے،
اپنی الجھنیں سنائیں،
اپنی شکستوں کا اعتراف کیا،
اور اپنی چھوٹی چھوٹی امیدیں بھی
تجھے سونپ دیں۔
تو نے مجھے کبھی رد نہیں کیا،
کبھی جھڑکا نہیں،
بلکہ ہر بار
اپنے نور سے مجھے ڈھانپ لیا۔

اے قرآن!
علم اور ہدایت تو بے شک
صرف اللہ ہی عطا کرتا ہے،
مگر تو وہ وسیلہ ہے
جس کے ذریعے دل
اپنے رب تک پہنچتا ہے۔
تیری تلاوت میں
میں نے سکون پایا،
تیری آیات میں
میں نے خود کو پہچانا،
اور تیرے مفہوم میں
میں نے زندگی کو سمجھا۔

تو نے مجھے بتایا
کہ میں اکیلی نہیں ہوں،
کہ میرا رب مجھے دیکھتا ہے،
سنتا ہے،
سمجھتا ہے۔
تو نے مجھے صبر سکھایا،
شکر کا ہنر دیا،
اور امید کا دامن تھامنا سکھایا
جب سب کچھ بکھرتا محسوس ہو رہا تھا۔

اے قرآن!
اس کائنات میں
تجھ سے زیادہ سچی
اور کوئی کتاب نہیں۔
تو ہر زمانے کے انسان سے بات کرتا ہے،
ہر دل کے سوال کو پہچانتا ہے،
اور ہر زخمی روح کے لیے
مرہم رکھتا ہے۔

تو صرف پڑھے جانے کے لیے نہیں آیا،
تو جینے کے لیے آیا ہے۔
تو صرف الفاظ نہیں،
تو عمل ہے،
راستہ ہے،
اور روشنی ہے۔

آؤ!
ہم اس کتاب سے محبت کریں
جو ہمیں ہمارے رب سے جوڑتی ہے۔
آؤ!
قرآن کو صرف رسم نہ بنائیں،
بلکہ رفاقت بنا لیں۔
کیونکہ جو دل قرآن سے جڑ جاتا ہے،
وہ کبھی مکمل طور پر ٹوٹتا نہیں۔

بے شک،
اسی کلام میں
اللہ کی قربت کی خوشبو ہے،
اور اسی خوشبو میں

روح کو اصل سکون ملتا ہے۔

میری زندگی کی سچی دعائیں

کسی محراب کے سائے میں نہیں ہوئیں،

وہ زمین پر گرتے آنسوؤں میں تھیں۔

وہ لمحے جب انسان کے پاس

الفاظ نہیں رہتے،

صرف محتاجی بچتی ہے۔

اور محتاجی

ہمیشہ رحم کو پکارتی ہے۔

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

یہ صرف تلاوت کا آغاز نہیں،

یہ انسان کے وجود کی ابتدا ہے۔

اللہ نے چاہا

کہ کتابِ ہدایت

رحمت کے نام سے کھلے،

کیونکہ انسان کی کہانی بھی

رحم کے دروازے سے شروع ہوتی ہے۔

رحم

کوئی تصور نہیں،

یہ ایک محفوظ جگہ ہے۔

جہاں نہ آواز پہنچتی ہے،

نہ روشنی داخل ہوتی ہے،

نہ ہوا کا راستہ ہوتا ہے—

اور پھر بھی

زندگی پوری حفاظت کے ساتھ

پرورش پاتی ہے۔

ماں کا رحم

قرآن کے بیان کردہ

تین پردوں میں لپٹا ہوا۔

انسان

تین اندھیروں سے نکل کر

دنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔

اور شاید اسی مناسبت سے

واپسی پر

تین چادریں اس کا آخری لباس بنتی ہیں۔

آغاز بھی پردوں میں،

انجام بھی پردوں میں۔

ایک دن

میں نے اپنی ماں کو یونہی دیکھا—

خاموش،

میرے قریب بیٹھی ہوئی۔

کوئی نصیحت نہیں،

کوئی سوال نہیں،

کوئی مطالبہ نہیں۔

بس موجودگی۔

اسی لمحے

مجھے رحم کا مفہوم سمجھ آیا:

رحمت بولتی نہیں،

وہ ساتھ رہتی ہے۔

قرآن ہمیں سکھاتا ہے:

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

اور ماں

اس تعلیم کی جیتی جاگتی شکل بن جاتی ہے۔

ماں پہلی نظر میں اپنا لیتی ہے،

کیونکہ اس کا پیار

اس کی ملکیت نہیں ہوتا،

وہ رب کی امانت ہوتا ہے۔

اوپر آسمان سے

اور نیچے زمین پر

ایک ہی آواز آتی ہے:

“خوف نہ کرو،

تم اکیلے نہیں ہو۔”

رحم وہ مقام ہے

جہاں وجود کو قالب ملتا ہے

اور روح کو اذن۔

عدم سے ہستی تک کا راستہ

اسی جگہ سے کھلتا ہے۔

اسی لیے

رب ہمیں ہمارے شعور سے پہلے جانتا ہے۔

وہ ہمیں تب تھام لیتا ہے

جب ہم خود اپنا نام بھی نہیں جانتے۔

میری زندگی میں

ایک مرحلہ ایسا بھی آیا

جب لفظ بکھر گئے،

اور دعا بھی خاموش ہو گئی۔

اس وقت

میں نے کچھ مانگا نہیں،

بس پکارا:

“یا رحمن،

یا رحیم۔”

اور یہی صدا

کافی ٹھہری۔

کیونکہ رحمان

وہ ہے جو سوال سے پہلے عطا کرتا ہے،

اور رحیم

وہ ہے جو ٹوٹنے کے بعد بھی

ہاتھ نہیں چھوڑتا۔

یہ تحریر

کسی بحث کا نتیجہ نہیں،

یہ اُن ساعتوں کی گواہی ہے

جہاں میں

صرف رحم کے حصار میں

سانس لیتی رہی۔........

O Qur’an, Be My Witness

#Muqeeta Waseem


O Noble Qur’an,

O living Word sent down by Allah, the Most High—

you are not merely a book resting on shelves.

You are the support of my soul,

the confidant of my solitude,

the answer to the restlessness I often fail to explain.


Today, I stand before you

without claims,

without pride,

without the illusion of strength.

I come as a fragile human being—

one who grows weary,

one who admits she is not always steadfast,

one who learns again and again how to return.


O Qur’an,

I confess that I have not always given you your due.

At times, I hid behind busyness.

At times, I blamed the heaviness of my heart.

And sometimes, the noise of the world grew so loud

that your voice faded into the background.

Yet bear witness—

my heart was never free of you.


When silence pressed heavily upon me,

I turned to you.

When words abandoned me,

your verses taught me how to speak again.

When tears fell without permission

and I could not share them with anyone,

I opened you

and laid everything before you.


I entrusted you with my fears,

my confusions,

my quiet failures,

and even my smallest hopes.

You never rejected me.

You never turned me away.

Each time,

you wrapped me in your light

and let me breathe again.


O Qur’an,

knowledge and guidance belong only to Allah—

yet you are the path

through which the heart reaches its Lord.

In your recitation, I found calm.

In your verses, I recognized myself.

And in your meanings,

I began to understand life.


You reminded me

that I am not alone.

That my Lord sees me,

hears me,

understands me.

You taught me patience when I wanted answers,

gratitude when I felt empty,

and hope when everything seemed to fall apart.


O Qur’an,

there is no book in this universe

more truthful than you.

You speak to every age,

you understand every heart,

and you carry healing

for every wounded soul.


You were not revealed to be read only,

but to be lived.

You are not just words—

you are action,

you are direction,

you are light.


Come,

let us love the Book

that connects us to our Lord.

Let us not reduce the Qur’an to ritual alone,

but make it our companion.

For the heart that clings to the Qur’an

is never truly broken.


Indeed,

within this Divine Speech

lies the fragrance of closeness to Allah,

and within that fragrance

the soul finds its truest peace.

Ar-Rahmān. Ar-Rahīm.

The prayers that truly broke me

were not made inside a mosque.

They were born in helplessness.

And helplessness

always calls out to mercy.

Ar-Rahmān. Ar-Rahīm.

This is not just the opening of a verse.

It is the opening of the human story.

Allah chose to begin His Book

with Mercy,

because life itself

begins in the womb.

The womb

is not an idea—

it is a place.

A place without light,

without air,

without sound,

and yet life is kept

completely safe within it.

A mother’s womb

exists within three layers of darkness.

Perhaps that is why

a human being is wrapped

in three shrouds at the end.

We arrive from three veils of darkness,

and we return behind three veils.

One day,

I watched my mother.

She sat beside me quietly,

her hand resting on my head.

No questions.

No complaints.

No words.

Just presence.

In that moment, I understood:

Mercy does not make noise.

It stays.

The Qur’an says:

Ar-Rahmān. Ar-Rahīm.

And a mother becomes

its living explanation.

A mother loves at first sight

because that love is not her own—

it is a trust from Allah.

From the heavens above

and from the earth below,

the same message is given:

“Do not be afraid.

You are safe.”

The womb is the place

where body and soul

are granted together.

The journey from non-existence to being

passes through mercy.

That is why Allah knows us

before we know ourselves.

He holds us

long before we can even recognize who we are.

There came a time in my life

when all beautiful words fell silent.

Even prayer refused to leave my tongue.

All I could say was:

“O Rahmān,

O Rahīm.”

And perhaps that was enough.

Because Ar-Rahmān

is the One who gives

before being asked,

and Ar-Rahīm

is the One who holds on

even after we break.

This writing was not born from argument.

It emerged from moments

when I survived

only under the shelter of mercy.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

معوذتین

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity