قرآن اور زبانِ وحی—ترجمہ کافی کیوں نہیں؟
قرآن اور زبانِ وحی—ترجمہ کافی کیوں نہیں؟
انسانی فطرت کا یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ہم اکثر اس حقیقت کا انکار کر دیتے ہیں جسے ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پاتے۔ سچائی کا ادراک تب تک ممکن نہیں جب تک انسان حقیقت کے لبادے کو ہٹا کر اس کے اصل جوہر کا مشاہدہ نہ کر لے۔
ڈاکٹر موریس بکائی کا حیرت انگیز واقعہ
فرانسیسی ڈاکٹر موریس بکائی کا قصہ ہم سب کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ وہ ایک ماہر ڈاکٹر تھے، مگر قرآن کے بارے میں ان کی رائے نہایت متعصبانہ تھی۔ وہ اپنے ہر مسلمان مریض سے کہتے: "یہ کتاب (نعوذ باللہ) من گھڑت ہے۔"
ایک بار جب شاہ فیصل ان کے زیرِ علاج تھے، تو انہوں نے یہی بات شاہ صاحب سے کہی۔ شاہ فیصل نے ایک ایسا سوال کیا جس نے ڈاکٹر بکائی کی زندگی بدل دی:
* شاہ فیصل: "کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟"
* ڈاکٹر بکائی: "ہاں، میں نے اس کا ترجمہ پڑھا ہے۔"
* شاہ فیصل: "پھر تم نے قرآن نہیں پڑھا، کیونکہ قرآن صرف عربی میں ہے!"
یہ ایک ایسا جملہ تھا جس نے ڈاکٹر بکائی کو دو سال تک عربی سیکھنے پر مجبور کیا، اور جب انہوں نے اصل قرآن پڑھا تو وہ پکار اٹھے کہ یہ کلامِ الہٰی ہی ہے اور فوراً اسلام قبول کر لیا۔
جدیدیت، لبرل ازم اور ہماری منافقت
آج کے دور میں خود کو 'روشن خیال' کہنے والا لبرل طبقہ مغرب کی اندھی تقلید میں اسلامی اقدار، حیا اور اخلاقیات پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ مغربی منافقت کا عروج ہے کہ وہ عربی زبان کی وسعت اور بلاغت سے نابلد ہونے کے باوجود قرآن پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
> یاد رکھیے: جو اردو یا انگریزی ترجمہ ہم پڑھتے ہیں، وہ اللہ نے نازل نہیں کیا، بلکہ وہ ایک انسان کی اپنی فہم ہے۔ اگرچہ تراجم اثر رکھتے ہیں، مگر وہ 'روح' اور 'نور' جو اللہ کے اپنے الفاظ میں ہے، وہ ترجمے میں مکمل طور پر نہیں سما سکتا۔
>
ضمیر کی دستک اور حل
ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم دنیاوی ڈگریوں اور زبانوں کے لیے برسوں لگا دیتے ہیں، مگر اس کلام کو سمجھنے کے لیے چند ماہ نہیں نکال پاتے جو ہماری آخرت کا ضامن ہے۔
* اللہ کی طرف رجوع کریں: قرآن کو صرف برکت کے لیے نہ پڑھیں، بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
* عربی سیکھنے کا عزم: اگر ایک غیر مسلم سچائی کی تلاش میں عربی سیکھ سکتا ہے، تو ہم بطور مسلمان اس سے محروم کیوں ہیں؟
* کامیابی کا راستہ: حقیقی کامیابی صرف دنیاوی ترقی میں نہیں، بلکہ اس کلامِ برحق کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے اور اپنانے میں ہے۔
اختتامی فکر:
آئیے اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیں! کیا ہم اللہ کے سامنے یہ عذر پیش کر سکیں گے کہ ہمارے پاس اس کے کلام کو اس کی اصل زبان میں سمجھنے کا وقت نہیں تھا؟ اپنی زندگی کا رخ اللہ کی طرف موڑیں، کیونکہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔
امید ہے اب یہ بلاگ آپ کی ضرورت کے مطابق ہوگا۔ کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں اس بلاگ کے لیے ایک 'SEO Friendly' ڈسکرپشن اور کچھ ٹیگز (Tags) بھی لکھ دوں تاکہ یہ گوگل پر بہتر رینک کر سکے؟

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں