دروازہ افسانہ
دروازہ افسانہ
رات بہت خاموش تھی۔
ایسی خاموشی جو شور مچا رہی ہو۔
کمرے کی لائٹ بند تھی، موبائل اسکرین جل رہی تھی، اور عائشہ بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی۔ ذہن میں فیصلوں کی ایک قطار تھی—کون سا راستہ چنے، کس کو چھوڑے، کس امید کو زندہ رکھے اور کس خواہش کو دفن کر دے۔
وہ اچانک اٹھ بیٹھی۔
“یا اللہ… یہ سب کیوں اتنا مشکل ہے؟”
اس نے سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ دل بوجھل تھا، جیسے اندر کوئی خلا ہو جو بھر ہی نہیں رہا۔
کچن سے برتنوں کی ہلکی سی آواز آئی۔
امی جاگ رہی تھیں۔
عائشہ دبے قدموں باہر آئی۔
“امی؟ آپ سوئی نہیں؟”
امی نے مسکرا کر دیکھا، جیسے اس سوال کا انتظار ہی تھا۔
“نیند نہیں آ رہی تھی… تم بھی؟”
عائشہ خاموش ہو گئی۔
امی نے چولہا بند کیا، پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں۔
“دل بھاری ہے؟”
یہ سوال سنتے ہی عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
“امی… میں نے سب کچھ پلان کر لیا تھا، مگر کچھ بھی ویسا نہیں ہو رہا۔ لگتا ہے سب میرے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔”
امی نے آہستہ سے کہا:
“قرآن پڑھا آج؟”
عائشہ نے نظریں چرا لیں۔
“نہیں… وقت نہیں ملا۔”
امی نے کوئی ملامت نہیں کی، بس دھیرے سے بولیں:
“وقت نہیں ملا… یا دل نہیں مانا؟”
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
امی نے تسبیح کے دانے انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہا:
“مجھے یاد ہے، جب تم چھوٹی تھیں، تمہیں ایک آیت بہت اچھی لگتی تھی۔”
عائشہ نے سر اٹھایا۔
“کون سی؟”
امی نے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
“عبادت بھی اسی کی… مدد بھی اسی سے۔
میں ہمیشہ کہتی تھی نا، یقین کے بغیر عبادت صرف عادت بن جاتی ہے۔”
عائشہ نے دھیمی آواز میں کہا:
“امی… میں نے سب کچھ خود سنبھالنے کی کوشش کی۔ کسی سے مانگنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔”
امی مسکرائیں۔
“اور اب؟”
“اب تھک گئی ہوں۔”
اسی رات، سب سو گئے۔
عائشہ اپنے کمرے میں اکیلی تھی۔
اس نے قرآن کھولا—یوں ہی، بغیر کسی نیت کے۔
نظر ٹھہر گئی۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
اس کے ہونٹ ہلے۔
پہلی بار اس نے یہ آیت جلدی میں نہیں پڑھی۔
“یا اللہ… واقعی؟
صرف تیری عبادت؟
اور واقعی… صرف تجھ سے مدد؟”
اسے لگا جیسے یہ آیت سوال بن کر اس سے مخاطب ہے۔
“تم کس دروازے پر دستک دے رہی ہو؟
لوگوں کے؟
خواہشوں کے؟
یا اپنے غرور کے؟”
عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“میں تھک گئی ہوں، یا اللہ…
اگر تو ہے، تو مجھے بس اتنا سکھا دے
کہ تیرے سوا کسی پر بھروسا نہ کروں۔”
اس لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے اندر کہیں ایک دروازہ کھل گیا ہو۔
بھاری پن ہلکا ہونے لگا۔
سانس آسان ہو گئی۔
اگلے دن چیزیں جادوئی طور پر نہیں بدلیں۔
مسائل وہی تھے، فیصلے وہی۔
مگر عائشہ بدل گئی تھی۔
جب دل گھبراتا، وہ آیت دہرا لیتی۔
جب راستہ بند لگتا، وہ کہتی:
“یا اللہ، بس تیری مدد سے۔”
اور حیرت انگیز طور پر،
وہ راستے جو کل ناممکن لگ رہے تھے
آج ایک ایک قدم کر کے کھلنے لگے۔
ایک شام امی نے پوچھا:
“کچھ بدلا ہے؟”
عائشہ نے مسکرا کر جواب دیا:
“ہاں امی… میں نے لڑنا چھوڑ دیا ہے۔
اب بس دروازہ کھٹکھٹاتی ہوں۔”
امی نے سر پر ہاتھ رکھا۔
“بس یہی عبادت ہے۔”
عائشہ نے دل میں دہرایا:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
اور اسے یقین ہو گیا—
جو دروازہ اللہ کی طرف کھلتا ہے،
وہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
---

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں