سورہ لھب کے آ ئینے میں
تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ
وہ یہ سورت جلدی میں نہیں پڑھتا تھا۔
ہر لفظ ٹھہر کر،
جیسے کسی آئینے میں خود کو دیکھ رہا ہو:
تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
مسجد کے صحن میں بیٹھا وہ اکثر سوچتا،
یہ صرف ایک شخص کا ذکر تو نہیں…
یہ تو ایک کردار ہے۔
ایک سوچ۔
ایک رویّہ۔
ابو لہب کوئی دور کا نام نہیں تھا۔
وہ ہر دور میں زندہ رہا ہے۔
غرور میں،
حسب نسب کے زعم میں،
حق کو ٹھکرانے کی ضد میں۔
وہ خود بھی کبھی اسی قبیلے کا حصہ تھا۔
طاقت پر ناز،
تعلقات پر گھمنڈ،
اور حق بات سن کر منہ موڑ لینا۔
پھر ایک دن اس نے محسوس کیا:
ہاتھ سلامت ہیں،
مگر اعمال جل رہے ہیں۔
دل زندہ ہے،
مگر ضمیر راکھ ہو چکا ہے۔
تب اسے سمجھ آئی:
سورۃ لہب صرف لعنت نہیں،
یہ وارننگ ہے۔
یہ اعلان ہے
کہ جو حق کے مقابل کھڑا ہو،
وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
نہ مال بچے گا،
نہ نام،
نہ رشتہ۔
مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ
وہ آیت پڑھتے ہوئے رک گیا تھا۔
“واقعی،
جو کچھ میں جمع کر رہا ہوں،
کیا وہ مجھے بچا بھی سکتا ہے؟”
اب وہ اس سورت کو
کسی دشمن کے لیے نہیں پڑھتا تھا،
بلکہ
خود کو بچانے کے لیے۔
کہ کہیں
میں بھی ابو لہب نہ بن جاؤں
حق دیکھ کر انکار کرنے والا،
دعوت سن کر ہنسنے والا،
اور آگ کو کامیابی سمجھنے والا۔
سورۃ لہب
اسے روز یاد دلاتی تھی:
نسب نجات نہیں،
قربت ضمانت نہیں،
صرف حق کے سامنے جھک جانا ہی سلامتی ہے۔
وہ سورت ختم کرتا،
دل میں ایک دعا رکھتا:
یا اللہ!
مجھے ابو لہب کے انجام سے نہیں،
اس کے راستے سے بچا لینا۔
#سورۃ_لہب
#تبّت_یدا
#قرآن_سے_مکالمہ
#روحانی_ادب
#یقین
#انجام
#حق_و_باطل

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں