میرا خواب ترکی
میرا خواب ترکی
کچھ منزلیں ایسی ہوتی ہیں جہاں قدم رکھنے سے پہلے ہی انسان کا دل وہاں ڈیرہ ڈال لیتا ہے۔ میرے لیے وہ منزل ترکی (Turkey) ہے۔ کبھی کبھی میں آنکھیں بند کرتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں استنبول (Istanbul) کی کسی قدیم، پتھریلی گلی میں چل رہی ہوں۔ ہوا میں سمندر کی نمکینی اور تازہ قہوے کی مہک ہے، اور سامنے سے نیلی مسجد کے بلند و بالا مینار مجھے پکار رہے ہیں۔ میں نے اس شہر کو دیکھا نہیں، مگر میں اسے پہچانتی ہوں—بالکل کسی بچھڑے ہوئے ہم سفر کی طرح۔
بچپن کی وہ ایک بات اور امی کا تذکرہ
میری اس دیوانگی کی بنیاد بچپن میں ہی پڑ گئی تھی جب میں نے اپنی امی سے سنا تھا کہ "آخری جنگ ترکی (Turkey) سے شروع ہوگی۔" اس وقت میرا ننھا سا ذہن ان باتوں کی گہرائی تو نہیں جانتا تھا، مگر میری تصوراتی دنیا میں ترکی (Turkey) ایک بہت ہی طاقتور اور ہیبت ناک چیز بن کر ابھرا۔ ایک ایسی جگہ جہاں سے دنیا کی تاریخ کا رخ مڑنا تھا۔
ناول کی دنیا سے حقیقت کے رنگوں تک
وقت گزرنے کے ساتھ شعور آیا تو پتا چلا کہ یہ ملک تو ہماری محبتوں کا مرکز ہے۔ ابھی میں اس ملک کے سحر کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ نمرہ احمد کا ناول "جنت کے پتے" میری زندگی میں آگیا۔ اس ناول نے تو جیسے میرے خوابوں کو نقشہ دے دیا۔ حیا اور جہان کے ساتھ ساتھ میں نے بھی خود کو استنبول (Istanbul) کی فضاؤں میں محسوس کیا۔ باسفورس کی لہروں پر ڈوبتا سورج ہو یا وہاں کی تاریخی عمارتوں کا سکون، یہ سب میرے تخیل کا حصہ بن گئے۔
ارطغرل اور عثمان: عظمتِ رفتہ کی پکار
ناول کے بعد 'ارطغرل' اور 'عثمان' جیسے شاہکار ڈراموں کا دور آیا، جنہوں نے میری اس دیوانگی کو ایک جنون میں بدل دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کی عظیم تاریخ، اسلامی غیرت اور ان بہادر جنگجوؤں کی داستانیں دیکھ کر میرا لگاؤ اس مٹی سے مزید گہرا ہو گیا۔ اب ترکی (Turkey) صرف ایک سیاحتی مقام نہیں رہا، بلکہ یہ میری نظر میں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی نشانی بن گیا۔
تاریخ کا فیصلہ کن موڑ: احادیث کی روشنی میں
امی کی وہ بات کہ آخری معرکہ یہاں سے ہوگا، دراصل تاریخ اور عقیدے کا ایک اہم باب ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں قیامت کے قریب ہونے والی جن بڑی جنگوں (الملاحم) کا ذکر ہے، ان میں قسطنطنیہ (Constantinople/Istanbul) کا مرکز ہونا ثابت ہے۔
* فتحِ قسطنطنیہ کی بشارت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ "تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ امیر بھی کیا خوب امیر ہوگا اور وہ لشکر بھی کیا خوب لشکر ہوگا!" (مسند احمد)۔
* قربِ قیامت کا معرکہ: صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک رومیوں کا لشکر 'اعماق' یا 'دابق' (شام و ترکی کے سرحدی علاقے) میں نہ اتر آئے۔ اس وقت مدینہ سے ایک بہترین لشکر نکلے گا اور یہ عظیم معرکہ حق و باطل کا فیصلہ کر دے گا۔
* تکبیر سے فتح: روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ مسلمان دوبارہ قسطنطنیہ (Istanbul) کو بغیر ہتھیار اٹھائے صرف 'لا الہ الا اللہ' اور 'اللہ اکبر' کی صداؤں سے فتح کریں گے۔
یہی وہ مذہبی پیش گوئیاں ہیں جو اس سرزمین کو عام ملکوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ یہ خطہ آنے والے وقت میں ایک بار پھر اسلام کا اہم مورچہ بننے والا ہے۔
خواب کی تعبیر کا انتظار
آج بھی جب میں سوشل میڈیا پر نیلی مسجد کی تصاویر دیکھتی ہوں تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ اب یہ خواب کب تعبیر پاتا ہے اور اللہ پاک کب اس پاک سرزمین کا دیدار جاگتی آنکھوں سے کرواتا ہے، یہ تو وہی بہتر جانتا ہے، لیکن میرا دل آج بھی اس ایک سفر کی آس لگائے بیٹھا ہے۔ یہ ایک ایسی مسافر کی داستان ہے جس نے منزل ابھی دیکھی نہیں، مگر اس کا رستہ اب اس کی روح کا حصہ بن چکا ہے۔
#Turkey #ترکی #Istanbul #استنبول #JannatKayPatte #جنت_کے_پتے #ErtugrulGhazi #KurulusOsman #IslamicHistory #Prophecy #EndTimes #History #Faith #خوابوں_کی_تعبیر #خلافت_عثمانیہ #BlueMosque

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں