غار صرف پہاڑ میں نہیں ہوتی
غار صرف پہاڑ میں نہیں ہوتی
ہر جمعہ آتا ہے،
اور سورۃ الکہف دوبارہ ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے —
ایک سوال بن کر، ایک آئینہ بن کر۔
آیت 9 میں اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں:
کیا تم سمجھتے ہو کہ غار والے ہی سب سے زیادہ حیران کن نشانی تھے؟
جیسے رب ہمیں آہستہ سے روک کر کہہ رہے ہوں:
ذرا ٹھہرو…
تم نے زندگی کو غور سے دیکھا بھی ہے؟
کیونکہ اصل حیرت تو یہ ہے
کہ وقت کیسے خاموشی سے سب کچھ بدل دیتا ہے،
دل کیسے زندہ ہوتے ہوئے بھی سو جاتا ہے،
اور انسان کیسے چلتے پھرتے ایک غار میں داخل ہو جاتا ہے
بغیر کسی پہاڑ کے۔
ہم سب نے وہ لمحہ جیا ہے
جب سب کچھ اچانک اندھیر ہو جاتا ہے۔
نہ دعا میں جان رہتی ہے،
نہ خوابوں میں حرکت،
نہ دل کو اپنے ہونے کا احساس۔
اصحابِ کہف بھی اسی کیفیت میں تھے۔
فرق صرف یہ تھا
کہ ان کی نیند کو اللہ نے معنی دے دیے۔
تین سو سال…
اور پھر مزید نو۔
یہ محض عدد نہیں،
یہ اس بات کا اعلان ہے
کہ ہر جاگنے سے پہلے ایک مکمل نیند ضروری ہوتی ہے۔
ہم جلدی جاگنا چاہتے ہیں،
لیکن رب وقت پورا کرتا ہے۔
جب وہ نوجوان جاگے
تو کوئی ہجوم نہیں تھا،
کوئی اعلان نہیں تھا،
بس زندگی نے آہستہ سے دوبارہ سانس لینا شروع کر دی۔
اور دل…
دل سب سے محفوظ غار ہے۔
وہاں رب کی قربت ہے،
وہاں خوف بھی عبادت بن جاتا ہے۔
اگر آج آپ کو لگتا ہے
کہ آپ کی زندگی رک گئی ہے،
تو شاید آپ رکے نہیں
بلکہ رب کے ہاتھ میں محفوظ ہیں۔
نیند انجام نہیں،
تیاری ہے۔
اور جب وقت پورا ہوگا
جاگنا خود راستہ ڈھونڈ لے گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں