“تیرے شہر میں آئی ہوں

 



Aaj ki Journaling – 13 January 2026

آج کا دن ایک عجیب سا ملا جلا احساس لے کر آیا۔ صبح فجر کی نماز وقت پر پڑھی، دل کو سکون ملا کہ دن کا آغاز اللہ کے ذکر سے ہو رہا ہے۔ پھر سفر میں نکلنا ہوا۔ ہم ایک بجے نکلے اور شام 4:45 پر گھر واپس پہنچے۔ جیسے ہی واپس آئے، فوراً عصر کی نماز قضا پڑھی۔ دل میں خیال آیا—اچھا ہوا کہ فجر وقت پر پڑھی، اور عصر بھی جلدی قضا کر دی۔ واقعی یہ چھوٹے چھوٹے لمحے دل کو خوشی اور سکون دیتے ہیں۔

پچھلے دو دن میں میں deep breathing، walk اور exercise نہیں کر پائی، اور آج بھی یہ سب نہیں ہو سکا۔ لیکن میں نے اپنے دل کو یاد دلایا کہ کبھی کبھی حالات ایسا کر دیتے ہیں، اور یہ بالکل نارمل ہے۔ کل سے دوبارہ routine پر واپس آنا ہے، ہر چھوٹا قدم دل اور جسم دونوں کے لیے سکون اور طاقت ہے۔

گوجرانوالہ جانے سے پہلے پچھلے دو دن میں بہت اداس رہی۔ شوہر کو یاد کر کے اکثر روتی رہی، دل بھاری سا لگ رہا تھا، ہر لمحہ ان کی یادیں ذہن میں آ رہی تھیں۔ لیکن جیسے ہی گوجرانوالہ پہنچی، وہی شہر، وہی یادیں، وہی ماحول دل کو ایک عجیب سکون دینے لگیں۔ وہاں جا کر دل نے محسوس کیا کہ پرانی یادیں accept ہو رہی ہیں اور دل تھوڑا ہلکا ہوا۔ بچوں کی معصومیت، گھر کا سکون، اور ماحول کی خاموشی سب مل کر دل کو relax کر دیا۔

میں اپنی امی کی ایک بھانجی کے گھر ٹھہری۔ لوگ سادہ مگر عزت دار اور مہمان نواز تھے۔ ان کے بچے چھوٹے چھوٹے، ذہین اور معصوم، ہر حرکت اور بات سے دل کو چھو رہی تھی۔ گھر تھوڑا ٹھنڈا تھا، لیکن الحمد للہ، کسی بیماری کے بغیر قیام مکمل ہوا۔ وہاں جا کر مجھے وہ چھوٹے لمحے یاد آئے جب میں اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ چھ سال رہی—2019 سے جون 2025 تک۔ ہر گلی، ہر کونا، ہر قدم—سب خوشی اور غم کے ملا جلا احساس لئے ہوئے تھے۔

واپسی کے راستے میں پورا منظر دھند اور خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوا ہر سانس میں گھل رہی تھی اور دل کو سکون دے رہی تھی۔ دھند نے ہر چیز کو ایک پراسرار پردے میں چھپا دیا تھا—سڑک کے کنارے زمینیں، درخت، چھوٹے چھوٹے گھر، سب مدھم اور خواب جیسے لگ رہے تھے۔ سرد ہوا، دھند، اور خاموشی کا ملاپ دل کے سب بھاری احساسات کو ہلکا کر رہا تھا۔ ہر تھکن اور پریشانی دھند کے پردے میں مدھم ہو کر سکون بن گئی۔

دل اور یادوں کا کھیل پورے سفر میں جاری رہا۔ چشمانِ تصور میں میں اپنے شوہر کی قبر پر جاتی ہوں۔ خاموشی میں دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے، اور وہ شکوے بھرے لہجے میں مجھ سے کہتے ہیں:
“آخر وقت مل ہی گیا… یہاں آنے کا۔”
یہ سن کر دل رک سا جاتا ہے اور آنکھیں بھر آتی ہیں۔ اس بار حقیقت میں قبر پر جانا نصیب نہ ہوا، لیکن دل میں ارادہ ہے کہ اگلی بار ضرور بارہ را کو لے کر جاؤں گی۔

گوجرانوالہ کے پرانے محلے میں جا کر بازار سے چھوٹی چھوٹی چیزیں خریدیں، جیسے socks۔ بیٹی نے دیکھ لیا 




اور پھر ہم دونوں ہنس پڑے۔ چھوٹے لمحے، چھوٹی خوشیاں بھی دل کو بڑی راحت دے دیتی ہیں۔

اور راستے میں، جب گاڑی میں گوجرانوالہ سے گزرتے ہوئے ایک گانا بجنے لگا، “تیرے شہر میں آئی ہوں، مسافر کی طرح…”، دل کو عجیب سکون ملا۔ موسیقی، یادیں، شہر، سب کچھ ایک ساتھ جڑ گیا، اور دل میں وہ احساس آیا کہ کبھی کبھی آوازیں بھی دل کی باتیں کہہ دیتی ہیں۔

اب گوجرانوالہ واقعی میرے دل کو بہت اچھا لگنے لگا ہے۔ وہ شہر، ہر گلی، ہر راستہ، میرے شوہر کی یادیں لیے ہوئے ہے۔ فضا، ہوا، ہر لمحہ دل کو یاد دلاتا ہے کہ وہ یہاں ہیں، اور ان کی محبت اور یادیں ہمیشہ زندہ ہیں۔

آج کا دن سادہ سا لگا، لیکن ہر لمحے میں سکون، یادیں، خوشیاں، اور دل کی گہرائیوں کا احساس شامل تھا۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز