قرآن کا اعجاز: “ہم” کا اسلوب اور وحدانیت کی گہری حکمت
قرآن کا اعجاز: “ہم” کا اسلوب اور وحدانیت کی گہری حکمت
اسلام کی بنیاد توحید یعنی اللہ کی وحدانیت پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہمارا رب واحد، یکتا اور بے مثال ہے۔ لیکن اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ اپنے لیے “ہم” کیوں فرماتے ہیں؟ کیا یہ کثرت کی علامت ہے؟
درحقیقت، قرآن میں اللہ کا اپنے لیے “ہم” کہنا کوئی تضاد نہیں بلکہ ایک بلاغتی اعجاز اور رب کی شان و اقتدار کی علامت ہے۔ یہ لفظ نہ صرف عظمت کی نشانی ہے بلکہ وحدانیت کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔
جمع کا اسلوب: شان اور ربوبیت کی علامت
قرآن میں جہاں اللہ تعالیٰ اپنے لیے “ہم” فرماتے ہیں، وہاں اقتدار، جلال اور ربوبیت کی وسعت ظاہر ہوتی ہے۔ عربی ادب میں اس اسلوب کو "جمعِ جلال" کہا جاتا ہے۔
مثال:
سورۃ الکوثر:
> “بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا”
یہاں لفظ “ہم” اللہ کی قدرت کی وسعت اور کرم کو دکھاتا ہے، مگر اگلی آیت میں واضح کیا گیا کہ نماز صرف واحد رب کے لیے ہے۔
سورۃ القدر:
> “یقیناً ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا”
اور اختتام میں:
“فرشتے اور روح اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں”
یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ جمع کا لفظ عظمت اور قدرت کا اظہار ہے، لیکن عقیدہ کی بنیاد یعنی واحد اللہ متاثر نہیں ہوتی۔
سورۃ الواقعہ میں سوال و جواب کا اعجاز
قرآن میں سوال و جواب کے ذریعے بھی شاہکار انداز میں وحدانیت بیان کی گئی ہے:
> بیج تم اگاتے ہو یا ہم؟
پانی تم برساتے ہو یا ہم؟
آگ تم پیدا کرتے ہو یا ہم؟
آخر میں فیصلہ کن اعلان ہے:
> “پس اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو”
یہاں لفظ جمع میں استعمال ہوا لیکن حقیقت میں ایک ہی رب کی عبادت واجب ہے۔ یہ قرآن کی بلاغتی حکمت اور اعجاز ہے، جو لفظ اور عقیدہ دونوں کو یکجا کرتی ہے۔
فلسفہ اور اعجاز: “ہم” اور وحدانیت
قرآن میں “ہم” اور واحد کا امتزاج چند اہم نکات پیش کرتا ہے:
1. اقتدار کی وسعت
اللہ ہر شے پر قادر ہے، ہر عمل میں شامل ہے، اور تمام کائنات اس کے تحت ہے۔
2. وحدانیت کی حفاظت
ہر جگہ ذکرِ واحد عقیدہ کو مضبوط اور محفوظ رکھتا ہے، تاکہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اللہ میں کوئی شریک ہے۔
3. بلاغتی حسن
قرآن میں لفظ بھی بولتا ہے اور عقیدہ بھی برقرار رہتا ہے۔ یہی اعجاز قرآن ہے: ایک لفظ میں حکمت، قدرت اور توحید کی وضاحت موجود ہے۔
قرآن کی مثالیں جو “ہم” اور وحدانیت کو واضح کرتی ہیں
سورۃ کوثر: اللہ کی عنایت اور کرم کے لیے جمع کا لفظ، وحدانیت کی وضاحت کے ساتھ۔
سورۃ القدر: شب قدر کی عظمت میں جمع کے استعمال کے باوجود رب واحد کا اعلان۔
سورۃ الواقعہ: سوال و جواب کے انداز میں انسان کی تربیت اور وحدانیت کا سبق۔
یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ “ہم” کثرت کی علامت نہیں بلکہ اللہ کی شان اور قدرت کی نشانی ہے، اور ہر جگہ واحد کا ذکر عقیدہ محفوظ رکھتا ہے۔
خلاصہ
اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے “ہم” کہنا قرآن کا اعجاز اور بلاغت ہے۔ یہ لفظ اللہ کی عظمت، قدرت اور ربوبیت کی علامت ہے، جبکہ واحد اللہ کی واضح تسبیح وحدانیت کے اصول کو برقرار رکھتی ہے۔ یہ انداز قاری کے لیے بھی آسان اور دلچسپ ہے اور قرآن کی حکمت اور گہرائی کو بیان کرتا ہے۔
سبحان اللہ! لفظ بھی بولتا ہے اور عقیدہ بھی محفوظ رہتا ہے، یہی قرآن کی اعلیٰ حکمت اور اعجاز ہے۔
-

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں