قرآن کے ساتھ میرا سفر — 3
قرآن کے ساتھ میرا سفر — 3
جب حق آتا ہے
وہ آیت پڑھ کر دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔
خاموشی ایسی تھی جیسے شور تھک کر بیٹھ گیا ہو۔
حَتَّىٰ جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ
حق آ جاتا ہے…
یہ جملہ کوئی اعلان نہیں تھا،
یہ ایک قانون تھا۔
اس نے محسوس کیا کہ فتنہ ہمیشہ شور مچاتا ہے۔
وہ سوالوں کو الجھاتا ہے،
باتوں کو موڑتا ہے،
نیتوں پر گرد ڈالتا ہے۔
فتنہ چیختا ہے تاکہ سچ سنائی نہ دے۔
اور حق؟
حق کبھی چیختا نہیں۔
وہ آہستہ چلتا ہے،
خاموشی سے جگہ بناتا ہے،
اور پھر…
کھڑا ہو جاتا ہے۔
اسے یاد آیا کہ زندگی میں کتنی بار
اس نے شور کو طاقت سمجھ لیا تھا۔
کتنی بار کنفیوژن کو ذہانت کا نام دیا تھا۔
اور کتنی بار سچ
اپنی سادگی کے باعث نظرانداز ہو گیا تھا۔
وہ سوچنے لگی—
جو دل سے حق کے دشمن ہوں
وہ دلیل سے نہیں ڈرتے،
وہ وضاحت سے ڈرتے ہیں۔
اسی لیے وہ بات کو گھماتے ہیں،
لفظوں کو بگاڑتے ہیں،
اور فضا میں ایسا دھواں بھر دیتے ہیں
کہ اصل چیز دکھائی ہی نہ دے۔
مگر دھواں
ہمیشہ ہوا کے سامنے ہار جاتا ہے۔
حق کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے
کہ وہ کسی کو قائل کرنے نہیں آتا،
وہ صرف ظاہر ہو جاتا ہے۔
اسے اس آیت میں عجیب سا سکون ملا۔
جیسے کسی نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ہو:
“اگر نیت صاف ہے
تو گھبراؤ نہیں۔
یہ شور فیصلہ نہیں کرتا۔”
وہ جان گئی
کہ وقتی الجھن
فیصلہ کن شکست نہیں ہوتی—
جب تک انسان خود ہمت نہ ہار دے۔
فتنہ
ہمیشہ وقت خریدنا چاہتا ہے،
اور حق
ہمیشہ وقت پر آتا ہے۔
وہ مسکرائی۔
زندگی میں بھی تو یہی ہوتا ہے۔
جھوٹ وقتی فائدہ دیتا ہے،
مگر اس کی عمر کم ہوتی ہے۔
اور سچ
شاید فوراً فائدہ نہ دے،
مگر وہ انسان کو اندر سے سیدھا رکھتا ہے۔
اور سیدھا انسان
آخرکار سیدھی جگہ پر ہی کھڑا ہوتا ہے۔
اس نے قرآن بند کیا۔
دل میں کوئی شور نہیں تھا۔
صرف ایک واضح سا احساس تھا:
فتنہ شور ہے،
اور حق…
خاموش روشنی۔
اور روشنی
اپنی موجودگی کے لیے
اجازت نہیں مانگتی۔
جاری ہے…

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں