ہدایت کا سفر: سورہ البقرہ کے آئینے م
ہدایت کا سفر: سورہ البقرہ کے آئینے میں
"ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ" "یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ رکھتے ہیں۔"
اسے محسوس ہوا جیسے یہ لفظ 'شک' اس کے اپنے اندر کی بے چینی کا عکس تھا۔ ہم کتنی بار زندگی کے فیصلوں، اپنی قسمت اور رب کی حکمت پر شک کی دھند میں گھر جاتے ہیں۔ مگر اس کتاب نے پہلے ہی قدم پر کہہ دیا کہ اگر ہدایت چاہیے تو پہلے شک کے بت توڑنے ہوں گے۔
وہ آگے بڑھی تو اسے بنی اسرائیل کا قصہ ملا۔ ایک قوم جسے اللہ نے سب پر فضیلت دی، مگر انہوں نے ناشکری اور حیلے بہانوں کو اپنا شعار بنایا۔ اس نے آئینہ اپنی طرف گھمایا۔
"کیا میں بھی تو وہی نہیں کر رہی؟" اس نے سوچا۔
"رب کہتا ہے کہ نماز قائم کرو، اور میں وقت کی تنگی کا بہانہ بناتی ہوں۔ رب کہتا ہے کہ سود سے بچو، اور میں اسے 'جدید معیشت کی ضرورت' کہتی ہوں۔ رب کہتا ہے کہ مجھ پر بھروسہ کرو، اور میں بینک بیلنس پر تکیہ کرتی ہوں۔"
اسے سمجھ آیا کہ بنی اسرائیل کوئی پرانی داستان نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو حق کو جان کر بھی مصلحتوں کے پیچھے چھپتا ہے۔
پھر ایک آیت اس کی نظروں کے سامنے ٹھہر گئی:
"فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ" "تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔"
اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ "کتنی بڑی بات ہے! میں ایک حقیر بندہ، مٹی کا پتلا، جس کی کوئی حیثیت نہیں... اگر میں اس کائنات کے مالک کو یاد کروں، تو وہ میرا ذکر اپنے پاس کرے گا؟" اس ایک جملے نے اس کی تنہائی کے سارے دکھ دھو ڈالے۔ اسے لگا کہ اسے اب کسی کی توجہ کی طلب نہیں رہی، جب شہنشاہِ کائنات نے اسے یاد کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔
صفحہ پلٹا تو آزمائشوں کا ذکر تھا۔
"وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ..." وہ جو چھوٹی چھوٹی ناکامیوں پر دل ہار بیٹھتی تھی، اسے معلوم ہوا کہ خوف، بھوک اور مال کا نقصان تو 'ٹیسٹ پیپر' کے سوالات ہیں۔ یہ سزا نہیں، یہ تو رب کے قریب ہونے کا زینہ ہیں۔
"وَبَشِّرِ الصَّابرِینَ" اور خوشخبری تو صرف صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا، "یا اللہ! میں اپنی ہر تکلیف پر تیری رضا کی مہر لگاتی ہوں۔"
آخر میں اس کی نظر اس دعا پر پڑی جس پر اس عظیم سورہ کا اختتام ہوتا ہے:
"لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا" "اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔"
اسے لگا جیسے کسی نے اس کے ٹوٹے ہوئے حوصلے کو سہارا دے دیا ہو۔ اسے یقین آگیا کہ اگر اس کی زندگی میں کوئی مشکل ہے، تو اس کے اندر اس سے لڑنے کی ہمت بھی اللہ نے رکھی ہے۔
اس نے قرآن بند کیا اور سینے سے لگا لیا۔ سورہ البقرہ نے اسے بتا دیا تھا کہ بندگی صرف تسبیح پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں—چاہے وہ کاروبار ہو، گھر کے جھگڑے ہوں یا دل کے وسوسے—اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے تابع کر دینا ہی اصل 'ہدایت' ہے۔
کمرے میں فجر کی روشنی پھیل رہی تھی، اور اس کا دل اس دعا سے لبریز تھا:
"اے رب! ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرنا جن پر تیرا غضب ہوا، بلکہ ہمیں ان میں رکھنا جو تیرے رنگ میں رنگے گئے۔"

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں