درودِ ابراہیمی — ایک خاموش ظہور

 


درودِ ابراہیمی — ایک خاموش ظہور

افسانہ

فجر کے بعد کا وقت تھا۔
مسجد میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔
وہ آخری صف میں بیٹھا تھا، جیسے ہمیشہ بیٹھتا تھا۔
ہونٹ آہستہ آہستہ حرکت کر رہے تھے:

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ
وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيمَ

آج مگر کچھ مختلف تھا۔
الفاظ زبان سے نہیں، دل سے گزر رہے تھے۔

وہ اچانک رک گیا۔
“یہ کما کیوں ہے؟”
اس نے خود سے سوال کیا۔
“بالکل ویسے ہی… بغیر فرق کے؟”

اسے یاد آیا،
ابراہیمؑ کی نسل میں انبیا آئے،
ہدایت در ہدایت اترتی رہی۔
پھر اچانک —
خاموشی۔

محمد ﷺ
آخری نبی۔

“اگر نبوت ختم ہو گئی…”
وہ سوچ میں ڈوب گیا،
“تو پھر درود میں آل کا ذکر کیوں؟”

مسجد کی دیوار پر سورج کی پہلی لکیر پڑی۔
روشنی آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی،
جیسے کوئی راز ظاہر ہو رہا ہو
مگر اعلان کے بغیر۔

اسی لمحے اسے احساس ہوا:
ظہور ہمیشہ شور سے نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی
حق بس سمجھ میں آ جاتا ہے۔

وہ بڑبڑایا:
“صَلِّ…
یعنی طاقت دے،
تسلسل دے،
نظام جاری رکھ…”

تو کیا اللہ کا پروگرام
نبوت کے بعد رُک گیا تھا؟

نہیں۔
رکا نہیں تھا۔
بس شکل بدل گئی تھی۔

قرآن موجود تھا۔
مکمل۔
مگر انسان ابھی اس کے قابل نہیں ہوا تھا۔

اسے سورۃ الکہف یاد آئی۔
ایک ایسی کہانی
جو پوری نہیں سنائی گئی۔
صرف اتنا بتایا گیا
جتنا اُس وقت انسان سن سکتا تھا۔

“اللہ ہر سچ
اسی وقت ظاہر کرتا ہے
جب انسان کے پاس
اسے پرکھنے کے وسائل ہوں…”

یہ جملہ
جیسے دل پر لکھا گیا۔

وہ سمجھ گیا:
مہدیؑ کا ظہور
آسمان سے اعلان نہیں ہوگا۔
نہ کوئی نیا حکم،
نہ نئی کتاب۔

بلکہ —
قرآن کا وہ چہرہ
جس کا انکار ممکن نہ رہے۔

عدل،
ایسا عدل
جو مذہب نہیں پوچھے گا۔
حق،
جو زبان نہیں بدلے گا۔

وہ کھڑا ہوا۔
مسجد سے باہر نکلا۔
دنیا ویسی ہی تھی:
شور، ظلم، اختلاف۔

مگر اب وہ جان چکا تھا:
ظہور شروع ہو چکا ہے۔
لوگوں کے اندر۔
سمجھ کی سطح پر۔

درودِ ابراہیمی
کوئی ورد نہیں تھا۔
یہ اللہ کی درخواست تھی
کہ
اے رب!
اپنا نظام مکمل فرما۔

اور اللہ
اپنا کوئی پروگرام
ادھورا نہیں چھوڑتا۔

وہ مسکرایا۔
اور دوبارہ پڑھا:

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ
وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ

اب یہ دعا نہیں تھی۔
یہ یقین تھا۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز