جبر کی حد اور سیاستِ مغرب کالم نگار؛روبینہ

iran-america-news-analysis 



کالم'حرفِ معتبر' 

موضوع: جبر کی حد اور سیاستِ مغرب

کالم نگار؛روبینہ شاہین

تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی زمین پر بوجھ بڑھا ہے اور اقتدار کے ایوانوں نے خود کو حرفِ آخر سمجھ لیا ہے، تو تغیر کی لہریں سمندر کی گہرائیوں سے نہیں بلکہ انسانی سینوں کے اضطراب سے جنم لیتی ہیں۔ فلسفہِ زندگی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ طاقت کا توازن محض اسلحے اور بارود سے نہیں، بلکہ عوام کے اس اعتماد سے برقرار رہتا ہے جو حکمرانوں کی نیتوں پر ہوتا ہے۔ جب اعتماد کا یہ رشتہ ٹوٹتا ہے، تو معاشرے کے وجود میں دراڑیں پڑنا فطری امر ہے۔


آج ایران کے گلی کوچوں سے اٹھنے والی صدائیں اور تہران سے واشنگٹن تک پھیلی ہوئی بے یقینی کی دھند، امتِ مسلمہ کے لیے ایک فکر انگیز لمحہ ہے۔ ایک طرف معاشی بدحالی اور عوامی غیظ و غضب ہے، تو دوسری طرف 'حیا'، 'اخلاقیات' اور 'اسلامی اقدار' کے نام پر ریاست کا وہ ڈھانچہ ہے جس کی بقا اب امتحان میں ہے۔ اسلام ہمیں عدل اور نرمی کا درس دیتا ہے۔ حکمرانی اگر دلوں پر ہو تو اسے آہنی ہاتھوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایمانی دلیل یہ ہے کہ ریاست مدینہ کا ماڈل شہریوں کی حفاظت اور ان کے وقار کی ضمانت تھا، نہ کہ ان کے لہو سے اپنے اقتدار کی آبیاری کرنا۔


مگر اس منظرنامے کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ ہولناک اور کریہہ ہے۔ 'جدیدیت' اور 'انسانی حقوق' کا راگ الاپنے والا مغرب، جس کی تاریخ خود معصوموں کے خون سے رنگین ہے، آج ایک بار پھر ایران کے اندرونی معاملات میں 'مسیحا' بن کر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کی یہ منافقت کوئی نئی بات نہیں۔ وہ لبرل طبقہ جو ایران میں احتجاج پر تو انسانیت کے غم میں گھلا جا رہا ہے، وہی طبقہ غزہ اور لبنان میں بہتے خون پر اپنی زبانیں گنگ کر لیتا ہے۔ یہ کیسا انسانیت کا درد ہے جو صرف وہیں جاگتا ہے جہاں اسے اپنے سیاسی مفادات کی فصل دکھائی دیتی ہے؟ مغرب کا یہ دوغلا پن دراصل اس استعمار کی نشانی ہے جو مظلوم کی حمایت میں نہیں، بلکہ اپنے تسلط کی خاطر دوسرے کے گھر میں آگ لگانے کا ماہر ہے۔


آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ایران کے حالات ہوں یا کہیں اور کی بے چینی، حل بندوق کی گولی میں نہیں بلکہ ضمیر کی اس دستک میں ہے جو ہمیں عدل اور انصاف کی طرف بلاتی ہے۔ ہمیں مغرب کی ان "جمہوری خیرات" سے بچنا ہوگا جو اپنے ساتھ تباہی کا سامان لاتی ہیں۔ کامیابی کا واحد راستہ اللہ کی طرف رجوع، اپنی اخلاقی حالت کی اصلاح اور اپنی اقدار کی سچی پاسداری میں ہے۔ اگر ہم نے اپنے داخلی تضادات کو ختم نہ کیا، تو بیرونی شکاری ہمیشہ تاک میں رہیں گے۔ یاد رہے، آخرت کی کامیابی انھی کے لیے ہے جو زمین پر فساد نہیں بلکہ اصلاح کے داعی بن کر جیئے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز