سورہ عصر کے آ ئینے میں

 

سورہ عصر کے آ ئینے میں
سورہ عصر کے آ ئینے میں

۔۔۔۔۔۔

سورج ڈھل رہا تھا، آسمان پر نارنجی اور سرخ رنگوں کی آمیزش گواہی دے رہی تھی کہ ایک اور دن رخصت ہونے کو ہے۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی اپنی ڈائری میں کچھ حساب لکھ رہی تھی— وقت کا حساب، کاموں کا حساب، ادھورے منصوبوں کا بوجھ۔

اچانک مسجد سے عصر کی اذان گونجی۔ اس نے قلم رکھ دیا اور وضو کے لیے اٹھ گئی۔ جائے نماز پر کھڑی ہوئی تو وہی بھاگ دوڑ، وہی کل کی فکر اور گزرے ہوئے لمحات کا افسوس اس کے ساتھ ساتھ تھا۔

والعصر

اس نے تکبیر کہی اور پہلا لفظ زبان سے ادا ہوا۔

"زمانے کی قسم..."

اسے محسوس ہوا جیسے کائنات کی گھڑی ایک پل کے لیے رک گئی ہو۔ زمانہ، جو ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔ اسے اپنے بچپن، جوانی اور پھر ان گنت گزرے ہوئے گھنٹوں کا خیال آیا۔

"یا اللہ، میں نے اس وقت کے ساتھ کیا کیا؟ کیا میں نے اسے جی لیا، یا صرف کاٹ دیا؟"

إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ

یہ آیت اس کے دل پر ایک دستک کی طرح لگی۔

"بے شک انسان خسارے میں ہے۔"

اس نے سوچا، ہم تو کامیابی اسے سمجھتے ہیں جو بینک بیلنس، بڑے گھر اور عہدوں کی صورت میں نظر آئے۔ لیکن رب کہہ رہا ہے کہ ہم سب 'خسارے' میں ہیں۔

"کیا میرا ہر وہ لمحہ جو تیری یاد کے بغیر گزرا، وہ میرا نقصان تھا؟ کیا میری وہ تمام دوڑ دھوپ جس کا انجام مٹی ہے، وہ خسارہ تھی؟"

اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ اسے اپنی وہ تمام راتیں یاد آئیں جو بے مقصد سوچوں میں گزر گئیں، اور وہ دن جو دنیا کو خوش کرنے کی نذر ہو گئے۔

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ

یہاں آ کر اسے ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا احساس ہوا۔

"مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔"

اس نے گہرا سانس لیا۔ خسارے سے بچنے کی پہلی شرط— یقین۔

"یا اللہ! میرا ایمان صرف لفظوں تک نہ رہے، یہ میرے عمل میں ڈھل جائے۔ کیا میرا آج کا دن کسی کے کام آیا؟ کیا میرے وجود سے کسی کو راحت ملی؟"

اسے سمجھ آیا کہ ایمان صرف ایک دعویٰ نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے جو وقت کے ضیاع کو روک دیتا ہے۔

وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ

یہ آخری ٹکڑا جیسے زندگی کا دستور العمل تھا۔

"اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔"

اس نے سوچا، ہم کتنے خود غرض ہو گئے ہیں۔ ہم اپنی نجات چاہتے ہیں، مگر دوسروں کا ہاتھ تھامنا بھول جاتے ہیں۔

"حق کی بات کرنا کتنا مشکل ہے، اور صبر کرنا اس سے بھی کٹھن۔"

اسے اپنی زندگی کی وہ آزمائشیں یاد آئیں جہاں اس کا جی چاہا تھا کہ وہ سب چھوڑ دے، ہار مان لے، یا شکوہ کرے۔

مگر اس آیت نے اسے ہمت دی۔ اسے لگا جیسے اللہ اسے کہہ رہا ہو: "گھبراؤ مت، بس حق پر قائم رہو اور صبر کا دامن تھامے رکھو، یہی کامیابی ہے جس کے بعد کوئی خسارہ نہیں۔"

سلام پھیرا تو کمرے میں عصر کی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔

باہر پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے۔

اس نے اپنی ڈائری دوبارہ کھولی، مگر اس بار وہ دنیا کا حساب نہیں لکھ رہی تھی۔

اس نے صرف ایک جملہ لکھا:

"وقت گزر رہا ہے، یا تو یہ مجھے کھا جائے گا، یا میں اسے 'خیر' میں بدل دوں گی۔"

وہ جان گئی تھی کہ سورۃ العصر صرف تین چھوٹی آیتیں نہیں، بلکہ زندگی کے ڈوبتے ہوئے سورج کے سامنے بچاؤ کی آخری کشتی ہے۔

#suraAlAsr

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز