حرفِئ معتبر: مشینی عقل اور روحِ آدم کا زوال
حرفِئ معتبر: مشینی عقل اور روحِ آدم کا زوال
تحریر: روبینہ شاہین
تاریخ: 14 جنوری، 2026
ازل سے ابد تک کے سفر میں انسان نے ہمیشہ اپنے لیے ایک ایسا 'مددگار' تلاش کیا ہے جو اس کی مشقت کو کم کر سکے۔ قدیم یونانی قصوں میں لکڑی کے بولتے مجسموں کا ذکر ہو یا قرونِ وسطیٰ کے جادوئی طلسمات، انسان کی یہ خواہش ہمیشہ سے رہی ہے کہ وہ مٹی سے ہٹ کر بھی کوئی ایسی شے تخلیق کرے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ آج یہ تمنا 'مصنوعی ذہانت' (AI) کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑی ہے، جہاں سیلیکون کی چپس اور پیچیدہ الگورتھمز نے انسانی عقل کو مات دینے کا دعویٰ کر دیا ہے۔
موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'معلومات' (Information) کو 'علم' (Knowledge) اور 'عقل' کو 'حکمت' کا متبادل سمجھ لیا ہے۔ مصنوعی ذہانت ڈیٹا کو پراسیس تو کر سکتی ہے، مگر وہ اس 'دردِ دل' سے محروم ہے جو انسانیت کا طرہ امتیاز ہے۔ سائنسی اعتبار سے ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں مشینیں شاعری کر رہی ہیں، تصویریں بنا رہی ہیں اور فیصلے صادر کر رہی ہیں۔ لیکن کیا وہ مشینیں 'حیا' کے اس مفہوم کو سمجھ سکتی ہیں جو ایک مسلمان کے وجود کا حصہ ہے؟ کیا ایک بے جان سافٹ ویئر 'اخلاقیات' کے اس باریک نکتے کو پا سکتا ہے جس کے لیے انبیاء کرام مبعوث ہوئے؟
یہاں جدیدیت کے علمبرداروں کی منافقت عروج پر نظر آتی ہے۔ مغرب کا لبرل طبقہ ایک طرف تو انسانی حقوق کا واویلا کرتا ہے، لیکن دوسری طرف ایسی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے جو خود انسان کو ہی بے کار (Redundant) کر رہی ہے۔ وہ مشینوں کو 'انسانی حقوق' دینے کی بحث تو چھیڑتے ہیں، مگر غزہ سے لے کر کشمیر تک گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسانوں کی پامالی پر ان کا ضمیر نہیں جاگتا۔ یہ دوغلا پن اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں انسانیت سے نہیں بلکہ اپنے مفادات اور مادی خدائی سے غرض ہے۔ انہوں نے مذہب کو قدامت پسندی کہہ کر رد کر دیا، مگر آج خود ایک ایسی ٹیکنالوجی کے سامنے سجدہ ریز ہیں جس کا کوئی خدا نہیں۔
علم و حکمت کے موتی سمیٹنے والوں کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جس دن انسان نے اپنی فکر کا اختیار مشین کے حوالے کر دیا، اسی دن اس کی اشرف المخلوقات کی دستار چھن جائے گی۔ قرآنِ پاک نے بارہا 'تعقل' اور 'تدبر' کی دعوت دی ہے، اور یہ تدبر صرف دماغی مشق نہیں بلکہ 'قلب' کا نور ہے۔ مشین کے پاس پروسیسر تو ہے، مگر 'قلبِ سلیم' نہیں۔ سائنس مذہب کی قلعی کیا کھولے گی، وہ تو خود روح کے وجود کو ثابت کرنے سے قاصر ہے۔
کالم کا اختتام اس دعا اور احساس پر ہے کہ اے ابنِ آدم! تو اپنی حقیقت کو پہچان۔ تیری قیمت تیری مادی پیداوار یا تیری آئی کیو (IQ) سے نہیں، بلکہ تیرے تقویٰ اور تیرے رب سے تعلق سے ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اس سیلاب میں اپنے ایمان کی کشتی کو سلامت رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اللہ کی طرف رجوع کریں، اس سے پہلے کہ مشینیں آپ کے احساسات پر بھی پہرہ بٹھا دیں۔ آخرت کی کامیابی ان کے لیے ہے جنہوں نے عقل کو وحی کے تابع رکھا، نہ کہ ان کے لیے جنہوں نے اسے سلیکون کے بتوں میں قید کر دیا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں