قرآن کے ساتھ میرا سفر 1

 


بسم اللہ

جو نظر نہیں آتی، مگر زندگی بدل دیتی ہے)

وہ آیت نمبر چار پر آ کر ٹھہر گئی تھی۔
کتاب کھلی تھی، مگر اب یہ آنکھوں کی کتاب نہ رہی تھی۔
یہ دل کی بات تھی، نیت کی، یقین کی۔

وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

یقین—
وہ شے جو دکھائی نہیں دیتی
مگر انسان کی سمت بدل دیتی ہے۔

وہ سوچنے لگی۔
قدرت جب کسی شے کو اپنے وجود کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے
تو اسے خود سے الگ کر دیتی ہے۔
درخت سوکھا پتّا گرا دیتا ہے،
جسم زہر کو پسینے میں بہا دیتا ہے،
دریا بوجھ بن جانے والی گندگی کنارے چھوڑ آتا ہے۔

اور انسان؟

انسان کو اختیار دیا گیا ہے۔
وہ چاہے تو زہر کو بھی گلے لگا لے،
اور چاہے تو شفا کو بھی رد کر دے۔

اسی اختیار کے سبب
پیغمبر بھیجے گئے،
کتابیں نازل ہوئیں،
اور نشانیاں دکھائی گئیں—
تاکہ انسان خود پہچان سکے
کہ اس کے لیے کیا نور ہے
اور کیا ہلاکت۔

اسے امام ابو حامد الغزالیؒ یاد آ گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ
جس دل میں مخلوق کے لیے رحمت نہ ہو
وہ معرفتِ الٰہی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
کیونکہ جو دل درد کو نہیں پہچانتا
وہ ربّ کی پہچان سے بھی دور رہتا ہے۔

وہ سمجھ گئی—
ولایت کسی بلندی کا نام نہیں،
یہ قربت کا نام ہے۔
دکھ کے قریب ہونے کا،
اور دل کے دروازے کھلے رکھنے کا۔

ہم سب
انسان، جانور، آسمان، زمین، کتابیں—
ایک ہی ربط میں بندھے ہیں۔
ایک ہی سانس میں شریک۔

اور قرآن؟

قرآن ایک رسی ہے۔
جو نظر نہیں آتی
مگر تھام لی جائے تو
انسان کو بکھرنے نہیں دیتی۔

المیہ یہ نہیں
کہ لوگ قرآن کو الہامی نہیں مانتے۔
المیہ یہ ہے
کہ وہ اسے زندگی میں جگہ نہیں دیتے۔

اور یہی وہ مقام ہے
جہاں ماننا اور نہ ماننا
ایک سا ہو جاتا ہے۔

قرآن عربی میں نازل ہوا،
مگر وہ صرف ایک زبان تک محدود نہیں۔
یہ سات جہتوں میں کھلنے والا نور ہے—
جیسے سفید روشنی
جو رنگوں میں بٹ کر
کائنات کو معنی عطا کرتی ہے۔

لوگ رسولوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے،
مگر قانون سب کے لیے برابر ہے۔
خواہ مانا جائے
یا نظرانداز کر دیا جائے۔

ہم دھند میں کھڑے لوگ ہیں۔
ہم مجرموں کو منصف بنا لیتے ہیں
اور انصاف کی دہلیز پر
پیاسے مر جاتے ہیں۔

ایک موت وہ
جس میں انسان حقیقت جانے بغیر ختم ہو جائے۔

اور ایک موت وہ
جس میں بندہ جانتا ہو
کہ حساب ہوگا—
اور کچھ اعمال ایسے ہیں
جو نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔
ان شاء اللہ۔

اس نے کتاب بند کی۔

دل میں سوال اب بھی تھا:
رب نظر کیوں نہیں آتا؟

پھر جواب خود ہی ابھرا—
اسے نظر آنا مقصود نہیں،
دلوں میں اترنا مقصود ہے۔

وہ چاہتا ہے
کہ ہم اس کے خوف اور محبت میں
ایک دوسرے کی قدر کرنا سیکھ لیں،
تاکہ اس کی مخلوق پریشان نہ ہو۔

یہ کیسے ممکن ہے
کہ رب نے کائنات بنائی ہو
اور اپنے تک آنے کا
کوئی راستہ نہ رکھا ہو؟

مرنے کے بعد
تو ہم دیکھ ہی لیں گے۔

مگر اعمال؟

وہ تو یہیں کرنے ہیں۔

وہ اٹھی،
دل میں ایک خاموش عہد لیے۔

آئندہ
جب کسی شے کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے لگوں
تو یہ یاد رکھوں
کہ نماز، روزہ
اور ربِّ کائنات کی بات
نظرانداز نہ ہو جائے۔

کیونکہ
جو شے کائنات کے توازن سے کٹ جائے
قدرت اسے خود سے الگ کر دیتی ہے۔

اور انسان
اگر خود کو اس نور سے کاٹ لے
تو تاریکی
کسی دروازے پر دستک نہیں دیتی—
وہ خود ہی داخل ہو جاتی ہے۔

اسی لیے
قرآن ایک رسی ہے—
جو تھامی جائے تو سنبھال لیتی ہے،
اور چھوڑ دی جائے تو
انسان اپنے ہی بوجھ تلے بکھر جاتا ہے۔

— ختم —



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

فقہی ا ختلاف کی حقیقت اور آغاز