حرفِ آخر معتبر: لیبارٹری میں تخلیق اور ابدیت کی تڑپ
حرفِ آخر معتبر: لیبارٹری میں تخلیق اور ابدیت کی تڑپ
کالم نگار:روبینہ شاہین
تاریخ: 14 جنوری، 2026
فلسفہِ حیات کا یہ قدیم ترین سوال ہے کہ کیا انسان محض گوشت پوست کا ایک لوتھڑا ہے یا اس کے اندر کوئی ایسی چنگاری بھی ہے جو فنا کو بقا میں بدلنے کی سکت رکھتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ فرعون کے اہرام ہوں یا نمرود کی بلند و بالا عمارتیں، انسان نے ہمیشہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے شکست دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ مادی وجود کو محفوظ کرنے کی یہ قدیم تمنا آج کے جدید دور میں 'جینیاتی ٹیکنالوجی' اور 'انسانی کلوننگ' کا لبادہ اوڑھ کر دوبارہ جی اٹھی ہے۔
موجودہ دور کا انسان سائنس کے بل بوتے پر ابدیت (Immortality) کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ لیبارٹریوں میں ڈی این اے (DNA) کے ریشوں سے زندگی کے نقش و نگار ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں جیسے انسان نے تخلیق کے سربستہ رازوں کو پا لیا ہو۔ بظاہر یہ ترقی ایک کرشمہ نظر آتی ہے، مگر ایمان کی بصیرت سے دیکھا جائے تو یہ اسی ازلی تکبر کا تسلسل ہے جس نے انسان کو ہمیشہ گمراہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ حیا اور اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم قدرت کے شاہکار میں مداخلت کے بجائے اس کی عظمت کے گن گاتے، مگر جدید سائنس دان 'خدا' بننے کی سعیِ لاحاصل میں مصروف ہے۔
جدیدیت کے علمبردار اور مغربی لبرل طبقہ، جو انسانی حقوق اور مساوات کا راگ الاپتے نہیں تھکتا، اس معاملے میں بدترین منافقت کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انسانی زندگی کو محض ایک 'پروڈکٹ' (Product) بنانے پر تلے ہیں، اور دوسری طرف ان کی 'انسانیت دوستی' کا یہ عالم ہے کہ غریب ممالک میں لاکھوں انسان بنیادی ادویات کو ترستے مر جاتے ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ جس دنیا میں فطری پیدائش کے عمل کو بوجھ سمجھا جا رہا ہے، وہاں مصنوعی زندگی کی تخلیق پر اربوں ڈالر صرف کیے جا رہے ہیں؟ یہ لبرل طبقہ دراصل اس مادی ترقی کے ذریعے ایک ایسی مخلوق تیار کرنا چاہتا ہے جو ضمیر کی آواز اور خالق کے خوف سے عاری ہو، تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سائنس کے پاس جسم بنانے کا فارمولا تو ہو سکتا ہے، مگر 'روح' پھونکنے کا اختیار صرف اس وحدہ لاشریک کے پاس ہے جس نے کائنات کو 'کُن' سے تخلیق کیا۔ علم و حکمت کا موتی یہ ہے کہ مادی بقا میں نہیں بلکہ روحانی ارتقا میں اصل کامیابی پوشیدہ ہے۔ ہم لیبارٹری میں کلون بنا کر جسم تو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں، مگر وہ 'ضمیر' اور 'احساسِ جوابدہی' کہاں سے لائیں گے جو صرف اللہ کی یاد اور اس کی بندگی سے پیدا ہوتا ہے؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم مادی زندگی کی ہوس سے نکل کر اس حقیقی کامیابی کی فکر کریں جس کا وعدہ آخرت میں کیا گیا ہے۔ سائنس کو مذہب کا تابع ہونا چاہیے، نہ کہ اس کا مدمقابل۔ آج انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ جسم کی بوسیدگی نہیں، بلکہ روح کا بنجر پن ہے۔ ضمیر کی دستک ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ابدیت لیبارٹری کے ٹیسٹ ٹیوب میں نہیں، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اس کے احکامات کی پیروی میں ہے۔ اصل کامیابی وہی ہے جو میزانِ حشر میں کام آئے، ورنہ یہ مادی مورتیاں تو ایک دن مٹی میں مل کر مٹی ہی ہو جائیں گی۔
کیا آپ چاہیں گی کہ میں اس کالم کو کسی خاص پلیٹ فارم یا سوشل میڈیا کے لیے ایڈجسٹ کروں، یا کسی اور بین الاقوامی موضوع (جیسے کہ خلا کی تسخیر یا اے آئی) پر نیا کالم تیار کروں؟

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں