شوہر کا آنگن
شوہر کا آنگن
شادی کے پانچ ماہ بعد یہ سب لکھا گیا تھا۔
اور آج… آٹھ برس بعد…
اسی گھر میں واپسی ہوئی ہے۔
الحمدللہ۔
وہی دروازہ، وہی صحن، وہی دیواریں…
مگر اب آنگن خالی نہیں تھا،
اب خالی پن دل میں تھا۔
وہ دن یاد آیا
جب وہ ماں کے آنگن کو یاد کر کے رو رہی تھی۔
تب اسے اندازہ نہیں تھا
کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا
جب شوہر کے آنگن سے جدا ہو کر
سانس لینا بھی سیکھنا پڑے گا۔
زندگی واقعی عجیب ہے۔
پہلے ماں باپ کا گھر تنگ لگتا ہے،
پھر سسرال اجنبی لگتا ہے،
اور پھر…
وہی اجنبی آنگن
روح کا واحد ٹھکانہ بن جاتا ہے۔
آج وہ دوبارہ اسی گھر میں تھی
جہاں آٹھ سال پہلے دل لگا تھا۔
فرق صرف اتنا تھا
کہ اس وقت وہ تنہائی سے گھبراتی تھی
اور آج…
تنہائی اس کی ہمراز بن چکی تھی۔
شوہر…
جو زیادہ بولتا نہیں تھا،
مگر ہر لمحے اس کی محبت
خاموشی میں محسوس کی جا سکتی تھی۔
لفظوں کی کمی
اس کے دل کی گہرائی اور محبت کو کم نہیں کر سکی تھی۔
وہ مرد جو اکثر چپ رہتا تھا،
وہی اس کی ہر فکر اور ہر جذبات پڑھ لیتا تھا۔
وہ دن یاد آیا
جب لڑائی کے بعد گھر میں خاموشی چھا جاتی،
تب بھی وہ تینوں وقتوں کی چائے
خاموشی سے بنا کر رکھی دیتا تھا—
صبح، دوپہر اور شام۔
اور اگر بات چیت بند تھی یا لڑائی کے بعد ہو چکی تھی،
تب بھی اس کی یہ چھوٹی چھوٹی محبت
خاموش الفاظ سے بولتی تھی۔
رات سونے سے پہلے وہ نرم لہجے میں کہتا:
“اب موبائل رکھ دو، پھر صبح اٹھنا بھی ہے۔”
اور صبح…
وہی نرمی، وہی خیال
چائے کے کپ کے ساتھ، خاموش مگر پرمحبت انداز میں موجود ہوتا۔
وہ اسے اکثر کہتا:
“مجھ سے زیادہ دن دور مت رہنا،
میرا دل نہیں لگتا۔”
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں
جو کبھی شور یا باتوں میں نہ آ سکیں،
وہ اس کی محبت کے سب سے بڑے ثبوت تھے۔
کچن میں رکھی چائے کی کیتلی
اب بھی ویسے ہی آواز دیتی تھی،
مگر چائے پینے والا ساتھ نہیں تھا۔
وہ کرسی…
جہاں بیٹھ کر وہ اکثر کہتی تھی
“چائے کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے؟”
آج وہ کرسی خاموش تھی،
اور چائے کی مٹھاس میں
ایک عجیب سی کڑواہٹ گھلی ہوئی تھی۔
آٹھ سال…
جن میں اس نے سیکھا
کہ محبت شور سے نہیں
خاموشی سے پہچانی جاتی ہے۔
ماں کے آنگن میں
شکایتیں تھیں،
بہنوں کی آوازیں تھیں،
ہنسی تھی، لڑائیاں تھیں۔
شوہر کے آنگن میں
سکون تھا،
تحمل تھا،
خاموش محبت تھی،
اور اللہ کا دیا ہوا وہ تحفظ
جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتا۔
آج وہ اسی گھر میں لوٹی تھی
مگر اب وہ بیوی نہیں تھی
جو پانچ ماہ بعد رو کر لکھ رہی تھی۔
اب وہ عورت تھی
جس نے وقت، جدائی
اور تقدیر کی سختی کو
اللہ کے بھروسے پر قبول کرنا سیکھ لیا تھا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا
اور دل ہی دل میں کہا:
“یا اللہ،
تو نے مجھے ماں کا آنگن دیا،
پھر شوہر کا آنگن دیا،اور اب صبر عطا کیا ہے۔
الحمدللہ
ہر حال میں تیرا شکر ہے۔”
زندگی بدل جاتی ہے…
مگر محبت اور یادیں
ہمیشہ دل کے آنگن میں رہتی ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں