قرآن کے ساتھ میرا سفر 2
قرآن کے ساتھ میرا سفر
ہدایت کے کنارے کھڑا انسان
وہ سمجھ رہی تھی
کہ یقین ایک منزل ہے۔
مگر آیت نمبر پانچ نے آ کر بتایا
کہ یقین تو صرف دروازہ ہے۔
أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
یہ وہ لوگ ہیں
جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں،
اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔
وہ دیر تک اس آیت کو دیکھتی رہی۔
ہدایت پر ہونا—
یہ کوئی دعویٰ نہیں،
یہ کوئی نعرہ نہیں،
یہ کوئی لباس یا پہچان نہیں۔
یہ ایک کھڑا ہونا ہے۔
وہ سوچنے لگی
ہم اکثر کہتے ہیں
“ہمیں ہدایت مل گئی ہے”
مگر قرآن کہتا ہے
کہ ہدایت ملتی نہیں،
ہدایت پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
اور کھڑا ہونا
ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
ہدایت ایک سیدھی لکیر نہیں،
یہ ایک باریک راستہ ہے
جہاں ذرا سا جھکاؤ
انسان کو کنارے سے نیچے گرا دیتا ہے۔
وہ جان گئی
کہ ہدایت کوئی محفوظ قلعہ نہیں
جہاں پہنچ کر دروازہ بند ہو جائے۔
یہ تو ہر لمحہ
اپنے آپ کو سنبھالنے کا نام ہے۔
اور پھر فلاح…
فلاح کا مطلب
صرف کامیابی نہیں۔
یہ اندر کی نجات ہے،
وہ سکون
جو ہجوم میں بھی میسر آ جائے،
وہ روشنی
جو اندھیرے میں بھی ساتھ چلتی رہے۔
وہ مسکرا دی۔
دنیا جنہیں کامیاب کہتی ہے
وہ اکثر
ہدایت کے کنارے سے بہت دور ہوتے ہیں۔
اور جنہیں دنیا بھول جاتی ہے
وہی لوگ
اکثر رب کی نظر میں
سرخرو ہوتے ہیں۔
اسے سمجھ آیا
کہ ہدایت اور فلاح
کسی خاص گروہ کی میراث نہیں۔
یہ تو ان کے حصے میں آتی ہے
جو دل کو جھکنے دیتے ہیں
اور نفس کو حاکم نہیں بناتے۔
وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔
اب اسے رب کے نظر نہ آنے کا شکوہ نہیں تھا۔
وہ جان گئی تھی
کہ ہدایت
نظر آنے والی چیز نہیں،
یہ وہ احساس ہے
جو انسان کو
غلط کے بیچ بھی
درست پہ کھڑا رکھے۔
وہ آہستہ سے بولی:
“اے رب
مجھے ہدایت دکھا نہیں،
مجھے ہدایت پر قائم رکھ۔”
کیونکہ
دکھایا جانا
اور
قائم رکھا جانا
دو الگ باتیں ہیں۔
اور قرآن؟
قرآن وہ ہاتھ ہے
جو ہجوم میں بھی
انسان کو گم نہیں ہونے دیتا۔
جاری ہے…

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں