قرآن، تجوید اور برکات
قرآن، تجوید اور برکات قرآن کریم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جس کی تلاوت باعثِ اجر و ثواب اور باعثِ برکت ہے۔ لیکن اس کلامِ الٰہی سے مکمل فیض حاصل کرنے کے لیے اسے اسی طرح پڑھنا ضروری ہے جیسے یہ نازل ہوا۔ تجوید محض حروف کی درست ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ یہ تلاوت میں وہ روح پھونکتی ہے جس سے قاری کی زندگی میں برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ علمائے امت اور کتبِ سلف کے اقتباسات فنِ تجوید کی اہمیت پر ائمہ دین نے بہت زور دیا ہے۔ ذیل میں چند معتبر کتب سے اقتباسات پیش خدمت ہیں: * امام ابن الجزری (کتاب النشر): آپ فرماتے ہیں کہ "امتِ مسلمہ جس طرح قرآن کے معانی کی حفاظت کی مکلف ہے، اسی طرح اس کے الفاظ اور حروف کی تجوید کی حفاظت کی بھی مکلف ہے تاکہ یہ اسی طرح باقی رہے جیسے نازل ہوا تھا۔" * ملا علی قاری (شرح الجزریہ): آپ کے نزدیک تجوید کا علم اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر تلاوت میں "لحنِ جلی" (بڑی غلطی) کا اندیشہ ہوتا ہے، جس سے بسا اوقات معنی بدل جاتے ہیں اور نماز فاسد ہو سکتی ہے۔ * امام غزالی (احیاء العلوم): آپ فرماتے ہیں کہ "قرآن کا حق یہ ہے کہ اسے ترتیل (تجوید) کے ساتھ پڑ...