اگلی قسط: تیسرا دروازہ
اگلی قسط: تیسرا دروازہ
اس جمعہ وہ جلدی جاگ گیا تھا۔
بغیر الارم کے۔
جیسے کسی نے اندر سے آواز دی ہو: اُٹھو… اب صرف پڑھنا کافی نہیں۔
سورۃ کہف کھلی۔
مگر آج نظر آیات پر نہیں، خاموشیوں پر تھی۔
وہ سوچ رہا تھا:
دو گروہ تو سمجھ آ گئے—
ایک حساب میں گم
ایک یقین میں مطمئن
مگر دل نے سوال کیا:
کیا بس یہی دو راستے ہیں؟
آنکھ بند ہوئی
اور وہ پھر غار کے سامنے تھا۔
مگر اس بار حیرت ہوئی۔
غار کا دہانہ بند نہیں تھا۔
ایک تیسرا دروازہ کھلا تھا—
نہ مکمل اندھیرا
نہ مکمل روشنی۔
وہ اندر گیا۔
وہاں کوئی لیٹا ہوا نہیں تھا۔
کوئی سویا ہوا نہیں تھا۔
بس ایک شخص بیٹھا تھا،
سر جھکا ہوا،
ہاتھ خالی،
آنکھیں بند۔
نہ ریت گھڑی
نہ آسمان کی طرف نگاہ
وہ بول پڑا:
“تم کون ہو؟”
جواب فوراً نہیں آیا۔
پھر آہستہ سے آواز ابھری:
“میں وہ ہوں جو گنتا بھی نہیں
اور انکار بھی نہیں کرتا۔”
وہ الجھ گیا۔
“تو پھر تم کیا کرتے ہو؟”
آواز میں سکون تھا:
“میں انتظار کرتا ہوں۔”
“کس کا؟”
“اُس لمحے کا
جب اللہ خود وقت کو بولنے دے۔”
وہ چونکا۔
“تمہیں معلوم نہیں کتنی دیر گزر چکی؟”
خاموش مسکراہٹ۔
پھر جواب آیا:
“جب دل جاگ جائے
تو مدت سوال نہیں رہتی۔”
تب اسے سمجھ آیا۔
یہ تیسرا گروہ تھا۔
نہ وہ جو وقت کو رب بنا لیتے ہیں،
نہ وہ جو وقت سے لڑتے ہیں۔
یہ وہ تھے
جو وقت کے اندر
اللہ کی مرضی کا انتظار کرتے ہیں۔
غار کی دیوار پر ایک جملہ ابھرا،
نہ لکھا ہوا
نہ پڑھا جانے والا—
بس سمجھا جانے والا:
“سب سے محفوظ وہ ہے
جو اللہ کے فیصلے سے پہلے
اپنا فیصلہ معلق رکھ دے۔”
اس کا دل بھر آیا۔
یہ وہ لوگ تھے
جو نہ شور مچاتے ہیں
نہ دلیلیں سجاتے ہیں
نہ گنتی میں فخر کرتے ہیں۔
یہ خاموش گواہ تھے۔
وہ پیچھے ہٹا۔
غار مدھم ہونے لگا۔
آنکھ کھلی۔
سجدے کا وقت تھا۔
جمعہ قریب تھا۔
قرآن بند نہیں کیا—
بلکہ سینے سے لگا لیا۔
آج اسے معلوم ہو گیا تھا:
اصحابِ کہف صرف سونے والے نہیں تھے۔
کچھ جاگتے بھی تھے—
خاموش،
منتظر،
اللہ کے وقت پر راضی۔
اور شاید
ہر دور میں
نجات انہی کے لیے ہوتی ہے
جو شورِ اختلاف میں بھی
دل کو غار بنا لیتے ہیں۔
وہ آہستہ بولا:
“یا اللہ
مجھے نہ پہلے گروہ کا غرور دے
نہ دوسرے کا سکون
مجھے تیسرے دروازے کی
خاموش سمجھ عطا فرما۔”
اور غار
دل میں بند ہو گیا—
مگر نور رہ گیا۔
The end

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں