اگلی قسط: وقت کے پار سوال

اگلی قسط: وقت کے پار سوال

 

اگلی قسط: وقت کے پار سوال

اس جمعہ، اس نے سورۃ کہف کھولی تو دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔
جیسے پچھلی قسط ختم نہیں ہوئی تھی، بس وقفہ آیا تھا۔

وہی آیت…
مگر آج لفظ “أَحْصَى” اس کی نظر میں ٹھہر گیا۔

کس نے زیادہ درست شمار کیا؟

وہ سوچنے لگا:
اگر اللہ نے مدت بھی بتا دی، پھر شمار پر سوال کیوں؟

اسی لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ پھر غار کے قریب ہے—
مگر اس بار غار اندھیرے میں نہیں تھا۔
اندر ہلکی سی روشنی تھی، جیسے کسی دل میں یقین جاگ رہا ہو۔

غار کے دہانے پر دو آدمی بیٹھے تھے۔

ایک کے ہاتھ میں ریت گھڑی تھی۔
وہ ہر دانہ گن رہا تھا، بےچینی سے۔

دوسرے کے ہاتھ خالی تھے۔
وہ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

پہلا بولا:
“اگر میں درست گن لوں تو سچ میرے پاس ہوگا۔”

دوسرا مسکرایا:
“اور اگر وقت ہی مخلوق ہو تو گنتی کس کی؟”

وہ آگے بڑھا۔
“تم میں سے کون درست ہے؟”

ریت گھڑی والا بولا:
“میں! کیونکہ میرے پاس حساب ہے۔”

آسمان کو دیکھنے والے نے آہستہ کہا:
“میں نہیں جانتا—اور یہی میرا علم ہے۔”

تب غار کے اندر سے آواز آئی، نرم مگر فیصلہ کن:

“درست شمار وہ نہیں جو عدد جان لے،
درست شمار وہ ہے جو حد جان لے۔”

وہ سمجھ گیا:
یہاں مقابلہ عدد کا نہیں تھا،
یہاں امتحان ادراک کا تھا۔

اصحابِ کہف کو اٹھایا گیا
تاکہ یہ ظاہر ہو جائے
کہ انسان کب حساب کو رب بنا لیتا ہے
اور کب رب کے سامنے حساب رکھ دیتا ہے۔

اس نے ریت گھڑی کی طرف دیکھا۔
ریت ختم ہو رہی تھی، گھبراہٹ بڑھ رہی تھی۔

آسمان کو دیکھنے والا پرسکون تھا۔
وقت اس پر گزر نہیں رہا تھا،
وہ وقت میں ڈوبا نہیں تھا۔

تب اس کے دل میں ایک سوال ابھرا—
میں کس گروہ میں ہوں؟

وہ جاگا۔

کمرے میں خاموشی تھی۔
قرآن کھلا تھا۔
اور دل… اپنے ہی سوال کے سامنے کھڑا تھا۔

اسے احساس ہوا:
ہم وقت کو گنتے گنتے
وقت کے رب کو بھول جاتے ہیں۔

اور سورۃ کہف
ہر جمعہ
ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ
کتنے سال گزرے—

بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ
کتنا شعور جاگا؟

وہ قرآن بند کر کے آہستہ بولا:
“اے ربِ وقت،
مجھے شمار کرنے والوں میں نہیں،
سمجھنے والوں میں شامل کر۔”

غار کی روشنی
دل میں اتر چکی تھی۔

جاری ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

مذہب کا انسانی زندگی میں کردار