غار میں سویا ہوا وقت
غار میں سویا ہوا وقت
ہر جمعہ کی طرح اس جمعہ بھی، فجر کے بعد اس نے سورۃ کہف کھولی۔
صفحات تو وہی تھے، مگر آج الفاظ کچھ زیادہ خاموش تھے، جیسے کسی گہرے راز کو زبان دینے سے پہلے توقف کر رہے ہوں۔
وہ آیت پر آ کر ٹھہر گیا:
“ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ…”
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
اچانک اسے یوں لگا جیسے وہ کسی غار کے دہانے پر کھڑا ہے۔ باہر دھوپ ہے، اندر گہری ٹھنڈک۔
غار کے اندر چند نوجوان لیٹے ہیں۔ ان کے چہرے پُرسکون ہیں، جیسے وقت نے انہیں چھونا چھوڑ دیا ہو۔
وہ آگے بڑھا۔
“تم کب سے سو رہے ہو؟”
اس نے آہستہ سے پوچھا۔
ایک نوجوان نے آنکھیں کھولیں، مسکرایا، اور کہا:
“ایک دن… یا شاید اس کا کچھ حصہ۔”
وہ چونک گیا۔
باہر صدیوں کی گرد جمی تھی، سلطنتیں بدل چکی تھیں، زبانیں مر چکی تھیں، مگر یہاں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔
وہ سمجھ گیا:
یہ نیند نہیں تھی، یہ اعلان تھا۔
یہ غفلت نہیں تھی، یہ قدرت تھی۔
اسی لمحے غار کے باہر دو آوازیں سنائی دیں۔
ایک آواز کہہ رہی تھی:
“تین سو سال! یہ ناممکن ہے۔”
دوسری آواز بولی:
“اگر وقت اللہ کے ہاتھ میں ہو، تو صدی اور لمحہ برابر ہیں۔”
وہ باہر آیا تو دیکھا:
لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
ایک گروہ گھڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔
دوسرا آسمان کو۔
پہلا کہہ رہا تھا:
“جو ہم ناپ نہ سکیں، وہ ہو ہی نہیں سکتا۔”
دوسرا خاموش تھا، مگر اس کی خاموشی میں یقین تھا۔
اچانک غار کے اندر سے آواز آئی:
“ہمیں اٹھایا گیا، تاکہ معلوم ہو جائے…
کہ کون وقت کو گنتا ہے
اور کون وقت کے رب کو پہچانتا ہے۔”
وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا۔
تب اس کی آنکھ کھل گئی۔
نماز کی جگہ پر بیٹھا تھا۔
قرآن اس کے ہاتھ میں تھا۔
مگر دل… کسی اور جگہ جا چکا تھا۔
اسے احساس ہوا:
اصحابِ کہف کہیں دور نہیں سوئے تھے۔
وہ تو ہر اُس دل میں سو جاتے ہیں
جو دنیا کے شور میں اللہ کی قدرت کو بھول جائے۔
اور ہر جمعہ،
سورۃ کہف
اُس دل کو جھنجھوڑنے آتی ہے۔
یہ کہہ کر نہیں کہ
“کتنے سال سوئے تھے؟”
بلکہ یہ پوچھنے کہ:
“تم کب سے سوئے ہوئے ہو؟”
وہ قرآن بند کر کے دیر تک بیٹھا رہا۔
آج اسے معلوم ہو گیا تھا:
غار ایک جگہ نہیں،
غار ایک حالت ہے۔
اور بعث
صرف قبروں سے نہیں،
دلوں سے بھی ہوتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں