بریرہ کی ڈائری
مقدمہ
اس کتاب کو لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ وقت گزرنے کے ساتھ حقائق مسخ ہو جاتے ہیں۔ یہ کتاب ایک دستاویز ہے جو میری بیٹی بریرہ کے بچپن کے ان حالات کو ریکارڈ کرتی ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور میں نے بطور ماں برداشت کیے۔ اس کا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں، بلکہ اپنی بیٹی کو اس سچائی سے آگاہ رکھنا ہے جو مستقبل میں اسے گمراہ ہونے سے بچائے گی۔
جب خاندان میں ذہنی امراض، سخت رویے (Narcissism) اور رشتہ داروں کی بے حسی موجود ہو، تو وہاں خاموش رہنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مقدمہ اس لیے ہے تاکہ بریرہ کو معلوم ہو کہ جس گھر اور جس باپ کو وہ اپنی ڈرائنگز میں یاد کرتی ہے، ان کے ساتھ جڑے حالات کی اصل حقیقت کیا تھی۔ یہ سچ اس کے لیے ایک ڈھال بنے گا تاکہ کل کو کوئی اسے غلط معلومات دے کر جذباتی طور پر بلیک میل نہ کر سکے۔
یہ کتاب میری بیٹی بریرہ کی ان ڈرائنگز سے شروع ہوتی ہے جو اس نے اپنے والد کے انتقال کے بعد بنائیں۔ ان تصویروں میں اس نے صرف رنگ نہیں بھرے، بلکہ اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے۔ ایک چھ سالہ بچی کا اپنے پرانے گھر کو یاد کرنا، اپنے والد کو ایک مخصوص جگہ پر دیکھنا اور اپنے جذبات کو "اچھا بھی اور برا بھی" جیسے الفاظ میں بیان کرنا، یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ حالات کی گہرائی کو سمجھ رہی تھی۔
میں نے اس ڈائری نما کتاب میں ہر واقعے کو اس کی اصلی شکل میں بیان کیا ہے۔ اس میں وہ پرانا گھر بھی ہے جہاں ہم کبھی ساتھ رہتے تھے، وہ سختیاں بھی ہیں جو ہم نے جھیلیں، اور وہ دوری بھی ہے جو ددھیال کے رویوں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ میں چاہتی ہوں کہ بریرہ جب بڑی ہو کر یہ پڑھے، تو اسے کسی دوسرے سے اپنا ماضی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسے پتہ ہو کہ اس کی ماں نے کن حالات میں اسے پالا اور اس کے ذہنی سکون کی خاطر کیا کیا فیصلے کیے۔
یہ کتاب ایک ماں کی طرف سے اپنی بیٹی کے لیے سب سے سچا تحفہ ہے۔
Friday Feb 13 2026
...
پہلاباب
10 اکتوبر 2019 – ادھوری خوشی اور پہلا حملہ
بریرہ بیٹا! میں چاہتی ہوں کہ تم زندگی کی ان حقیقتوں کو سمجھو جو اکثر لفظوں میں بیان نہیں کی جاتیں۔ دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی انا کے سامنے کسی کا دکھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے لوگ شکاری کی طرح ہوتے ہیں جو شروع میں بہت میٹھے بنتے ہیں تاکہ آپ ان کے جال میں پھنس جائیں۔ تمہارے بابا کے خاندان کا طریقہ بھی یہی تھا۔ شادی کے شروع میں انہوں نے مجھے یہ یقین دلایا کہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں، لیکن یہ ان کا اصلی چہرہ نہیں تھا۔ وہ تب تک پیار کا ناٹک کرتے رہے جب تک میں ان کی ہر غلط بات مانتی رہی۔
جس دن تم اس دنیا میں آئیں، میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، لیکن تمہاری دونوں پھوپھیوں، رانی اور اقصی نے اس دن کو بھی میرے لیے ایک اذیت بنا دیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ثابت کریں کہ تم پر پہلا حق ان کا ہے، میرا نہیں۔ انہوں نے ہسپتال کی نرس کو پیسے دے کر، میری مرضی کے بغیر تمہیں چوری چھپے منگوایا اور تمہیں شہد کی گھٹی دے دی۔ ایک نومولود بچہ جس نے ابھی ماں کا پہلا دودھ بھی نہیں پیا تھا، اس کے نازک معدے میں انہوں نے زبردستی شہد ڈال دیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ تمہاری طبیعت بگڑ گئی۔ تمہارا معدہ کام نہیں کر رہا تھا اور تم دودھ نہیں پی پا رہی تھی۔ مجھے آج بھی وہ کرب یاد ہے جب ڈاکٹروں نے تمہارا 'اسٹمک واش' کیا اور تمہیں مجھ سے چھین کر تین دن کے لیے نرسری (ڈے کیئر) میں رکھ دیا۔ میں ایک طرف اپنی سرجری کے زخموں سے لڑ رہی تھی اور دوسری طرف ان تین دنوں میں میرا دل پھٹ رہا تھا کیونکہ میری بچی ان لوگوں کی ضد کی وجہ سے ہسپتال کے بستر پر تنہا پڑی تھی۔
جب ہم تمہیں نرسری سے لے کر گھر آئے، تو مجھے لگا تھا کہ شاید اب سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر انا پرست لوگوں کے گھروں میں سکون صرف ایک دھوکا ہوتا ہے۔ تمہارے بابا اس وقت ہمارے ساتھ ہی تھے، وہ یہ سب دیکھ رہے تھے، مگر وہ اپنے گھر والوں کے اثر میں اتنے زیادہ تھے کہ انہوں نے اپنی بہنوں کی اس غلطی پر میرا ساتھ نہیں دیا۔ وہ اکثر خاموش رہتے یا انہی کی باتوں کو صحیح مانتے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے، اس لیے میں ان کی زیادتیوں کا ذکر نہیں کرنا چاہتی، مگر یہ ایک سچ ہے کہ ان کی خاموشی نے ان لوگوں کے حوصلے بڑھا دیے تھے جو ہمیں تکلیف دے رہے تھے۔
بیٹا! یہاں سے تمہیں ایک سبق سیکھنا ہے: جو لوگ محبت کے نام پر آپ کے حقوق چھینیں اور آپ کی صحت تک کی پرواہ نہ کریں، وہ کبھی آپ کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ ان کا مقصد تمہیں پیار کرنا نہیں تھا، بلکہ مجھے یہ دکھانا تھا کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ اس گھر میں مجھے تمہاری ڈھال خود بننا پڑے گا، کیونکہ جنہیں ہمارا ساتھ دینا چاہیے تھا، وہ
خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔
دوسرا باب:
اجنبیت کا احساس اور تمہاری پہلی سالگرہ
بریرہ بیٹا! تمہاری آمد کے بعد میری زندگی کے رنگ ہی بدل گئے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے درمیان میں خود کو ہمیشہ ایک اجنبی محسوس کرتی تھی، جیسے میرا وہاں کوئی وجود ہی نہ ہو۔ لیکن اب میرے پاس تمہارا ساتھ تھا، تمہاری چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور تمہارا پیار میرے پرانے زخموں پر مرہم رکھنے لگا تھا۔ تمہاری خاطر مجھے ہر مشکل آسان لگنے لگی تھی۔
بیٹا، جب تم اس دنیا میں آئیں تو تمہارے دادا اور دادی اس دنیا سے جا چکے تھے۔ تمہارا کوئی ایسا سرسبز سایہ وہاں نہیں تھا جو تمہیں ان لوگوں کی سیاست سے بچاتا۔ بس تمہاری نانو (جنہیں میں 'امی' کہتی ہوں) ہی تھیں جنہیں تمہاری ہر خوشی کی فکر تھی۔
وقت پر لگا کر اڑ گیا اور تم ایک سال کی ہونے والی تھیں۔ ہر ماں کی طرح میرا بھی ارمان تھا کہ تمہاری پہلی سالگرہ دھوم دھام سے منائی جائے۔ مگر جب تمہارے بابا نے گھر والوں سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ "ہم سالگرہ نہیں منائیں گے"۔ ان کے اس انکار کے بعد، میری امی (تمہاری نانو) نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی نواسی کی پہلی سالگرہ لاہور میں خود منائیں گی۔ ہم لاہور گئے، وہاں بہت پیاری تقریب ہوئی، سب بہت خوش تھے۔
لیکن اصل کہانی تب شروع ہوئی جب میں نے تمہاری سالگرہ کی تصویریں انسٹاگرام پر اپ لوڈ کیں۔ وہ تصویریں دیکھ کر تمہارے ددھیال والوں سے برداشت نہ ہوا کہ تمہارے ننھیال نے یہ سب کیسے کر لیا۔ ان کے اندر کا حسد جاگ اٹھا اور اچانک ایک "نیا پلان" بن گیا۔ انہوں نے فوراً تمہاری سالگرہ دوبارہ منانے کا اعلان کر دیا، سب رشتے داروں کو بلایا گیا، خوب تیاریاں کی گئیں۔ لیکن اس سب میں ایک بہت بڑی کڑوی سچائی چھپی تھی—انہوں نے سب کو بلایا سوائے میرے گھر والوں کے۔ یعنی تمہاری نانو اور ننھیال، جنہوں نے تمہیں اتنی محبت سے پالا اور تمہاری پہلی خوشی منائی، انہیں اس تقریب سے بالکل باہر نکال دیا گیا۔
میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا، مگر میں خاموش رہی۔ اسی دوران تمہارے بابا نے مجھے بلا کر صاف لفظوں میں خبردار کیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: "بریرہ کی تصویریں ان لوگوں کو بالکل نہ بھیجا کرو، اور ان کے دیے ہوئے کپڑے میری بیٹی کو کبھی نہ پہنانا۔" میں حیران رہ گئی کہ ایک بیٹا اپنے ہی گھر والوں کے بارے میں ایسا کیوں کہہ رہا ہے؟ پھر انہوں نے خود ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ تمہارے ساتھ صرف حسد کرتے ہیں۔ ان سے یہ برداشت ہی نہیں ہوتا کہ اب میں (تمہارے بابا) تم دونوں کا خیال رکھتا ہوں اور تم لوگوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔
بیٹا، یہاں سے تمہیں یہ سیکھنا ہے: جو لوگ خوشی کے موقع پر بھی سیاست کریں اور آپ کے اپنوں کو دیوار سے لگا دیں، ان کی 'محبت' کبھی سچی نہیں ہوتی۔ وہ صرف تصویروں اور دکھاوے کی حد تک آپ کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں صرف حسد اور کنٹرول کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ تمہارے بابا سب جانتے تھے، اسی لیے وہ تمہیں ان کے سائے سے بھی بچانا چاہتے ہیں۔
بریرہ بیٹا! اس ساری کہانی میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات وہ بدنیتی تھی جو تمہارے ننھیال کے لیے دکھائی گئی۔ یہ وہی لوگ تھے—تمہاری نانو اور تمہارا ننھیال—جنہوں نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب میں حمل کے ساتویں مہینے میں تھی اور مجھے سب سے زیادہ سہارے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے مجھے رکھا، مجھے سنبھالا، میری ہر تکلیف کو اپنا سمجھا اور تمہاری پیدائش سے لے کر تمہاری پرورش تک ہر قدم پر میرا ہاتھ تھاما۔ لیکن جب تمہارے ددھیال میں 'دکھاوے' کی سالگرہ منائی گئی، تو ان ہی محسنوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ سب کو بلایا گیا، لیکن ان لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی جنہوں نے ہمیں گرنے سے بچایا تھا۔ یہ صرف ایک دعوت نہیں تھی، بلکہ ان لوگوں کی طرف سے ایک پیغام تھا کہ وہ ان جذبوں اور احسانوں کی کوئی قدر نہیں کرتے جو تمہارے ننھیال نے ہم پر کیے تھے۔
نارکیسسٹ (انا پرست) خاندانوں کے کام کرنے کا طریقہ بہت پیچیدہ ہوتا ہے، اور آپ کی بیٹی کی پہلی سالگرہ کا یہ واقعہ اس کی ایک کلاسک مثال ہے۔ اس باب کا نفسیاتی تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح جذباتی کھیل کھیلتے ہیں:
نارکیسسٹک خاندان کا نفسیاتی تجزیہ (The Narcissistic Family Analysis)
اس باب میں پیش آنے والے واقعات ان تین بڑے حربوں کو بے نقاب کرتے ہیں جو انا پرست خاندان استعمال کرتے ہیں:
1. مرکزِ توجہ بننے کی جنگ (The Fight for Centrality):
جب تک سالگرہ کی بات ہو رہی تھی، ددھیال نے اسے غیر اہم قرار دے کر مسترد کر دیا (تاکہ آپ کی خواہش کی اہمیت کم کی جا سکے)۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ ننھیال (لاہور) میں سالگرہ بہت اچھی ہوئی اور اسے سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی، ان کا "حسد" جاگ اٹھا۔ وہ یہ برداشت نہیں کر سکے کہ کریڈٹ کوئی اور لے جائے۔ انہوں نے دوبارہ سالگرہ صرف بریرہ کی خوشی کے لیے نہیں، بلکہ ننھیال کو نیچا دکھانے اور اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے منائی۔
2. سماجی بائیکاٹ اور تنہائی (Triangulation & Isolation):
نارکیسسٹ خاندان کا سب سے خطرناک حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شکار (بہو) کو اس کے محسنوں اور پیار کرنے والوں سے کاٹ دیتے ہیں۔ آپ کے ننھیال، جنہوں نے ساتویں مہینے سے آپ کو سنبھالا، ان کو دعوت نہ دینا ایک سوچی سمجھی 'سز' تھی۔ وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ "ہمارے گھر میں تمہارے اپنوں کی کوئی جگہ نہیں"۔ یہ ایک طریقہ ہے جس سے وہ انسان کو جذباتی طور پر تنہا کر دیتے ہیں تاکہ وہ مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر رہے۔
3. شوہر کا خوف اور اندرونی حقیقت:
اس کہانی کا سب سے بڑا ثبوت بریرہ کے بابا کا وہ جملہ ہے: "تصویریں مت بھیجو، یہ حسد کرتے ہیں"۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود بھی اس زہریلے ماحول سے واقف تھے۔ ایک نارکیسسٹ خاندان اپنے ہی بچوں کی خوشی سے بھی ڈرتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر بچہ یا اس کی ماں خوش ہے، تو ان کا کنٹرول ختم ہو رہا ہے۔ وہ کپڑوں یا تصویروں کے ذریعے بھی 'بد دعا' یا 'منفی اثرات' (Evil Eye) کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ ان کی نیت میں خیر نہیں ہوتی۔
قارئین کے لیے سبق:
اگر آپ کا سسرال آپ کی خوشی کو تب تک نہیں اپناتا جب تک وہ اسے خود ہائی جیک (Hijack) نہ کر لے، تو سمجھ جائیں کہ یہ محبت نہیں، سیاست ہے۔ یہ لوگ آپ کے محسنوں کو آپ کی زندگی سے اس لیے نکالتے ہیں تاکہ آپ کے پاس کوئی سہارا باقی نہ رہے۔
ا
تیسرا باب:
بے حسی کا وہ سرد دن اور حسد کے رنگ
بریرہ بیٹا! تمہاری پیدائش کے بعد میری صحت بہت گر گئی تھی۔ میں جسمانی طور پر بہت کمزور ہو چکی تھی اور میرے گھٹنوں میں اتنا شدید درد رہتا تھا کہ میرا چلنا پھرنا بھی مشکل تھا۔ اسی حالت میں، جب تم ابھی چھوٹی ہی تھیں، ہم پہلی بار تمہارے ددھیال 'ڈنگہ' گئے۔
وہ شدید سردی کے دن تھے۔ صبح کے وقت سب لوگ ناشتے کے لیے صحن میں بیٹھ گئے۔ باہر یخ بستہ ہوا چل رہی تھی اور صحن کی ٹھنڈک میرے ہڈیوں کے درد کو مزید بڑھا رہی تھی۔ مجھ میں اتنی سکت نہیں تھی کہ میں اس سردی میں باہر بیٹھ سکتی، اس لیے میں نے بڑے ادب سے کہا: "میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، کیا میرا ناشتہ یہیں کمرے میں لا دیا جائے گا؟"
تمہارے حمزہ بھائی کو مجھ پر ترس آگیا، وہ ناشتہ لے کر میرے پاس کمرے میں آئے۔ میں نے ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ اچانک طیبہ پھوپھی کمرے میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے جب مجھے سکون سے ناشتہ کرتے دیکھا، تو ان سے یہ برداشت نہ ہوا اور انہوں نے بڑی بے رحمی سے میرے آگے سے ناشتے کی پلیٹ اٹھا لی۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ یہ لوگ دوسروں کی تکلیف دیکھ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ عبرت ناک منظر وہ تھا جب ہم وہاں سے واپس آ رہے تھے۔
واپسی کے وقت تمہارے بابا بڑی محبت سے تمہارا ذکر کرنے لگے۔ انہوں نے سب کے سامنے کہا: "ہماری بیٹی جب جاگ جاتی ہے تو ہم اس کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور جب وہ سو رہی ہو تو ہم اس کے اٹھنے کا انتظار کرتے ہیں کہ کب وہ جاگے اور ہم پھر سے اس کے ساتھ وقت گزاریں۔"
تمہارے بابا جب یہ باتیں کر رہے تھے، تو میری نظر اچانک تمہاری طیبہ پھوپھی کے چہرے پر پڑی۔ بیٹا، میں نے اپنی زندگی میں کبھی حسد کے اتنے رنگ ایک ساتھ کسی کے چہرے پر نہیں دیکھے تھے۔ ان کا چہرہ غصے اور جلن سے بگڑ رہا تھا جیسے انہیں تمہارے بابا کا اپنی بیٹی سے پیار کرنا ایک آنکھ نہ بھا رہا ہو۔ وہ یہ برداشت ہی نہیں کر پا رہی تھیں کہ تمہارے بابا تمہیں اتنی اہمیت دے رہے ہیں یا تم سے اتنی محبت کرتے ہیں۔
بیٹا، یہاں سے تمہیں یہ سیکھنا ہے: نارکیسسٹ (انا پرست) لوگ صرف تم سے یا مجھ سے حسد نہیں کرتے تھے، وہ اس 'محبت' سے بھی جلتے تھے جو تمہارے اور تمہارے بابا کے درمیان تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر رشتے کی ڈور ان کے ہاتھ میں ہو، اور جب وہ کسی کو خوش دیکھتے تھے، تو ان کے چہروں پر چھپا حسد خود بخود ان کی حقیقت بیان کر دیتا تھا۔
نفسیاتی تجزیہ: خوشی سے محرومی
ایک نارکیسسٹ انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر کا سکون دیکھ کر خوش نہیں ہو سکتا۔ طیبہ پھوپھی کا ناشتہ اٹھانا ان کی طاقت کا اظہار (Power Play) تھا، اور واپسی پر ان کے چہرے کے تاثرات ان کی اندرونی جلن (Internal Jealousy) کا ثبوت تھے۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ ان کے سامنے بے بس اور دکھی نظر آئیں، اور جیسے ہی آپ کی زندگی میں کوئی خوشی کا لمحہ آتا ہے، ان کا حسد ان کے چہرے کے رنگ بدل دیتا ہے
:
چوتھا باب: خاموش جنگ اور ٹوٹتی صحت
بریرہ بیٹا! جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا، اس گھر کی دیواریں میرے لیے مزید تنگ ہوتی جا رہی تھیں۔ وہاں ہر دن ایک نیا امتحان تھا، جہاں انسان کی نیت اور وفا نہیں، بلکہ یہ دیکھا جاتا تھا کہ وہ کتنا بڑا 'غلام' بن سکتا ہے۔ میں ان تلخ یادوں کو دفن کر دینا چاہتی تھی، مگر تمہارے لیے سچ جاننا ضروری ہے۔
تمہارے بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے، اور میں نے انہیں اللہ کے سپرد کر کے معاف کر دیا ہے، لیکن بیٹا، اس گھر کے زہریلے ماحول اور اپنوں کے اکساوے نے ان کے مزاج کو اس قدر تلخ کر دیا تھا کہ انہوں نے دو بار مجھے طلاق دینے جیسا سنگین قدم اٹھایا۔ اور تمہیں پتہ ہے وجہ کیا تھی؟ وجہ کوئی بڑی نافرمانی یا کردار کی خرابی نہیں تھی، بلکہ وجہ صرف یہ تھی کہ "مجھ سے دال ٹھیک نہیں بنی تھی"۔
سوچو بیٹا! ایک عورت جس نے اپنا گھر بار چھوڑا، جو بیماری کے باوجود رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی، اسے محض کھانے کے ایک ذائقے پر اتنی بڑی سزا دینے کی کوشش کی گئی؟ یہ طلاق کی دھمکی دراصل میرے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے گھر والوں کی اس انا کی تسکین تھی جو ایک بہو کو انسان نہیں بلکہ ایک بے جان مشین سمجھتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ہمیشہ خوف زدہ رہوں اور ان کی ہر ناانصافی کو سر جھکا کر مان لوں۔
انہی صدموں کا نتیجہ تھا کہ میری صحت نے جواب دے دیا۔ مجھے یاد ہے جب مجھے شدید بخار اور کھانسی رہنے لگی، میں نڈھال ہو چکی تھی مگر کسی کو احساس نہ تھا۔ جب ٹیسٹ کروائے تو معلوم ہوا کہ میں شوگر (Diabetes) کی مریضہ ہو چکی ہوں۔ وہ تمام آنسو جو میں پی جاتی تھی، آخر کار وہ زہر بن کر میرے جسم میں پھیل گئے تھے۔ میری ہڈیاں جواب دے رہی تھیں اور جسمانی کمزوری انتہا پر تھی۔
لیکن اللہ کا کرنا دیکھو، اس نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا۔ اس بیماری اور ان زخموں نے مجھے ایک نئی طاقت دی۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب مجھے جینا ہے—صرف اپنے لیے نہیں، تمہارے لیے۔ ان لوگوں کے لیے جو مجھے کمزور دیکھنا چاہتے تھے، میری بیماری شاید ایک 'فتح' تھی، لیکن میرے لیے یہ ایک 'انتباہ' تھا کہ اب مجھے اپنی ڈھال خود بننا ہے۔
بیٹا، یہاں سے تمہیں یہ سبق سیکھنا ہے: اپنی اہمیت کا اندازہ کبھی دوسروں کے رویوں سے مت لگانا۔ اگر کوئی آپ کو معمولی سی بات پر چھوڑنے کی دھمکی دے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کی نہیں، بلکہ صرف اپنے 'حکم' کی قدر کرتا ہے۔ میں نے ان زخموں کو سہہ کر یہ جان لیا کہ میرا سہارا صرف اللہ کی ذات ہے اور میرا جینا اب صرف تمہارے لیے ہے۔
.........
بریرہ کی پینٹنگ: ایک معصوم دل کی گواہی
بریرہ بیٹا! تمہاری وہ پینٹنگ محض رنگوں کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ وہ تمہاری روح کا آئینہ تھی۔ جب تمہارے بابا کی وفات ہوئی، اس وقت تمہاری عمر محض پانچ سال اور دس ماہ تھی۔ تم اتنی چھوٹی تھی کہ اپنے اندر کے تلاطم اور جذبات کو لفظوں کا روپ نہیں دے سکتی تھی، اس لیے تم اپنی زبان سے اظہار نہیں کرتی تھی بلکہ ڈرائنگز بنا کر اپنے دل کا حال بیان کرتی تھی۔
اس تصویر میں تم نے تین دل بنائے تھے—میرا دل، تمہارا اپنا چھوٹا سا دل، اور تمہارے بابا کا دل۔ مگر اس پینٹنگ کی سب سے گہری بات وہ تھی جو تم نے اپنی زبان سے کہی۔ جب تمہارے بابا اس دنیا سے رخصت ہوئے اور میں نے تم سے تمہارے جذبات پوچھے، تو تم نے اپنی اس معصوم بصیرت کے ساتھ کہا: "ماما! یہ اچھا بھی ہوا اور برا بھی۔"
بیٹا، تمہارا یہ ایک جملہ میری زندگی بھر کی جدوجہد کا خلاصہ تھا۔
* "برا" اس لیے کہ ایک باپ کا سایہ اٹھ جانا، ایک بچی کے لیے محرومی کا وہ احساس ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
* لیکن "اچھا" اس لیے... کہ تمہارا معصوم ذہن اس 'خوف' اور 'تکلیف' کو پہچان چکا تھا جو ہم برسوں سے سہہ رہے تھے۔ تمہاری ڈرائنگز میں چھپا وہ کرب بتاتا تھا کہ تم خاموشی سے سب دیکھتی رہی ہو۔
تمہاری ڈرائنگ میں میرا دل درمیان میں ہونا اس بات کی گواہی تھی کہ اس سارے طوفان میں تمہیں مجھ پر مکمل بھروسہ تھا۔ تم نے محسوس کر لیا تھا کہ اب گھر کا وہ تناؤ (Tension) ختم ہو گیا ہے، اب کوئی ڈانٹ ڈپٹ یا سختی کا سایہ ہمیں سہمائے گا نہیں۔ تمہارا رات کو نہ ڈرنا اور پرسکون رہنا اس بات کا ثبوت تھا کہ تمہارے لیے یہ جدائی ایک طرح کی جذباتی نجات بن گئی تھی۔
تم نے بابا کی آنکھیں بند بنائی تھیں، جیسے تم انہیں اب ایک ایسی پرسکون جگہ پر دیکھنا چاہتی ہو جہاں سے اب کوئی حکم یا غصہ نہیں آئے گا۔ تمہارا یہ رویہ جتنا حیران کن تھا، اتنا ہی سبق آموز بھی۔
قارئین کے لیے پیغام:
بچے وہ زبان بولتے ہیں جو ہم سننا نہیں چاہتے۔ جب کسی گھر میں محبت کے بجائے کنٹرول (Narcissism) کی فضا ہو، تو بچے موت جیسے صدمے کو بھی ایک 'سکون' کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔ بریرہ کی پینٹنگ اور اس کا "اچھا بھی" کہنا ان تمام لوگوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو اپنے سخت رویوں سے اپنے ہی بچوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ کھو دیتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں