اشاعتیں

📘 شکر لکھیں، زندگی بدلیں

تصویر
  📘 شکر لکھیں، زندگی بدلیں مصنفہ: روبینہ شاہین تاریخ: 4 اکتوبر 2026 --- پیش لفظ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ زندگی میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان اندر سے خالی کیوں لگتا ہے؟ پیسہ ہے، گھر ہے، نوکری ہے، گاڑی ہے — مگر سکون نہیں۔ کھانا ہے، کپڑے ہیں، دوست ہیں — مگر اطمینان نہیں۔ سب کچھ ہے... پھر بھی کچھ نہیں ہے۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے گننا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے شکر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ کتاب اسی بھولے ہوئے سبق کی طرف واپسی کی کوشش ہے۔ میں نے یہ کتاب اس لیے لکھی کہ میں خود اس راستے سے گزری ہوں۔ میں نے خود محسوس کیا کہ جب میں نے شکایت کرنا چھوڑا اور شکر لکھنا شروع کیا تو میری زندگی بدلنے لگی۔ نہ کوئی جادو ہوا، نہ کوئی معجزہ — بس ایک سادہ سی عادت، اور ایک گہرا اثر۔ یہ کتاب نہ کوئی مذہبی وعظ ہے، نہ کوئی نفسیاتی مقالہ۔ یہ ایک دوست کی بات ہے — جو آپ سے کہہ رہی ہے: "ذرا رکو۔ ذرا دیکھو۔ جو تمہارے پاس ہے، وہ کسی کے پاس نہیں۔ اسے گنو۔ اسے لکھو۔ اس پر شکر کرو۔" اس کتاب میں سائنس بھی ہے، روحانیت بھی۔ دلیل بھی ہے، دعا بھی۔ تحقیق بھی ہے، تجربہ بھی۔ مگر سب سے اہم چیز — عم...

شکر لکھنا اور محسوس کرنا: کیوں اور کیسے؟

  باب 1 شکر لکھنا اور محسوس کرنا: کیوں اور کیسے؟ --- کیا آپ نے آخری بار دل سے شکر کیا تھا؟ نہ زبان سے۔ نہ عادتاً۔ بلکہ دل سے — جیسے اندر سے ایک لرزش اٹھی ہو، آنکھ بھر آئی ہو، اور آپ نے کہا ہو: "یا اللہ، تیرا شکر۔" یاد ہے؟ اگر یاد ہے، تو آپ جانتے ہیں شکر کیا چیز ہے۔ اگر یاد نہیں، تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔ آج ہم جانیں گے: · شکر لکھنا کیوں ضروری ہے؟ · شکر محسوس کرنا کیوں ضروری ہے؟ · اور دونوں کو کیسے جوڑیں؟ --- پہلا سوال: شکر لکھنا کیوں ضروری ہے؟ بہت لوگ کہتے ہیں: "شکر تو دل سے کرنا چاہیے، لکھنے کی کیا ضرورت؟" بات درست ہے — مگر ادھوری۔ دل سے شکر کرنا اچھی بات ہے۔ مگر دل بھول جاتا ہے۔ آپ نے خود محسوس کیا ہوگا: صبح شکر کیا، دوپہر تک بھول گئے۔ نعمت دیکھی، شام تک یاد نہ رہی۔ دل کی یادداشت کمزور ہوتی ہے۔ کاغذ کی یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔ اسی لیے لکھنا ضروری ہے۔ لکھنے سے کیا ہوتا ہے؟ 1. لکھنا توجہ مرکوز کرتا ہے۔ جب آپ لکھتے ہیں تو دماغ کو سوچنا پڑتا ہے: "کیا لکھوں؟" یہی سوچ — یہی توجہ — شکر کا اصل عمل ہے۔ 2. لکھنا یادداشت بناتا ہے۔ جو لکھا جاتا ہے، وہ بھولا نہیں جاتا۔ ...

باب 6: جرنلنگ کی مختلف اقسام — آپ کے لیے کون سی بہترین ہے؟

تصویر
باب 6: جرنلنگ کی مختلف اقسام — آپ کے لیے کون سی بہترین ہے؟ یہ سمجھیں: جس طرح ہر انسان کا مزاج، سوچ اور زندگی مختلف ہے، اسی طرح جرنلنگ کا طریقہ بھی ہر ایک کے لیے مختلف ہونا چاہیے۔ کسی کو تفصیل پسند ہے، کسی کو اختصار۔ کسی کو ترتیب پسند ہے، کسی کو بے ترتیبی۔ کسی کو الفاظ پسند ہیں، کسی کو تصاویر۔ اس باب میں ہم جرنلنگ کی سات مختلف اقسام پر تفصیل سے بات کریں گے۔ ہر قسم کی وضاحت، اس کے فوائد، اس کا طریقہ کار، اور سب سے اہم — یہ کس کے لیے بہترین ہے۔ --- 1. آزادانہ جرنلنگ (خیالات کی روانی) یہ جرنلنگ کی سب سے آسان اور سب سے قدیم شکل ہے۔ یہ کیا ہے؟ اس میں آپ بیٹھ جاتے ہیں، قلم اٹھاتے ہیں، اور جو کچھ ذہن میں آتا ہے، لکھتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی ترتیب نہیں۔ کوئی درست یا غلط نہیں۔ کوئی گرامر کی فکر نہیں۔ کوئی جملے کی ساخت نہیں۔ بس دماغ کو خالی کرنا ہے۔ جیسے کوئی ڈبہ ہو جسے آپ الٹ رہے ہوں۔ کیسے کریں؟ · ایک خالی صفحہ لیں۔ · قلم اٹھائیں۔ · جو پہلا خیال آئے، لکھنا شروع کریں۔ · اگر کوئی خیال نہ آئے تو لکھیں: "مجھے کچھ نہیں آ رہا، مجھے کچھ نہیں آ رہا..." — بس لکھتے رہیں۔ · 10 منٹ تک مسلسل لکھیں۔ · ق...

Journling kio or kese ki jay?

تصویر
  بہت عمدہ۔ آپ نے درست پکڑا۔ Journling kio or kese ki jay? تعارف: جب قلم اٹھانا ایک عادت بن جائے آج کے دور میں نوجوانوں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسکرینوں کے درمیان گزر رہا ہے۔ فون کی مسلسل نوٹیفکیشنز، سوشل میڈیا کی نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ، اور ہر وقت نئی معلومات کا ہجوم — یہ سب مل کر دماغ کو تھکا دیتے ہیں۔ اس سب کے باوجود، ایک پرانی چیز پھر سے لوگوں کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ قلم اور کاغذ۔ ہاں، آپ نے ٹھیک سنا۔ ان لاکھوں لائکس اور ریٹویٹس کے دور میں، ایک سادہ سی نوٹ بک اور قلم پھر سے مقبول ہو رہے ہیں۔ TikTok پر #JournalTok کے ہیش ٹیگ کے اربوں ویوز ہیں۔ نوٹ بک بنانے والی کمپنیوں کو اتنے آرڈرز آ رہے ہیں کہ وہ سنبھال نہیں پا رہیں۔ لیکن ایک بہت بڑا سوال ہے جو ہر نوجوان کے ذہن میں آتا ہے: "یہ جرنلنگ آخر ہے کیا چیز؟ کیا یہ وہی پرانی ڈائری ہے جو ہم بچپن میں لکھا کرتے تھے؟ یا اس میں کوئی اور بات ہے؟" یہ سوال اتنا اہم ہے کہ اس کا جواب جانے بغیر جرنلنگ شروع کرنا بے معنی ہے۔ آئیے سب سے پہلے اسی فرق کو سمجھتے ہیں، پھر باقی سب کچھ جان لیں گے۔ --- حصہ اول: جرنلنگ اور ڈائری — فرق جو آپ...

افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے

  افسانہ: تیسری قمیض سے پہلے قسط اول "ہر انسان کی زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت نہیں، اللہ کی حکمت بھرتی ہے۔" رات کے آخری پہر کا سناٹا ہمیشہ اسے اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ گھر کے تمام کمرے خاموش تھے، مگر اس کے دل میں ایک ہجوم آباد تھا۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اسے یوں محسوس ہوتی جیسے وقت اس کے زخم گن رہا ہو۔ کھڑکی سے باہر آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ کہیں دور بجلی چمکی، مگر بارش نہ ہوئی۔ بالکل اس کی زندگی کی طرح... شور بہت تھا، سکون کہیں نہیں تھا۔ زینب نے آہستہ سے الماری کھولی۔ اوپر والی شیلف پر رکھا قرآن مجید احتیاط سے اٹھایا، اسے چوما اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ آج اس کا ارادہ صرف تلاوت کا نہیں تھا۔ وہ جواب ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر کچھ لوگ زندگی بھر صرف آزمائشیں ہی کیوں دیکھتے ہیں؟ وہ برسوں سے یہ سوال اپنے رب سے کرتی آ رہی تھی۔ "یا اللہ! کیا ہر درد میرے ہی حصے میں لکھا تھا؟" جواب کبھی آواز میں نہیں آیا، مگر قرآن ہر بار کچھ نہ کچھ ضرور کہہ دیتا تھا۔ اس نے سورۂ یوسف کھولی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ وہ یہ سورت پڑھ رہی تھی۔ شاید پچاسویں یا سویں ...

افسانہ: میری نماز

افسانہ: میری نماز مغرب کی اذان کی آواز فضا میں پھیل رہی تھی۔ آسمان پر شام کی سرخی آہستہ آہستہ نیلگوں اندھیرے میں ڈھل رہی تھی۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے اور ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے برعکس مریم کے اندر ایک شور برپا تھا۔ وہ ابھی ابھی واک کرکے گھر واپس آئی تھی۔ عام دنوں میں واک کے بعد وہ خود کو ہلکا، تازہ دم اور پُرسکون محسوس کرتی تھی، لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ جسم میں تھکن نہیں تھی، مگر دل جیسے بے جان ہو گیا تھا۔ ذہن کسی کام میں لگنے کو تیار نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر کی ساری توانائی کسی نے اچانک کھینچ لی ہو۔ اذان ختم ہو چکی تھی۔ گھر میں ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی خاموشی سے وقت بتا رہی تھی۔ صحن میں رکھا گملوں کا پودا ہلکی ہوا میں جھول رہا تھا، مگر مریم کی نگاہیں ان سب چیزوں سے بے نیاز تھیں۔ "اٹھو... مغرب کا وقت ہو گیا ہے۔" اس نے خود ہی اپنے آپ سے کہا، مگر دل نے جواب دیا: "آج نہیں... ابھی نہیں... تھوڑی دیر بعد..." وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے محسوس کیا کہ اگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی تو وقت نکل جائے گا...

Kahaf ka ghar

تصویر
  کہف — ایک ایسا غار جو پہاڑوں میں نہیں، انسان کے اندر ہوتا ہے جمعہ کی اذان میں ایک عجیب کشش ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہفتے بھر کی گرد آسمان سے نہیں، انسان کے دل سے جھڑ رہی ہو۔ صبح کی ہوا میں ایک نرمی، روشنی میں ایک لطافت اور وقت میں ایک عجیب سی برکت محسوس ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے جمعہ کی صبح میرے لیے صرف ایک دن کا آغاز نہیں، بلکہ اپنے اندر واپس لوٹنے کا سفر ہوتی ہے۔ اس روز دنیا کی آوازیں دھیمی لگنے لگتی ہیں اور قرآن کی آواز دل کے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے۔ میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کی کہانیاں سنی ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں جدائی تھی، کسی کی آواز میں خوف، کسی کے لہجے میں برسوں کی تھکن، اور کسی کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ جو صرف دوسروں کے لیے تھی، اپنے لیے نہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ آخر انسان اتنا تھک کیوں جاتا ہے؟ آخر کون سا بوجھ ہے جو کندھوں پر نہیں، دل پر رکھا جاتا ہے؟ پھر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ انسان کو جسمانی محنت اتنا نہیں تھکاتی، جتنا روح کی مسلسل جنگ تھکا دیتی ہے۔ جب ہر روز کسی کی تلخ بات برداشت کرنی پڑے... جب ہر لمحہ اپنے وجود کو ثابت کرنا پڑے... جب ہر تعلق میں خود ک...

ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا

تصویر
  ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ مغرب کی اذان ہو چکی تھی، مگر گھر کے اندر چراغ ابھی تک نہیں جلا تھا۔ حارث چارپائی کے کنارے بیٹھا تھا۔ سامنے چند کاغذ بکھرے ہوئے تھے۔ کسی پر قرض کی رقم لکھی تھی، کسی پر دوا کا خرچ، اور ایک کاغذ پر صرف ایک لفظ تھا: "نامنظور" آج پورا دن وہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پھرتا رہا تھا۔ کسی نے کہا، "ابھی میرے حالات بھی اچھے نہیں۔" کسی نے نظریں چرا لیں۔ کسی نے وعدہ کیا، مگر وعدہ بھی شام تک ٹوٹ گیا۔ وہ تھکے قدموں سے گھر لوٹا تو یوں محسوس ہوا جیسے سارا شہر اس کے لیے تنگ ہو گیا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر طاق پر رکھے قرآن مجید پر پڑی۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر آہستہ سے قرآن اٹھایا۔ صفحات پلٹتے پلٹتے اس کی نگاہ ایک آیت پر ٹھہر گئی۔ ﴿وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۖ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا﴾ وہ دیر تک اسی آیت کو دیکھتا رہا۔ اچانک اسے اصحابِ کہف یاد آ گئے۔ وہ بھی تو ایک پناہ کی تلاش میں نکلے تھے۔ اللہ نے انہیں ا...

مصحف سے پہلے

تصویر
 ‎ ‎ ‎پیش لفظ ‎ ‎یہ کتاب کسی بڑے دعوے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ ‎نہ میں مفسر ہوں، نہ محدث، نہ رات دن کی محنت کرنے والی عالم۔ ‎میں بس ایک سیاح ہوں — اس وادی کی سیاح جہاں دور دور تک نور کے پہاڑ تھے، اور میں نے ان کے سائے میں بیٹھ کر اپنی بے تعلقی کا احساس کیا۔ ‎ہم عجمی۔ ‎ہماری نسلوں نے قرآن کو تلاوت تو کر لیا، بلکہ کھانے پکانے والی آوازوں میں بھی اس کی آیات گونجیں۔ لیکن افسوس! جب تعلق کی بات آئی، تو ہم صدیوں سے قرآن کے صحن میں کھڑے مسافر ہیں، جس کے اندر کبھی داخلہ نہیں ملا۔ ‎رسم و رواج میں ہم نے مصحف کو عزت دی، لیکن وہ لذت، وہ وجد، وہ رقت جو نبی علیہ السلام کے جگر پر وحی کے اترتے ہی طاری ہو جاتی تھی — وہ ہمارے حصے میں کب آئی؟ ‎ ‎جب میں نے غور کیا تو ایک ایک کر کے پردے اٹھتے گئے۔ ‎لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا تک کا ایک سفر تھا۔ ‎آسمانِ دنیا سے قلبِ نبی ﷺ تک کا ایک اور سفر تھا۔ ‎قلبِ نبی سے صحفِ صدیقی تک کا سفر۔ ‎پھر صحف سے مصحفِ عثمانی تک۔ ‎مصحفِ عثمانی سے اعراب و نقاط تک۔ ‎اور پھر ہمارے ہاتھوں میں یہ پرنٹ شدہ، ڈیجیٹل، یکساں، سادہ سا مصحف — جسے ہم بے زحمت کھول کر پڑھتے ہیں۔ ‎ ‎یہی وہ مقام ہے...

افسانہ: خاموش جنگل کی گونج

تصویر
  افسانہ: خاموش جنگل کی گونج آنکھیں بند تھیں، اور سانسیں آہستہ آہستہ جیسے کسی پوشیدہ تال پر چل رہی تھیں۔ باہر کی دنیا پیچھے رہ گئی تھی، اور اندر ایک اور ہی کائنات کھل رہی تھی—لفظوں کی کائنات، احساسات کی کائنات، اور ایک ایسی خاموشی جو شور سے زیادہ بولتی تھی۔ ذہن کی راہداریوں میں چمکتے ہوئے لفظ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ وہ آگے آگے دوڑ رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے پیچھے کسی انجانی سی کیفیت میں چلتی چلی جا رہی تھی۔ جیسے کوئی مجھے بلائے بھی نہیں اور میں پھر بھی اس آواز کے پیچھے چل پڑوں۔ پھر اچانک وہ راستہ بدل گیا۔ لفظوں کی روشنی ایک گھنے جنگل میں جا گری۔ ایسا جنگل جو خوبصورت بھی تھا اور پراسرار بھی۔ درخت اونچے تھے، مگر ان کی چھاؤں میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ ہوا ٹھہری ہوئی تھی، جیسے کسی بڑی خبر کے انتظار میں ہو۔ اور اسی جنگل کے درمیان وہ الفاظ کھڑے تھے… “فَأَجَآءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ…” میں رک گئی۔ یہ کوئی عام جملہ نہیں تھا۔ یہ تو جیسے وقت کے سینے سے نکلتا ہوا ایک درد تھا، جو صدیوں سے سانس لے رہا تھا۔ ہر لفظ ایک کہانی تھا، اور ہر کہانی کے اندر ایک ...