مصحف سے پہلے
پیش لفظ
یہ کتاب کسی بڑے دعوے کے لیے نہیں لکھی گئی۔
نہ میں مفسر ہوں، نہ محدث، نہ رات دن کی محنت کرنے والی عالم۔
میں بس ایک سیاح ہوں — اس وادی کی سیاح جہاں دور دور تک نور کے پہاڑ تھے، اور میں نے ان کے سائے میں بیٹھ کر اپنی بے تعلقی کا احساس کیا۔
ہم عجمی۔
ہماری نسلوں نے قرآن کو تلاوت تو کر لیا، بلکہ کھانے پکانے والی آوازوں میں بھی اس کی آیات گونجیں۔ لیکن افسوس! جب تعلق کی بات آئی، تو ہم صدیوں سے قرآن کے صحن میں کھڑے مسافر ہیں، جس کے اندر کبھی داخلہ نہیں ملا۔
رسم و رواج میں ہم نے مصحف کو عزت دی، لیکن وہ لذت، وہ وجد، وہ رقت جو نبی علیہ السلام کے جگر پر وحی کے اترتے ہی طاری ہو جاتی تھی — وہ ہمارے حصے میں کب آئی؟
جب میں نے غور کیا تو ایک ایک کر کے پردے اٹھتے گئے۔
لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا تک کا ایک سفر تھا۔
آسمانِ دنیا سے قلبِ نبی ﷺ تک کا ایک اور سفر تھا۔
قلبِ نبی سے صحفِ صدیقی تک کا سفر۔
پھر صحف سے مصحفِ عثمانی تک۔
مصحفِ عثمانی سے اعراب و نقاط تک۔
اور پھر ہمارے ہاتھوں میں یہ پرنٹ شدہ، ڈیجیٹل، یکساں، سادہ سا مصحف — جسے ہم بے زحمت کھول کر پڑھتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہم بھول گئے کہ اس ایک مصحف تک پہنچنے میں کتنے پسینے بہے۔
نبی کے پسینے، صحابہ کی پریشانیاں، تابعین کی راتیں، شاہ ولی اللہ کی تھکاوٹ، اور پھر کمپیوٹر کے پردے پر ٹائپ ہوتے حروف کی خاموش محنت۔
"مصحف سے پہلے" اس سفر کی ڈائری ہے۔
اس کتاب میں نہ کوئی فتویٰ ہے، نہ کوئی پیچیدہ گرہ کھولنے کا دعویٰ۔
بس ایک عجمی عورت کی کوشش ہے — اپنے بچوں کو، اور خود کو — یہ بتانے کی کہ جب تم مصحف کھولو، تو صرف پڑھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک کر سوچو:
یہ کلام تم تک کیسے پہنچا؟
اور پھر شاید، شاید اس لمحے تمہارا قرآن سے رسمی تعلق — تعلق بن جائے۔
یہی وہ خواب تھا جو اب کتاب کی صورت میں تمہارے سامنے ہے۔
یہ رہی وہ کتاب۔
مصحف سے پہلے۔
---
مقدمہ
یہ کتاب میرے ایم فل مقالے کا حصہ نہیں۔
میرا تحقیقی موضوع کچھ اور تھا، میں نے وہ تحقیق سیکھنے کے لیے کی تھی، کسی درجے کے حصول کے لیے۔ لیکن جب میں نے تحقیق کا ڈھنگ سمجھ لیا، تو میرا دل کہیں اور لگ گیا۔
دل نے کہا — اب جو کچھ تو نے محسوس کیا ہے، اسے لکھ۔
تو میں نے سوچا، کیوں نہ قرآن کے اس سفر کو جو میں نے اپنی تحقیق کے دوران دیکھا — اپنی زبان میں، اپنے درد میں، اپنے انداز میں لکھ دوں؟
وہ سفر جس کا آغاز لوحِ محفوظ سے ہوا،
پھر وہ آسمانِ دنیا پر اترا،
پھر نبی کے دل پر اتر کر ان کا جسم کانپ اٹھا،
پھر وہ حروف صحف میں بدلے،
پھر وہ ایک مصحف میں جمع ہوئے،
پھر ان پر نقطے لگے، اعراب لگے،
پھر وہ شاہ ولی اللہ کے ہاتھوں عجمیوں تک پہنچے،
پھر وہ ڈیجیٹل ہو گئے۔
یہ سفر کوئی مقالہ نہیں — یہ احساس ہے۔
اور افسوس کہ ہم عجمیوں نے اس احساس کو کھو دیا۔
ہمارا قرآن سے تعلق رسمی ہو کر رہ گیا۔
ہم مصحف کھولتے ہیں تو صرف پڑھتے ہیں، محسوس نہیں کرتے۔
ہم اپنے بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں تو ڈنڈے سے پڑھاتے ہیں، تعلق سے نہیں۔
یہ کتاب اسی بے تعلقی کے خلاف ایک بغاوت ہے۔
میں نے اس کتاب میں کوئی نیا مسئلہ حل نہیں کیا، کوئی نیا نظریہ پیش نہیں کیا۔
میں نے بس وہی کچھ لکھ دیا جو میں نے دل سے محسوس کیا — وہ کچھ جو میں نے تحقیق سیکھنے کے بعد سوچا تھا، پر لکھا نہیں تھا۔
تو یہ رہی وہ کتاب۔
مصحف سے پہلے۔
یہ کوئی تحقیقی مقالہ نہیں۔
یہ میرے دل کی ڈائری ہے۔
اور اگر یہ پڑھ کر آپ کے دل میں بھی کوئی حرکت ہو جائے تو سمجھ لیجیے، یہ کتاب کامیاب ہو گئی۔
---
آپ کے متن میں جذبہ، درد اور دعوتِ فکر موجود ہے، لیکن ایک اسلامی اسکالر اور پروفیشنل اردو کانٹینٹ رائٹر کی حیثیت سے چند مقامات پر علمی احتیاط ضروری ہے۔
پہلا باب
لوحِ محفوظ سے قلبِ نبوی ﷺ تک — پہلا رابطہ
وہ کون سا لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ کا یہ مقدس کلام لوحِ محفوظ میں محفوظ تھا، جہاں تک کسی انسان کی رسائی کا تصور بھی ممکن نہیں؟ جب بھی میں مصحف کھولتی ہوں تو میرے دل میں یہی سوال ابھرتا ہے کہ یہ کوئی ایسی کتاب نہیں جو کسی مصنف نے لکھی ہو یا کسی لائبریری میں مرتب ہوئی ہو۔ یہ تو ایک ایسا نور ہے جس کا آغاز لوحِ محفوظ سے ہوا اور جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق انسانیت کی ہدایت کے لیے زمین تک پہنچا۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں نے پہلی مرتبہ قرآن مجید کے نزول کے مراحل پر باقاعدہ تحقیق شروع کی۔ اس سے پہلے قرآن میرے لیے ایک مقدس کتاب تھا جسے میں ادب سے پڑھتی تھی، مگر اس سفر نے میرے سامنے ایک نئی دنیا کھول دی۔
میں اپنی میز پر بیٹھی کتابیں، تفاسیر اور نوٹس کھولے ان مراحل کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک میرے اندر ایک عجیب سی خاموشی اتر آئی۔ میں نے خود سے کہا:
"میں تو برسوں سے قرآن کے صحن میں کھڑی ہوں، مگر شاید ابھی تک اس کے دروازے سے اندر داخل ہی نہیں ہوئی۔"
یہ احساس اتنا گہرا تھا کہ کافی دیر تک میں کسی سطر پر نظر جما نہ سکی۔ سامنے رکھی کتابیں جیسے مجھے خاموشی سے دیکھ رہی تھیں اور میں اپنے ہی سوالوں میں گم تھی۔
پھر جب میں نے ان آیات اور احادیث کا مطالعہ کیا جن میں نزولِ قرآن کا ذکر ہے تو میرے دل میں اس سفر کی عظمت کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ قرآن مجید شبِ قدر میں آسمانِ دنیا پر اتارا گیا، پھر تقریباً تئیس برس کے عرصے میں حالات اور مواقع کے مطابق رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ ہر وحی اپنے ساتھ ہدایت، رحمت اور اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آتی تھی۔
مجھے احساس ہوا کہ ہم عجمی مسلمانوں نے اکثر قرآن کو صرف تلاوت تک محدود کر دیا ہے۔ ہم بچوں کو مخارج، تجوید اور حفظ تو سکھاتے ہیں، جو یقیناً نہایت اہم ہیں، لیکن شاید کم ہی انہیں یہ بتاتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں میں موجود یہ مصحف کن عظیم مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچا ہے۔
آج ہمارے ہاتھوں میں خوبصورت مطبوعہ اور ڈیجیٹل مصاحف موجود ہیں۔ ایک بٹن دبانے سے قرآن دنیا کے کسی بھی کونے میں پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ سہولت نے ہمیں اس عظیم امانت کی قدر کا احساس کم کر دیا ہے۔ ہم شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اس قرآن کی حفاظت کے لیے رسول اللہ ﷺ نے وحی کو پوری امانت کے ساتھ امت تک پہنچایا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے اپنے سینوں میں محفوظ کیا، اسے لکھا، جمع کیا، اور پھر ہر دور میں حفاظ، محدثین، قراء اور علماء نے اپنی زندگیاں اس کی حفاظت اور تعلیم کے لیے وقف کر دیں۔
اسی احساس نے اس کتاب کی بنیاد رکھی۔
میں کوئی مفسر یا محققِ کبیر نہیں ہوں۔ میں صرف ایک طالبۂ قرآن، ایک ماں اور ایک ایسی مسلمان عورت ہوں جو چاہتی ہے کہ جب کوئی اس مصحف کو کھولے تو اسے صرف کاغذ پر لکھی ہوئی سیاہی نہ دکھائی دے، بلکہ وہ اس عظیم سفر کو بھی محسوس کرے جو لوحِ محفوظ سے شروع ہوا، قلبِ اطہرِ رسول اللہ ﷺ پر اترا اور پھر پوری امت تک پہنچا۔
اے میرے رب! اس سفر کے دوران جو محبت، حیرت اور شوق تو نے میرے دل میں پیدا کیا ہے، اس کا کچھ حصہ میرے قارئین کے دلوں میں بھی اتار دے۔ انہیں قرآن سے وہ تعلق عطا فرما جو محض رسم نہیں بلکہ زندگی کا نور بن جائے۔ اگر اس کتاب کے ذریعے ایک بھی دل قرآن کے قریب آ جائے تو میں اپنی اس محنت کو اپنے رب کے ہاں قبول شدہ سمجھوں گی۔
......
دوسرا باب: قلبِ نبوی ﷺ سے صحفِ صدیقی تک لفظوں کی حفاظت کا سفر
لوحِ محفوظ سے قلبِ نبوی ﷺ تک کا سفر ایک نورانی سفر تھا، مگر جب وحی کا یہ نور انسانی زبان اور تحریر میں منتقل ہونے لگا تو حفاظتِ قرآن کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ یہ صرف لکھنے کا عمل نہیں تھا بلکہ دینِ اسلام کی بنیادوں میں سے ایک عظیم امانت کی حفاظت تھی، جس کی نگرانی خود رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے۔
نزولِ وحی کے ابتدائی ایام میں رسول اللہ ﷺ وحی کے الفاظ جلدی جلدی دہراتے تھے تاکہ کوئی لفظ رہ نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾
"آپ اس (وحی) کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلائیے، اسے جمع کرنا اور آپ سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔" (سورۃ القیامۃ: 16-17)
پھر اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:
﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَى﴾
"ہم آپ کو ایسا پڑھائیں گے کہ آپ نہیں بھولیں گے۔" (سورۃ الاعلیٰ: 6)
یہ صرف ایک وعدہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی حفاظت کی پہلی ضمانت تھی۔
وحی نازل ہوتی تو رسول اللہ ﷺ فوراً کاتبینِ وحی کو بلاتے۔ وہ آپ ﷺ کی ہدایت کے مطابق ہر آیت کو اسی مقام پر لکھتے جہاں اللہ کے حکم سے اسے رکھا جانا تھا۔ قرآن کی ترتیب کسی انسان کی رائے سے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی میں طے ہوتی تھی۔
کبھی کھجور کی شاخیں، کبھی پتلے سفید پتھر، کبھی چمڑے کے ٹکڑے اور کبھی ہڈیوں کی چوڑی تختیاں… یہی اس وقت کے کاغذ تھے۔ ان سادہ وسائل پر لکھے جانے والے الفاظ دنیا کی سب سے عظیم امانت تھے۔
ان کاتبین میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔ ان کے لیے یہ محض لکھائی نہیں تھی بلکہ ربِ کائنات کے کلام کی خدمت تھی۔
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد امت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزری۔ قرآن مکمل طور پر محفوظ تھا؛ ہزاروں صحابہ اسے اپنے سینوں میں یاد کیے ہوئے تھے اور مختلف تحریری مواد پر بھی لکھا جا چکا تھا، مگر ابھی تک ایک ہی صحیفے میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔
پھر جنگِ یمامہ پیش آئی۔ اس معرکے میں حفاظِ قرآن کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ اگر اسی طرح حفاظ شہید ہوتے رہے تو کہیں امت کے لیے دشواری پیدا نہ ہو جائے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے قرآن کو ایک جگہ جمع کرنے کی درخواست کی۔
ابتدا میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ متردد تھے۔ وہ بار بار فرماتے تھے: "میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟"
لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کی اہمیت بیان کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا۔ یوں جمعِ قرآن کا وہ عظیم مرحلہ شروع ہوا جس نے آنے والی نسلوں کے لیے اللہ کے کلام کو ایک منظم صورت میں محفوظ کر دیا۔
اس عظیم ذمہ داری کے لیے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا گیا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر مجھے کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے منتقل کرنے کا حکم دیا جاتا تو وہ بھی اس ذمہ داری سے آسان معلوم ہوتا۔ اس ایک جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس امانت کی عظمت کو کس قدر محسوس کرتے تھے۔
انہوں نے نہایت احتیاط سے ہر آیت کو جمع کیا۔ تحریری نسخوں کی جانچ کی گئی، حفاظِ قرآن کی گواہیاں لی گئیں اور کسی چیز کو محض یادداشت کی بنیاد پر شامل نہیں کیا گیا۔ یہ ایسا کام تھا جس میں محبت بھی تھی، احتیاط بھی، تحقیق بھی اور اللہ کے خوف کا گہرا احساس بھی۔
جب میں اس دور کی تاریخ پڑھتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف صفحات کو اکٹھا کرنے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ اس تعلق کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے انسانیت کو عطا کیا تھا۔
قرآن سب سے پہلے کاغذ پر نہیں اترا تھا، دلوں میں اترا تھا۔ صحابۂ کرام کے سینے اس کے پہلے مصحف تھے۔ بعد میں وہی محفوظ کلام صحیفوں کی صورت میں جمع ہوا تاکہ قیامت تک آنے والی امت اسی امانت سے وابستہ رہے۔
آج ہمارے گھروں میں قرآن کے خوبصورت نسخے موجود ہیں۔ ہم انہیں احترام سے اونچی جگہ رکھتے ہیں، گر جائے تو اٹھا کر چوم لیتے ہیں، مگر اکثر اس کے پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔
کبھی خود سے یہ سوال ضرور کیجیے۔
جب آپ مصحف کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں، تو کیا آپ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وہ ذمہ داری یاد آتی ہے؟ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وہ دور اندیشی ذہن میں آتی ہے؟ کیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وہ احتیاط محسوس ہوتی ہے جس کے ساتھ انہوں نے ایک ایک آیت کو جمع کیا؟
یہ صرف ایک کتاب نہیں، نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک امانت ہے۔ ایسی امانت جس کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ، اپنے برگزیدہ صحابہ اور پوری امت کو ذریعہ بنایا۔
شاید اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہم قرآن کتنی بار پڑھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ قرآن ہمیں کتنی بار پڑھتا ہے، ہمیں بدلتا ہے اور ہماری زندگی میں اترتا ہے۔
.....
تیسرا باب: مصحفِ عثمانی اور نقطوں کا سفر — جب وحی کتابی صورت میں محفوظ ہوئی
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن مجید کو ایک مصحف کی صورت میں جمع کر دیا گیا تھا، مگر یہ نسخہ امت کی ایک مرکزی امانت کے طور پر محفوظ تھا۔ جیسے جیسے اسلام عرب سے باہر پھیلا، مختلف علاقوں میں قراءت کے انداز میں فطری اختلاف سامنے آنے لگا۔ یہ اختلاف متن کا نہیں تھا بلکہ تلفظ اور لہجوں کا تھا، جس کی بنیاد خود رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں موجود تھی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور اس تاریخ کا وہ مرحلہ ہے جہاں امت کو ایک بڑے علمی اور عملی چیلنج کا سامنا تھا۔ مختلف علاقوں کے نئے مسلمان جب قرآن پڑھتے تو بعض اوقات معمولی اختلافات کو اختلافِ معنی سمجھنے کا اندیشہ پیدا ہونے لگا۔ اسی فتنہ کو روکنے اور امت کو ایک منظم علمی بنیاد پر جمع رکھنے کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک تاریخی فیصلہ فرمایا۔
انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود مصحفِ صدیقی کو بنیاد بنا کر ایک معیاری نسخہ تیار کروایا۔ اس کام کی نگرانی جلیل القدر صحابہ نے کی جن میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سرِفہرست تھے۔ اس نسخے کو مختلف شہروں میں بھیجا گیا تاکہ امت ایک ہی رسم الخط پر متحد رہے۔ یہی نسخہ آج “مصحفِ عثمانی” اور “الرسم العثمانی” کی بنیاد کہلاتا ہے، جس پر آج بھی دنیا بھر کے قرآن مجید کے نسخے قائم ہیں۔
یہ فیصلہ صرف کتابت کا نہیں تھا بلکہ امت کی وحدت کا فیصلہ تھا۔ اس نے قرآن کو ہر قسم کے انتشار سے محفوظ کر دیا اور اسے ایک مضبوط علمی ڈھانچے میں محفوظ کر دیا۔
ابتدائی مصاحف میں عربی رسم الخط سادہ تھا۔ اس میں نہ نقطے تھے اور نہ اعراب۔ عرب اہلِ زبان ہونے کی وجہ سے سیاق و سباق سے درست پڑھ لیتے تھے، لیکن جیسے جیسے اسلام غیر عرب علاقوں میں پھیلا، قرآن کی درست قراءت کے تحفظ کے لیے مزید علمی اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی۔
یہاں ایک عظیم علمی مرحلہ شروع ہوتا ہے جسے نقطوں اور اعراب کا نظام کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد قرآن کو تبدیل کرنا نہیں تھا بلکہ اس کی اصل قراءت کو ہر زبان اور ہر نسل تک محفوظ طریقے سے پہنچانا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ کام حضرت ابو الاسود الدؤلی رحمہ اللہ نے شروع کیا، جنہوں نے اعراب کے ابتدائی اصول وضع کیے تاکہ زبر، زیر اور پیش کے ذریعے الفاظ کی درست ادائیگی ممکن ہو سکے۔ بعد کے ادوار میں حضرت نصر بن عاصم اور حضرت یحییٰ بن یعمر رحمہم اللہ جیسے اہلِ علم نے نقطوں کے نظام کو مزید منظم کیا، جس سے عربی رسم الخط زیادہ واضح اور محفوظ ہو گیا۔
یہ تمام علمی کاوشیں کسی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ حفاظتِ قرآن کے لیے تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ قرآن جیسا نازل ہوا تھا، ویسا ہی پڑھا اور سمجھا جاتا رہے، چاہے قاری عرب ہو یا غیر عرب۔
جب میں اس تاریخی سفر پر غور کرتی ہوں تو یہ بات بہت واضح محسوس ہوتی ہے کہ قرآن کی حفاظت صرف ایک فرد یا ایک دور کا کام نہیں تھا۔ یہ ایک مسلسل علمی امانت تھی جس میں ہر دور نے اپنا حصہ ڈالا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نقطوں اور اعراب نے قرآن کو آسان ضرور بنایا، لیکن اصل ذمہ داری کو ختم نہیں کیا۔ آسانی نے دروازہ کھولا، مگر تدبر اور سمجھنے کی محنت آج بھی ویسی ہی ضروری ہے جیسی پہلے تھی۔
آج جب ہم قرآنِ مجید کو خوبصورت طباعت، اعراب اور مکمل نظام کے ساتھ پڑھتے ہیں تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سہولت صدیوں کی علمی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک محفوظ روایت ہے جو نسل در نسل احتیاط، علم اور محبت کے ساتھ منتقل ہوئی ہے۔
یہ باب ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کی چیز نہیں بلکہ سمجھنے، جڑنے اور اپنی زندگی میں اتارنے کی امانت ہے۔ اصل کامیابی صرف صحیح پڑھنا نہیں بلکہ اس پیغام کو اپنی زندگی میں زندہ کرنا ہے جس کی حفاظت کے لیے اتنے عظیم فیصلے کیے گئے۔
.........
چوتھا باب: شاہ ولی اللہ کا ترجمہ اور عجمیوں کے لیے فہم کا دروازہ
برصغیر کی علمی تاریخ میں جب قرآن مجید کی فہم کا ذکر آتا ہے تو ایک نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔ ان کی علمی کاوشیں محض ترجمے تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کا مقصد قرآن کے معانی کو اس خطے کے عام و خاص تک قابلِ فہم بنانا تھا۔
قرآن مجید ہمیشہ سے پوری امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت کا سرچشمہ رہا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ جب اسلام عرب سے نکل کر عجمی خطوں میں پھیلا تو زبان کا فرق فہم میں ایک عملی رکاوٹ بن گیا۔ یہ رکاوٹ قرآن کی عظمت میں کمی نہیں تھی بلکہ انسان کی لسانی محدودیت کا نتیجہ تھی۔
اسی پس منظر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے قرآن مجید کا فارسی ترجمہ کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ طبقہ جو عربی زبان سے براہِ راست واقف نہیں تھا، وہ بھی اللہ کے کلام کے معانی تک رسائی حاصل کر سکے۔ یہ قدم ایک علمی ضرورت کے طور پر اٹھایا گیا، نہ کہ کسی نئے دینی تصور کے طور پر۔
اس دور میں ترجمے کے حوالے سے علمی حلقوں میں احتیاطی تحفظات بھی پائے جاتے تھے۔ بعض اہلِ علم اس بات پر زور دیتے تھے کہ قرآن کا اصل تقدس اس کے عربی متن میں ہے، اس لیے ترجمے کو اصل متن کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ اختلاف دراصل مقصد میں نہیں بلکہ طریقۂ فہم میں تھا۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اس علمی ضرورت کو محسوس کیا کہ اگر عجمی مسلمان قرآن کے معانی سے دور رہیں گے تو ان کا تعلق محض الفاظ تک محدود رہ جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے فہمِ قرآن کے دروازے کو مزید واضح اور منظم کرنے کی کوشش کی۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن مجید کبھی بھی کسی ایک قوم یا زبان کی ملکیت نہیں رہا۔ یہ آغاز سے ہی پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔ ترجمے کا عمل اس ہدایت کو محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ وسیع کرنے کے لیے تھا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے پیغام تک پہنچ سکیں۔
بعد کے ادوار میں اس علمی روایت کو مزید وسعت ملی۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی اور دیگر اہلِ علم نے اس فہم کو آگے بڑھایا، جس سے برصغیر میں قرآن فہمی کی ایک مضبوط علمی تحریک پیدا ہوئی۔
اگر اس پورے عمل کو ایک جملے میں سمجھا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کو تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ انسان کے فہم کو اس کے قریب لایا گیا۔ یہ ایک علمی پل تھا جو زبان اور معانی کے درمیان قائم کیا گیا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترجمہ محض معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی دعوت ہے۔ قرآن کا پیغام صرف جاننے کے لیے نہیں بلکہ جینے کے لیے نازل ہوا ہے۔
آج جب ہمارے پاس مختلف زبانوں میں قرآن کے تراجم موجود ہیں تو یہ سہولت دراصل اسی علمی روایت کا تسلسل ہے جس کی بنیاد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے اہلِ علم نے رکھی۔ لیکن اس سہولت کے ساتھ اصل ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھ جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم قرآن کو سمجھ سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس فہم کو اپنی زندگی میں نافذ کرتے ہیں یا نہیں۔ ترجمہ ایک دروازہ ہے، مگر اس دروازے سے داخل ہونا انسان کے اپنے ارادے پر منحصر ہے۔
یہ باب ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ قرآن ہمیشہ قریب تھا، مگر انسان کو اس کے قریب آنے کے لیے علمی رہنمائی کی ضرورت تھی۔ یہی رہنمائی تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی صورت میں جاری رہی ہے، اور آج بھی جاری ہے۔
.....
پانچواں باب: ڈیجیٹل دور اور ہم — ایک سکرین، ایک مصحف، اور ہمارا دل
ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، یہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد دور ہے۔ سہولت اور رفتار نے علم تک رسائی کو غیر معمولی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ آج قرآنِ مجید ہمارے موبائل فونز، کمپیوٹرز اور مختلف ایپلیکیشنز میں موجود ہے، اور ہم جب چاہیں تلاوت سن بھی سکتے ہیں اور پڑھ بھی سکتے ہیں۔
یہ سہولت اپنی جگہ ایک بڑی نعمت ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سہولت نے ہمارے دل کو قرآن کے قریب کیا ہے یا صرف ہمارے وقت کو آسان بنایا ہے؟
قرآن مجید کی اصل تاثیر اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑنے والے دل کی کیفیت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی آیت کسی کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہے اور کسی کے لیے محض الفاظ کی تلاوت رہ جاتی ہے۔
ڈیجیٹل مصحف نے قرآن کو ہر ہاتھ میں پہنچا دیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان کی توجہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ منتشر ہو گئی ہے۔ نوٹیفکیشنز، اسکرین کی تیزی اور مسلسل معلومات کے بہاؤ نے ہمارے غور و فکر کے وقت کو کم کر دیا ہے۔ مسئلہ سکرین نہیں بلکہ وہ انسانی رویہ ہے جو سہولت کو گہرے تعلق کی جگہ عادت میں بدل دیتا ہے۔
قرآن مجید کے ساتھ اصل مطلوب ادب، توجہ اور تدبر ہے۔ چاہے وہ مصحف ہو یا ڈیجیٹل اسکرین، اگر قاری کا دل حاضر نہیں تو مقصدِ تلاوت مکمل نہیں ہوتا۔ اور اگر دل حاضر ہو تو ذریعہ کبھی رکاوٹ نہیں بنتا۔
تاریخی طور پر بھی قرآن ہمیشہ مختلف ذرائع سے محفوظ اور منتقل ہوتا رہا ہے۔ کبھی کھجور کی چھال پر، کبھی چمڑے پر، کبھی مصاحف کی صورت میں، اور آج ڈیجیٹل صورت میں۔ لیکن اس کا اصل جوہر ہمیشہ وہی رہا ہے جو وحی کی صورت میں نازل ہوا۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل قرآن کوئی نیا قرآن نہیں بلکہ اسی محفوظ متن کی جدید صورت ہے۔ اصل ذمہ داری ہر دور میں انسان پر رہی ہے کہ وہ اس کلام کے ساتھ اپنے تعلق کو کس درجے میں لے جاتا ہے۔
میرا اپنا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ سہولت بعض اوقات توجہ کو کمزور کر دیتی ہے۔ لیکن اسی ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر نیت اور شعور درست ہو تو یہی سہولت تدبر اور سیکھنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
اسی لیے اصل سوال ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسان ہے۔ ہم قرآن کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، اور ہم اسے اپنی زندگی میں کس مقام پر رکھتے ہیں، یہی اصل امتحان ہے۔
مصحف ہو یا اسکرین، قرآن اپنی جگہ مکمل اور محفوظ ہے۔ فرق صرف اس دل کا ہے جو اسے پڑھ رہا ہے۔ اگر دل حاضر ہو تو ایک چھوٹا سا فون بھی انسان کو رب سے جوڑ دیتا ہے، اور اگر دل غافل ہو تو بڑے سے بڑا مصحف بھی محض ایک کتاب رہ جاتا ہے۔
یہ باب ہمیں اس شعور کی طرف واپس بلاتا ہے کہ قرآن کو صرف پڑھنا کافی نہیں، اسے سمجھنا، اس پر رکنا، اور اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں اتارنا اصل مقصد ہے۔
آخر میں اصل حقیقت یہی ہے کہ قرآن کی روشنی کسی اسکرین یا صفحے کی محتاج نہیں، وہ اس دل کی محتاج ہے جو اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔
.....
چھٹا باب: قرآن فہمی کی دستک — علمی قافلہ اور میرا ذاتی سفر
پاکستان میں قرآن فہمی کی بیداری کسی ایک فرد کی کوشش نہیں بلکہ ایک طویل علمی تسلسل کا حصہ ہے جس میں مختلف اہلِ علم نے اپنے اپنے انداز میں قرآن کے پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔
اس فکری سفر میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن نے عام قاری کے لیے قرآن کے معانی تک رسائی کو آسان بنایا۔ اسی طرح مولانا امین احسن اصلاحی کی تدبرِ قرآن نے قرآن کے اندرونی ربط اور نظم کو سمجھنے کی ایک نئی جہت فراہم کی۔ ان علمی کاوشوں نے برصغیر میں قرآن فہمی کو ایک باقاعدہ فکری تحریک کی شکل دی۔
اسی علمی سلسلے میں ڈاکٹر اسرار احمد کا نام بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے قرآن کے مفہوم کو عام فہم انداز میں بیان کرنے کی منظم کوشش کی، خاص طور پر تراویح کے دوران قرآن کے منتخب حصوں کی تشریح کے ذریعے عوامی سطح پر فہمِ قرآن کو فروغ دیا۔ ان کی کوششوں نے بہت سے لوگوں کے دلوں میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا شوق پیدا کیا۔
یہ تمام اہلِ علم ایک ہی طرزِ فکر کے نمائندے نہیں تھے، لیکن ان سب کا بنیادی مقصد ایک ہی تھا: قرآن مجید کو صرف تلاوت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے سمجھنے اور زندگی میں نافذ کرنے کی طرف رہنمائی کرنا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر فکری اور علمی تحریک کے ساتھ اختلافِ رائے بھی پیدا ہوتا ہے۔ بعض اہلِ علم نے ان اندازِ بیان یا طریقۂ تدریس سے علمی اختلاف کیا، جو کہ علمی روایت کا ایک فطری حصہ ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ان تمام کوششوں نے معاشرے میں قرآن فہمی کے رجحان کو مضبوط کیا۔
میرا ذاتی تجربہ بھی اسی سفر کا ایک حصہ ہے۔ جب میں نے قرآن فہمی کے مختلف دروس اور تراجم سے استفادہ کرنا شروع کیا تو میرے لیے یہ احساس بہت واضح ہوا کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ سمجھنے اور جینے کا پیغام ہے۔ گھر میں قرآن کے مفاہیم پر گفتگو نے میرے اندر اور میرے ماحول میں ایک نیا شعور پیدا کیا، جس نے تعلق کو محض تلاوت سے آگے بڑھا دیا۔
یہ باب اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ قرآن فہمی کسی ایک شخصیت یا ایک دور کی ملکیت نہیں بلکہ ایک مسلسل علمی جدوجہد ہے۔ ہر دور میں اہلِ علم نے اپنی استطاعت کے مطابق اس چراغ کو جلائے رکھا ہے تاکہ آنے والی نسلیں قرآن کے پیغام سے جڑی رہیں۔
آخر میں اصل بات یہی ہے کہ قرآن کو سمجھنے کی یہ کوششیں دراصل اسی امانت کا تسلسل ہیں جو نبی کریم ﷺ سے امت کو ملی۔ اختلافِ رائے کے باوجود مقصد ایک ہی رہا: قرآن کو قریب کرنا، سمجھانا اور زندگی میں اتارنا۔
......
اختتامیہ: سفر کا اگلا پڑاؤ — تلاوت سے تدبر تک
جب میں نے یہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی تو میرے ذہن میں کوئی بڑا دعویٰ یا کوئی حتمی بات ثابت کرنا نہیں تھا۔ میں بس ایک ایسی راہ پر چل رہی تھی جس میں قدم قدم پر قرآن کے ساتھ انسان کے تعلق کے مختلف منظر سامنے آتے گئے—لوحِ محفوظ کے تصور سے لے کر آج کی ڈیجیٹل اسکرین تک۔
اس پورے سفر میں میں نے خود کو دو طرح سے محسوس کیا۔ کبھی ایک ایسی طالبِ علم کی طرح جو ہر آیت کے سامنے ٹھہر جاتی ہے، اور کبھی ایک معلمہ کی طرح جو جو کچھ سمجھتی ہے، اسے آگے پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ دونوں کیفیتیں میرے لیے ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔
میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ قرآن کے ساتھ میرا تعلق صرف روایت کی پیروی نہ ہو بلکہ سمجھ بوجھ کے ساتھ ہو۔ شاید اسی لیے مجھے وہ سوالات زیادہ اہم لگتے ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کریں، نہ کہ صرف وہ جو عادتاً دہرا دیے جائیں۔ میرے نزدیک قرآن ایک ایسی ہدایت ہے جو ہر دور کے انسان سے بات کرتی ہے، بس فرق ہمارے سننے کے انداز کا ہوتا ہے۔
اسی سوچ کے ساتھ میں نے اپنی تدریس میں یہ کوشش کی کہ طالب علم قرآن کو صرف پڑھنے کی کتاب نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کریں۔ کیونکہ جب تک کوئی چیز دل میں نہ اترے، وہ صرف لفظ رہتی ہے، زندگی نہیں بنتی۔
اب جب یہ کتاب اپنے اختتام کے قریب ہے تو دل میں ایک ہی بات بار بار آتی ہے۔ مصحف ہمارے ہاتھ میں ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کی آواز ہمارے دل تک بھی پہنچ رہی ہے؟
ہم نے قرآن کے ساتھ احترام کا رشتہ تو ضرور رکھا ہے، لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ اس کے پیغام اور ہماری زندگی کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ یہ ڈائری اسی فاصلے کو سمجھنے کی ایک چھوٹی سی کوشش تھی۔
اگر اس کتاب نے آپ کو صرف ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ قرآن آپ کی زندگی میں کس جگہ کھڑا ہے، تو میں سمجھتی ہوں کہ یہ سفر بے مقصد نہیں رہا۔
آخر میں بات وہی ہے جس پر یہ سارا سفر ختم نہیں بلکہ شروع ہوتا ہے۔ تلاوت سے آگے بڑھ کر تدبر تک جانا، اور تدبر سے آگے عمل تک پہنچنا۔
مصحف سے پہلے — ایک سیاح کی ڈائری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں