ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا

 


ایک دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا

گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔

مغرب کی اذان ہو چکی تھی، مگر گھر کے اندر چراغ ابھی تک نہیں جلا تھا۔

حارث چارپائی کے کنارے بیٹھا تھا۔ سامنے چند کاغذ بکھرے ہوئے تھے۔ کسی پر قرض کی رقم لکھی تھی، کسی پر دوا کا خرچ، اور ایک کاغذ پر صرف ایک لفظ تھا:

"نامنظور"

آج پورا دن وہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پھرتا رہا تھا۔

کسی نے کہا، "ابھی میرے حالات بھی اچھے نہیں۔"

کسی نے نظریں چرا لیں۔

کسی نے وعدہ کیا، مگر وعدہ بھی شام تک ٹوٹ گیا۔

وہ تھکے قدموں سے گھر لوٹا تو یوں محسوس ہوا جیسے سارا شہر اس کے لیے تنگ ہو گیا ہو۔

گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر طاق پر رکھے قرآن مجید پر پڑی۔

وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر آہستہ سے قرآن اٹھایا۔

صفحات پلٹتے پلٹتے اس کی نگاہ ایک آیت پر ٹھہر گئی۔

﴿وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۖ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا﴾

وہ دیر تک اسی آیت کو دیکھتا رہا۔

اچانک اسے اصحابِ کہف یاد آ گئے۔

وہ بھی تو ایک پناہ کی تلاش میں نکلے تھے۔

اللہ نے انہیں ایک غار عطا کیا تھا۔

مگر غار ہمیشہ کے لیے نہیں تھا۔

وقت گزرا، وہ غار سے باہر آ گئے۔

حارث نے دوبارہ آیت پڑھی۔

جیسے کوئی آہستہ سے اس کے دل میں کہہ رہا ہو:

"غار ایک زمانے کے لیے تھا، مگر تمہارے لیے ایک ایسی پناہ بھیج دی گئی ہے جو قیامت تک باقی رہے گی۔"

اس نے قرآن اپنے سینے سے لگا لیا۔

باہر اندھیرا پہلے جیسا ہی تھا۔

قرض بھی ختم نہیں ہوا تھا۔

بیماری بھی باقی تھی۔

مگر اس کے اندر کا خوف آہستہ آہستہ پگھلنے لگا۔

اسے محسوس ہوا، وہ جن دروازوں پر سارا دن دستک دیتا رہا، وہ سب انسانوں کے دروازے تھے۔

اور انسانوں کے دروازے بند بھی ہو جاتے ہیں۔

لیکن ایک دروازہ ایسا ہے جس پر نہ تالہ لگتا ہے، نہ پہرہ۔

وہ اللہ کا دروازہ ہے۔

اور اس دروازے تک پہنچنے والی روشن راہ... قرآن ہے۔

شاید اسی لیے اصحابِ کہف کے واقعے کے فوراً بعد اللہ نے غار کی طرف نہیں، اپنی کتاب کی طرف متوجہ کیا۔

کیونکہ غار چند نوجوانوں کی پناہ تھا۔

مگر قرآن پوری امت کی پناہ ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

معوذتین

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity